🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
69. باب : الصلاة على المنافقين
باب: منافق کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1968
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قال: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ دُعِيَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , تُصَلِّي عَلَى ابْنِ أُبَيٍّ وَقَدْ قَالَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا أُعَدِّدُ عَلَيْهِ؟ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ" , فَلَمَّا أَكْثَرْتُ عَلَيْهِ , قَالَ:" إِنِّي قَدْ خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ، فَلَوْ عَلِمْتُ أَنِّي لَوْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ عَلَيْهَا"، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمْ يَمْكُثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَتَانِ مِنْ بَرَاءَةَ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ سورة التوبة آية 84 فَعَجِبْتُ بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی ابن سلول (منافقوں کا سردار) مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلائے گئے، تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑے ہوئے تو میں تیزی سے آپ کی طرف بڑھا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ابن ابی پر نماز جنازہ پڑھیں گے؟ حالانکہ فلاں دن وہ ایسا ایسا کہہ رہا تھا، میں اس کی تمام باتیں آپ پر گنانے لگا، تو آپ مسکرائے، اور فرمایا: اے عمر! ان باتوں کو جانے دو۔ جب میں نے کافی اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اختیار ہے (نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں) تو میں نے پڑھنا پسند کیا، اگر میں یہ جانتا کہ ستر بار سے زیادہ مغفرت چاہنے پر اس کی مغفرت ہو جائے گی تو میں اس سے زیادہ مغفرت کرتا ۱؎ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر لوٹے اور ابھی ذرا سا دم ہی لیا تھا کہ سورۃ برأت کی دونوں آیتیں نازل ہوئیں: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره إنهم كفروا باللہ ورسوله وماتوا وهم فاسقون» جب یہ مر جائیں تو تم ان میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو، اور نہ اس کی قبر پہ کھڑے ہو، اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے، اور گنہگار ہو کر مرے ہیں، بعد میں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپنی اس دن کی اس جرات پر حیرت ہوئی، اور اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں کہ یہ جرات میں نے کیوں کی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1968]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن ابی بن سلول (منافق) مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا جنازہ پڑھنے کے لیے بلایا گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جنازہ پڑھنے کے لیے) کھڑے ہو گئے، میں جلدی سے آپ کے سامنے جا کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ابن ابی کا جنازہ پڑھتے ہیں، حالانکہ اس نے فلاں فلاں دن ایسی ایسی باتیں کیں؟ میں (اس کی شرارتیں) شمار کرنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے، آخر فرمایا: عمر! ایک طرف ہٹ جاؤ۔ جب میں نے اپنی بات پر اصرار کیا تو آپ نے فرمایا: مجھے اختیار دیا گیا ہے (کہ استغفار کرو یا نہ کرو، اللہ مغفرت نہ کرے گا) تو میں نے استغفار کو اختیار کیا ہے۔ اگر مجھے علم ہوتا کہ میں ستر دفعہ سے زائد استغفار کروں تو اسے معافی ہو جائے گی تو میں یقیناً ستر دفعہ سے زائد بھی استغفار کر دیتا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ پڑھ دیا، پھر واپس تشریف لے گئے۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ سورۂ براءت کی دو آیتیں اتریں: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ ۖ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ﴾ [سورة التوبة: 84] اے نبی! ان منافقوں میں سے کوئی مر جائے تو ہرگز اس کا جنازہ نہ پڑھیں اور نہ ان کی قبر پر (دعائے مغفرت کے لیے) جائیں کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور پھر اسی انکار و فسق کی حالت میں فوت ہوئے۔ بعد میں مجھے اپنی اس جرأت پر، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی، بہت تعجب ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ علم رکھنے والے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1968]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 84 (1366)، وتفسیر التوبة 12 (4671)، سنن الترمذی/الجنائز/تفسیر التوبة (3097)، (تحفة الأشراف: 10509)، مسند احمد 1/16 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ستر بار سے زیادہ اس کی مغفرت کے لیے دعا کرتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد
Newعقيل بن خالد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← عقيل بن خالد الأيلي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥حجين بن المثنى اليمامي، أبو عمر
Newحجين بن المثنى اليمامي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الله المخرمي، أبو جعفر
Newمحمد بن عبد الله المخرمي ← حجين بن المثنى اليمامي
ثقة حافظ أمين
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1968 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1968
1968۔ اردو حاشیہ:
➊ اس حدیث کی تفہیم کے لیے مطالعہ فرمائیں فوائد حدیث: 1901۔ مزید باتیں درج ذیل ہیں۔
سلول اس کی ماں کا نام تھا۔ وہ معروف عورت تھی، اس لیے اس کی طرف بھی منسوب ہوتا تھا۔
جنازہ نہ پڑھیں یہاں منافق سے مراد وہ ہے جو اعتقادی منافق ہو، یعنی جو دل سے ایمان نہ لایا ہو، دل میں کفر ہو۔ صرف زبان سے (دھوکا دینے کے لیے) کلمہ پڑھا ہو۔ اور اس بات کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہو سکتا۔ الا یہ کہ اللہ تعالیٰ وحی نازل فرمائے اور یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ممکن تھا۔ آج ہم کسی کو منافق (اس معنی میں) نہیں کہہ سکتے۔ علامات نفاق پائے جانے سے کوئی آدمی اعتقادی منافق نہیں بن جاتا، عملی منافق بنتا ہے، یعنی دیکھنے میں منافقوں جیسا، حقیقت تواللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، لہٰذا اب ہر کلمہ گو مسلمان کا جنازہ پڑھ لیا جائے گا۔ علامات نفاق تو کسی حد تک ہر ایک میں پائی جاتی ہیں۔ واللہ أعلم۔
تعجب ہوا درال یہ جرأت بھی انہیں اللہ تعالیٰ ہی نے بخشی تھی ورنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے طور پر چوں بھی نہ کرتے تھے۔ کئی واقعات اس پر دال ہیں۔ اور اس جرأت میں بھی اللہ تعالیٰ کی بہت سی حکمتیں پوشیدہ تھیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1968]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1968 in Urdu