🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
174. باب : المشى بينهما
باب: صفا و مروہ کے درمیان عام چال چلنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2980
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ وذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ".
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر کو دیکھا … آگے راوی نے اسی طرح ذکر کیا ہے جو اوپر کی حدیث میں گزرا، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں (میں عام چال چل لوں یہی میرے لیے بہت ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2980]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7067)، مسند احمد (2/151) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الكريم بن مالك الجزري، أبو سعيد
Newعبد الكريم بن مالك الجزري ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة متقن
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عبد الكريم بن مالك الجزري
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← سفيان الثوري
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله
Newمحمد بن رافع القشيري ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2980 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2980
اردو حاشہ:
صفا اور مروہ کے درمیان نشیبی جگہ میں دوڑنا سنت ہے، فرض نہیں۔ جو آدمی طاقت نہ رکھے یا رش کی بنا پر دوڑنا ممکن نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بوڑھے ہونے کی وجہ سے دوڑنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اس لیے وہ دوڑنے کی جگہ چلا کرتے تھے۔ آج کل دوڑنے کی جگہ کو سبز ٹیوبوں کی مدد سے واضح کر دیا گیا ہے۔ ابتدا میں دوڑنے کی مخصوص وجہ تھی مگر بعد میں اسے مستقلاً طواف کا حصہ بنا دیا گیا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2980]