سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : الفضل والجود في شهر رمضان
باب: ماہ رمضان میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی مہربانی اور جود و سخا کا بیان۔
حدیث نمبر: 2098
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَا لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَعْنَةٍ تُذْكَرُ، كَانَ إِذَا كَانَ قَرِيبَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام يُدَارِسُهُ، كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ حَدِيثُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، وَأَدْخَلَ هَذَا حَدِيثًا فِي حَدِيثٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی لعنت ایسی نہیں کی جسے ذکر کیا جائے، (اور) جب جبرائیل علیہ السلام کے آپ کو قرآن دور کرانے کا زمانہ آتا تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ فیاض ہوتے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ (روایت) غلط ہے، اور صحیح یونس بن یزید والی حدیث ہے (جو اوپر گزری) راوی نے اس حدیث میں ایک (دوسری) حدیث داخل کر دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2098]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16673)، مسند احمد 6/130 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥النعمان بن راشد الجزري، أبو إسحاق النعمان بن راشد الجزري ← محمد بن شهاب الزهري | ضعيف الحديث | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← النعمان بن راشد الجزري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥حفص بن عمر الأزدي، أبو عمر حفص بن عمر الأزدي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن إسماعيل البخاري، أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري ← حفص بن عمر الأزدي | جبل الحفظ وإمام الدنيا في فقه الحديث |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2098 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2098
اردو حاشہ:
: (1) امام صاحب کا مقصود یہ ہے کہ اس حدیث میں لعنت کا ذکر غلطی ہے بلکہ وہ ایک اور روایت ہے۔ راوی نے غلطی سے اس حدیث میں بھی لعنت والے الفاظ ذکر کر دیئے، یونس بن یزید کی روایت میں لعنت کا ذکر نہیں اور یہی درست ہے۔ (2)”قابل ذکر ہو“ مطلب یہ ہے کہ لعنت کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت نہ تھی۔ حقیقت یہی ہے کہ آپ نے شخصی طور پر کبھی کسی پر لعنت کی ہی نہیں۔ بعض انتہائی ناقابل برداشت لوگوں پر ان کی بری صفت ذکر کے لعنت کی ہے، مثلاً: [لَعَنَ اللّٰہُ السَّارِقَ یَسْرِقُ الْبَیْضَۃَ فَتُقْطَعُ یَدُہُ] (صحیح البخاری، الحدود، حدیث: 6783، وصحیح مسلم، الحدود، حدیث: 1687)
: (1) امام صاحب کا مقصود یہ ہے کہ اس حدیث میں لعنت کا ذکر غلطی ہے بلکہ وہ ایک اور روایت ہے۔ راوی نے غلطی سے اس حدیث میں بھی لعنت والے الفاظ ذکر کر دیئے، یونس بن یزید کی روایت میں لعنت کا ذکر نہیں اور یہی درست ہے۔ (2)”قابل ذکر ہو“ مطلب یہ ہے کہ لعنت کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت نہ تھی۔ حقیقت یہی ہے کہ آپ نے شخصی طور پر کبھی کسی پر لعنت کی ہی نہیں۔ بعض انتہائی ناقابل برداشت لوگوں پر ان کی بری صفت ذکر کے لعنت کی ہے، مثلاً: [لَعَنَ اللّٰہُ السَّارِقَ یَسْرِقُ الْبَیْضَۃَ فَتُقْطَعُ یَدُہُ] (صحیح البخاری، الحدود، حدیث: 6783، وصحیح مسلم، الحدود، حدیث: 1687)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2098]
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق