🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب : الاستنصار بالضعيف
باب: کمزور آدمی سے مدد چاہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3180
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ ظَنَّ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضَعِيفِهَا، بِدَعْوَتِهِمْ، وَصَلَاتِهِمْ، وَإِخْلَاصِهِمْ".
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہیں خیال ہوا کہ انہیں اپنے سوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر صحابہ پر فضیلت و برتری حاصل ہے ۱؎، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، صلاۃ اور اخلاص کی بدولت فرماتا ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3180]
حضرت مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ میرے والد محترم (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے سمجھا کہ شاید مجھے دوسرے صحابہ پر فضیلت حاصل ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کمزور لوگوں کی دعاؤں، نمازوں اور اخلاص کی وجہ سے اس امت کی مدد فرماتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3180]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 76 (2896)، (تحفة الأشراف: 3935)، مسند احمد (1/173) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: انہیں ایسا خیال شاید اپنی مالداری، بہادری، تیر اندازی اور زور آوری کی وجہ سے ہوا۔ ۲؎: اس لیے انہیں حقیر و کمزور نہ سمجھو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاقصحابي
👤←👥مصعب بن سعد الزهري، أبو زرارة
Newمصعب بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة
👤←👥طلحة بن مصرف الإيامي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newطلحة بن مصرف الإيامي ← مصعب بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥مسعر بن كدام العامري، أبو سلمة
Newمسعر بن كدام العامري ← طلحة بن مصرف الإيامي
ثقة ثبت
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← مسعر بن كدام العامري
ثقة
👤←👥عمر بن حفص النخعي، أبو حفص
Newعمر بن حفص النخعي ← حفص بن غياث النخعي
ثقة
👤←👥محمد بن إدريس الحنظلي، أبو حاتم
Newمحمد بن إدريس الحنظلي ← عمر بن حفص النخعي
أحد الحفاظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2896
هل تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم
سنن النسائى الصغرى
3180
ينصر الله هذه الأمة بضعيفها بدعوتهم وصلاتهم وإخلاصهم
المعجم الصغير للطبراني
993
وهل ترزقون وتنصرون إلا بضعفائكم
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3180 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3180
اردو حاشہ:
1) فضیلت حاصل ہے کیونکہ وہ اولین مسلما نوں میں سے تھے۔ وہ اپنے آپ کو ثُلُثُ الْأِسْلاَم (اسلام کا تیسرا حصہ) کہتے تھے‘ یعنی وہ تیسرے نمبر پر مسلمان ہوئے۔ (2)اس حدیث میں ضعیف سے مراد وہ نیک بزرگ لوگ ہیں جو جنگ میں حصہ لینے کی استطاعت نہیں رکھتے‘ جسمانی طور پر معذور یا ضعیف ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کی دعائیںمسلمانو ں کی فتح کا موجب بنتی ہیں‘ لہٰذا انہیں نکمے‘ بے کاریا حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3180]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2896
2896. حضرت مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ میرے والد بزرگوار حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کا خیال تھا کہ انھیں دوسرے (بہت سے) صحابہ کرام ؓ پر برتری حاصل ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری جو کچھ مدد کی جاتی ہے اور تمھیں جو رزق دیا جاتا ہے وہ تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2896]
حدیث حاشیہ:
قال ابن بطال تأویله أن الضعفاء أشد إخلاصا في الدعاء وأکثر خشوعا في العبادة لخلاء قلوبھم عن التعلق بزخرف الدنیا (فتح)
یعنی ضعفاء دعا کرتے وقت اخلاص میں بہت سخت ہوتے ہیں اور عبادت میں ان کا خشوع زیادہ ہوتا ہے اور ان کے دل دنیاوی زیب و زینت سے پاک ہوتے ہیں۔
اس لئے ضعیف لوگوں سے دعا کرانا بہت ہی موجب برکت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2896]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2896
2896. حضرت مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ میرے والد بزرگوار حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کا خیال تھا کہ انھیں دوسرے (بہت سے) صحابہ کرام ؓ پر برتری حاصل ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری جو کچھ مدد کی جاتی ہے اور تمھیں جو رزق دیا جاتا ہے وہ تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2896]
حدیث حاشیہ:

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو اپنی دولت مندی،شجاعت اور تیراندازی میں مہارت کی وجہ سے دل میں خیال آیا کہ وہ دوسروں سے برترہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں عاجزی اور تواضع اختیار کرنے کی ترغیب دی اور انھیں بتایا کہ انھی نیک فطرت اور پریشان حال لوگوں کی دعاؤں سے تمھیں مدد ملتی ہے اور انھی کی برکت سے تمھیں رزق میسر آتاہے کیونکہ ان کی عبادت میں اخلاص اور ان کی دعاؤں میں خشوع ہوتاہے، نیز دنیاوی زیب وزینت سے ان کے دل خالی ہوتے ہیں۔

امام بخاری ؒنے ثابت کیا ہے کہ ایک مجاہد اگراپنی بہادری کی وجہ سے اللہ کے ہاں مرتبہ حاصل کرتا ہے توایک کمزور و ناتواں اپنی مسکینی اور عاجزی کی بنا پراللہ کے ہاں مقام بنالیتا ہے۔
غالباً اسی وجہ سے میدان جنگ میں اترنے والےتمام مجاہدین مال غنیمت میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔
بہادراپنی بہادری کی وجہ سے اور کمزور اپنی مخلصانہ دعاؤں کی وجہ سے،اس لیے میدان جنگ میں کمزور لوگوں سے کامیابی کی دعا کرانا بہت ہی خیر و برکت کاباعث ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2896]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3180 in Urdu