🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
76. باب : تحلة الخلوة
باب: پہلی ملاقات میں بیوی کو خلوت کا تحفہ (عطیہ) دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3377
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَلِيًّا، قَالَ:" تَزَوَّجْتُ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنِ بِي، قَالَ:" أَعْطِهَا شَيْئًا، قُلْتُ: مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ، قَالَ: فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ؟ قُلْتُ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ: فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے ملنے کا موقع عنایت فرمائیے۔ آپ نے فرمایا: اسے کچھ (تحفہ) دو، میں نے کہا: میرے پاس تو کچھ ہے نہیں، آپ نے فرمایا: تیری حطمی زرہ کہاں ہے؟ میں نے کہا: یہ تو میرے پاس ہے، آپ نے فرمایا: وہی اسے دے دو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3377]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو (کچھ دنوں کے بعد) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فاطمہ کی میرے گھر رخصتی فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کچھ دو۔ میں نے کہا: میرے پاس تو کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری حطمی زرہ کدھر گئی؟ میں نے کہا: وہ تو میرے پاس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہی اسے دے دو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10199) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
صحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← أيوب السختياني
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
👤←👥عمرو بن منصور النسائي، أبو سعيد
Newعمرو بن منصور النسائي ← هشام بن عبد الملك الباهلي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2126
أعطها درعك فأعطاها درعه ثم دخل بها
سنن أبي داود
2125
أعطها شيئا قال ما عندي شيء قال أين درعك الحطمية
سنن النسائى الصغرى
3377
أعطها شيئا قلت ما عندي من شيء قال فأين درعك الحطمية قلت هي عندي قال فأعطها إياه
سنن النسائى الصغرى
3378
أعطها شيئا قال ما عندي قال فأين درعك الحطمية
بلوغ المرام
883
أعطها شيئا
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3377 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3377
اردو حاشہ:
(1) امام نسائی رحمہ اللہ کی تبویب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذکورہ زرہ کو مہر سے الگ سمجھ رہے ہیں اور اسے رخصتی اور خلوت (علیحدگی) کا خصوصی تحفہ قرار دیتے ہیں جب کہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ مہر ہی ہے جو نکاح کی بجائے رخصتی کے موقع پر دیا گیا۔ واللہ أعلم۔
(2) حطمی زرہ بعض نے اہل علم نے کہا کہ حُطَمِیَّہ‘ زرہ کی صفت ہے‘ یعنی توڑ دینے والی اور اس سے مراد ہے تلواروں‘ نیزوں اور تیروں کو توڑ دینے والی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھلی اور بھاری زرہ کو حُطَمِیَّہ‘ کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حُطَمِیَّہ‘ قبیلئہ عبدالقیس کی ایک شاخ حطم بن محارب کی طرف منسوب ہے جس کے باشندے یہ زرہیں بناتے تھے۔ اور یہی قول زیادہ معتبر ہے۔ واللہ أعلم۔ دیکھیے: (النھایة فی غریب الحدیث: 1/402)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3377]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 883
حق مہر کا بیان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کچھ دو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے؟ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 883»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، باب في الرجل يدخل بامرأته قبل أن ينقدها شيئًا، حديث:2125، والنسائي، النكاح، حديث:3377، والحاكم: لم أجده، وابن حبان (الإحسان):9 /50.»
تشریح:
1. اس حدیث سے مسئلۂ مہر کے علاوہ یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ماکان وما یکون حاصل نہیں تھا‘ اسی لیے آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت فرما رہے تھے کہ تمھاری حطمی زرہ کہاں ہے؟ ورنہ یوں فرماتے کہ تمھاری حطمی زرہ جو فلاں مقام پر تم نے رکھی ہوئی ہے وہ لا کر دے دو۔
2.یہ بھی معلوم ہوا کہ سسر حق مہر کا مطالبہ کر سکتا ہے‘ البتہ داماد سے وہی چیز طلب کی جائے جو اس کے پاس ہو۔
ایسی چیز کا تقاضا و مطالبہ نہ کیا جائے جو اس کے بس میں نہ ہو۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 883]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3377 in Urdu