🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
97. باب : مولى القوم منهم
باب: لوگوں کا غلام بھی انہیں میں شمار ہو گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2613
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَرَادَ أَبُو رَافِعٍ أَنْ يَتْبَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا، وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ".
ابورافع رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ پر عامل مقرر فرمایا، تو ابورافع نے بھی اس کے ساتھ جانا چاہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ ہمارے لیے حلال نہیں ہے، لوگوں کا غلام بھی انہیں میں سے شمار ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة29 (1650)، سنن الترمذی/الزکاة25 (657)، (تحفة الأشراف: 2018)، مسند احمد (6/8، 10، 390) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابورافع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو رافع القبطي، أبو رافعصحابي
👤←👥عبيد الله بن أسلم المدني
Newعبيد الله بن أسلم المدني ← أبو رافع القبطي
ثقة
👤←👥الحكم بن عتيبة الكندي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عمر
Newالحكم بن عتيبة الكندي ← عبيد الله بن أسلم المدني
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← الحكم بن عتيبة الكندي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2613
الصدقة لا تحل لنا مولى القوم منهم
جامع الترمذي
657
الصدقة لا تحل لنا موالي القوم من أنفسهم
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2613 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2613
اردو حاشہ:
یہ ابو رافع رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے، بلکہ انھیں اس نسبت سے ہاشمی بھی کہہ دیا جاتا تھا۔ مذکورہ حدیث سے بھی تائید ہوتی ہے کہ کسی قوم کے آزاد کردہ غلام یا بھانجے کو ان کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے، اگرچہ وہ نسباً ان سے نہیں کیونکہ محض نسبت کے لیے اتنا تعلق بھی کافی ہے۔ ابو رافع کا زکاۃ کا اہل قرار نہ دینے سے بھانجے کے بارے میں امام نسائی رحمہ اللہ کے استنباط کو قوت پہنچتی ہے کیونکہ جب آزاد کردہ غلام بنو ہاشم کا حکم رکھتا ہے تو بھانجا کیوں نہ رکھے گا؟
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2613]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 657
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم، اہل بیت اور آپ کے موالی سب کے لیے زکاۃ لینے کی حرمت۔
ابورافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ کی وصولی پر بھیجا تو اس نے ابورافع سے کہا: تم میرے ساتھ چلو تاکہ تم بھی اس میں سے حصہ پاس کو، مگر انہوں نے کہا: نہیں، یہاں تک کہ میں جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں، چنانچہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر پوچھا تو آپ نے فرمایا: ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں، اور قوم کے موالی بھی قوم ہی میں سے ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 657]
اردو حاشہ:
1؎:
اس اصول کے تحت ابو رافع کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہوا کیونکہ ابو رافع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ تھے،
لہذا وہ بھی بنی ہاشم میں سے ہوئے اور بنی ہاشم کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے۔
بنی ہاشم،
بنی فاطمہ اور آل نبی کی طرف منسوب کرنے والے آج کتنے ہزار لوگ ہیں جو لوگوں سے زکاۃ و صدقات کا مال مانگ مانگ کر کھاتے ہیں،
اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم شاہ جی ہوتے ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 657]