🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب : الاستنصار بالضعيف
باب: کمزور آدمی سے مدد چاہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3181
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الدَّرْدَاءِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" ابْغُونِي الضَّعِيفَ، فَإِنَّكُمْ إِنَّمَا تُرْزَقُونَ، وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ".
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میرے لیے کمزور کو ڈھونڈو، کیونکہ تمہیں تمہارے کمزوروں کی دعاؤں کی وجہ سے روزی ملتی ہے، اور تمہاری مدد کی جاتی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3181]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 77 (2594)، سنن الترمذی/الجہاد 24 (1702)، (تحفة الأشراف: 10923)، مسند احمد (5/198) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لیے تم کمزوروں کا خیال رکھو تاکہ تمہیں ان کی دعائیں حاصل ہوتی رہیں، تمہیں روزی ملتی رہے اور اللہ کی طرف سے تمہاری مدد ہوتی رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عويمر بن مالك الأنصاري، أبو الدرداءصحابي
👤←👥جبير بن نفير الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجبير بن نفير الحضرمي ← عويمر بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥زيد بن أرطاة الفزاري
Newزيد بن أرطاة الفزاري ← جبير بن نفير الحضرمي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن يزيد الأزدي، أبو عتبة
Newعبد الرحمن بن يزيد الأزدي ← زيد بن أرطاة الفزاري
ثقة
👤←👥عمر بن عبد الواحد السلمي، أبو حفص
Newعمر بن عبد الواحد السلمي ← عبد الرحمن بن يزيد الأزدي
ثقة
👤←👥يحيى بن عثمان القرشي، أبو زكريا، أبو سليمان، أبو عمرو
Newيحيى بن عثمان القرشي ← عمر بن عبد الواحد السلمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3181
ابغوني الضعيف فإنكم إنما ترزقون وتنصرون بضعفائكم
جامع الترمذي
1702
ابغوني ضعفاءكم فإنما ترزقون وتنصرون بضعفائكم
سنن أبي داود
2594
ابغوني الضعفاء فإنما ترزقون وتنصرون بضعفائكم
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3181 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3181
اردو حاشہ:
اللہ تعالیٰ ان ضعفاء کو رزق دیناچاتا ہے اور ان کا بھلاکرنا چاہتاہے مگر چونکہ وہ تمہارے محتا ج ہیں‘ لہٰذا اللہ تعالیٰ انہیں رزق پہنچانے کے لیے تمہیں بھی رزق دے دیتا ہے اور ان کے بھلے کے لیے تمہاری مدد بھی کرتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3181]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2594
ضعیف اور بے کس لوگوں کے واسطہ سے مدد مانگنے کا بیان۔
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میرے لیے ضعیف اور کمزور لوگوں کو ڈھونڈو، کیونکہ تم اپنے کمزوروں کی وجہ سے رزق دیئے جاتے اور مدد کئے جاتے ہو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2594]
فوائد ومسائل:
ضعیف و بے کس اور نادارافراد اور دیگر مخلوق کی عبادت اور دعا میں اخلاص ہوتا ہے۔
وہ ریاکاری سے بالعموم بری ہوتے ہیں۔
تو ان کی عبادت دعا اور بے کسی کی برکت سے اللہ عزو جل دوسروں پر بھی رحم فرما دیتا ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2594]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1702
غریب اور مسکین مسلمانوں کی دعا کے ذریعہ مدد طلب کرنے کا بیان۔
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مجھے اپنے ضعیفوں اور کمزوروں میں تلاش کرو، اس لیے کہ تم اپنے ضعیفوں اور کمزوروں کی (دعاؤں کی برکت کی) وجہ سے رزق دیئے جاتے ہو اور تمہاری مدد کی جاتی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1702]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں مالدار لوگوں کے لیے نصیحت ہے کہ وہ اپنے سے کمتر درجے کے لوگوں کو حقیر نہ سمجھیں،
کیوں کہ انہیں دنیاوی اعتبار سے جو آسانیاں حاصل ہیں یہ کمزوروں کے باعث ہی ہیں،
یہ بھی معلوم ہواکہ ان کمزور مسلمانوں کی دعائیں بہت کام آتی ہیں،
یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول نے ان کمزور مسلمانوں کی دعا سے مدد طلب کرنے کو کہا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1702]