🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
74. باب : اجتماع جنازة صبي وامرأة
باب: بچہ اور عورت کے جنازے کو اکٹھا پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1979
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قال: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَمَّارٍ، قال:" حَضَرَتْ جَنَازَةُ صَبِيٍّ وَامْرَأَةٍ فَقُدِّمَ الصَّبِيُّ مِمَّا يَلِي الْقَوْمَ وَوُضِعَتِ الْمَرْأَةُ وَرَاءَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِمَا، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، فَسَأَلْتُهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَقَالُوا: السُّنَّةُ".
عمار رضی الله عنہ کہتے ہیں ایک بچہ اور ایک عورت کا جنازہ آیا، تو بچہ لوگوں سے متصل رکھا گیا، اور عورت اس کے پیچھے (قبلہ کی طرف) رکھی گئی، پھر ان دونوں کی نماز جنازہ پڑھی گئی، لوگوں میں ابو سعید خدری، ابن عباس، ابوقتادہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم (بھی) تھے، تو میں نے ان (لوگوں) سے اس کے متعلق سوال کیا، تو سبھوں نے کہا: یہی سنت (نبی کا طریقہ) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1979]
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ایک عورت اور ایک بچے کے جنازے اکٹھے ہو گئے تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے بچے کی میت کو لوگوں کی طرف آگے رکھا اور عورت کو اس کے پیچھے (یعنی قبلے کی طرف) رکھا اور دونوں کا جنازہ (بیک وقت) پڑھا، حاضرین میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو ان سب نے کہا کہ یہی مسنون طریقہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1979]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 56 (3193)، (تحفة الأشراف: 4261) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥الحارث بن ربعي السلمي، أبو قتادة
Newالحارث بن ربعي السلمي ← أبو هريرة الدوسي
صحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← الحارث بن ربعي السلمي
صحابي
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد
Newأبو سعيد الخدري ← عبد الله بن العباس القرشي
صحابي
👤←👥عمار بن ياسر العنسي، أبو اليقظان
Newعمار بن ياسر العنسي ← أبو سعيد الخدري
صحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عمار بن ياسر العنسي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥سعيد بن مقلاص الخزاعي، أبو يحيى
Newسعيد بن مقلاص الخزاعي ← يزيد بن قيس الأزدي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن يزيد العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد العدوي ← سعيد بن مقلاص الخزاعي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الله المقرئ، أبو يحيى
Newمحمد بن عبد الله المقرئ ← عبد الله بن يزيد العدوي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1979 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1979
1979۔ اردو حاشیہ: میت ایک سے زائد ہو تو ان کا جنازہ بیک وقت پڑھا جا سکتا ہے، خواہ وہ ایک صنف سے تعلق رکھتے ہوں یا مختلف اصناف سے، بچے ہوں یا بڑے، البتہ مردوں کو امام کے قریب رکھا جائے گا اور عورتوں کو مردوں سے پیچھے رکھا جائے گا۔ دعا عام میت والی پڑھ دی جائے تو سب کو کفایت کر جائے گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1979]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1979 in Urdu