سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب : حج الرجل عن المرأة
باب: عورت کی طرف سے مرد کے حج کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2644
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ، وَإِنْ حَمَلْتُهَا لَمْ تَسْتَمْسِكْ، وَإِنْ رَبَطْتُهَا خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟" قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" فَحُجَّ عَنْ أُمِّكَ".
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے تو آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں بہت بوڑھی ہو چکی ہیں، اگر میں انہیں سواری پر چڑھا دوں تو وہ بیٹھی نہیں رہ سکتیں، اور اگر میں انہیں (سواری پر بٹھا کر) باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں ان کی جان نہ لے بیٹھوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا خیال ہے اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے؟“ اس نے کہا: جی ہاں (میں ادا کرتا) آپ نے فرمایا: ”تو تم اپنی ماں کی جانب سے حج کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2644]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ حجۃ الوداع میں خثعم قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے۔ وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر فریضہ حج نے میرے والد کو بہت بڑھاپے کی حالت میں پایا ہے۔ وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے۔ اگر میں ان کی طرف سے حج کروں تو کیا ان کی طرف سے کفایت ہو جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اس عورت کو دیکھنے لگے (کیونکہ) وہ خوش شکل تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ پکڑ کر دوسری طرف پھیر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2644]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11044)، مسند احمد (1/212)، ویأعند المؤلف برقم: 5396، 5397 (شاذ) (سائل کا عورت ہونا ہی محفوظ بات ہے)»
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3252
| حجي عنه |
سنن ابن ماجه |
2909
| أدركت أبي شيخا كبيرا لا يستطيع أن يركب أفأحج عنه |
سنن النسائى الصغرى |
2644
| أرأيت لو كان على أمك دين أكنت قاضيه قال نعم حج عن أمك |
سنن النسائى الصغرى |
5391
| حجي عنه لو كان عليه دين قضيتيه |
سنن النسائى الصغرى |
5397
| حج عن أمك |
سنن النسائى الصغرى |
5398
| حج عن أبيك |
Sunan an-Nasa'i Hadith 2644 in Urdu
سليمان بن يسار الهلالي ← الفضل بن العباس الهاشمي