🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب : أمرك بيدك
باب: شوہر عورت سے کہے تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3439
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَيُّوبَ: هَلْ عَلِمْتَ أَحَدًا، قَالَ فِي أَمْرِكِ بِيَدِكِ، أَنَّهَا ثَلَاثٌ غَيْرَ الْحَسَنِ؟ فَقَالَ: لَا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ غَفْرًا، إِلَّا مَا حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى ابْنِ سَمُرَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثٌ" , فَلَقِيتُ كَثِيرًا، فَسَأَلْتُهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ، فَرَجَعْتُ إِلَى قَتَادَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: نَسِيَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.
حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے کہا: کیا آپ حسن کے سوا کسی کو جانتے ہیں؟ جو «أمرک بیدک» کہنے سے تین طلاقیں لاگو کرتا ہو؟ انہوں نے کہا نہیں (میں کسی کو بھی نہیں جانتا) پھر انہوں نے کہا: اللہ انہیں بخش دے اب رہی قتادہ کی حدیث جو انہوں نے مجھ سے کثیر مولی ابن سمرۃ سے روایت کی ہے اور کثیر نے ابوسلمہ سے انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تین طلاقیں ہوتی ہیں تو (اس کا حال یہ ہے کہ) میری ملاقات کثیر سے ہوئی میں نے ان سے (اس حدیث کے متعلق) پوچھا تو انہوں نے اسے پہچانا ہی نہیں (کہ میں نے ایسی کوئی روایت کی ہے) میں لوٹ کر قتادہ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی (کہ وہ ایسا کہتے ہیں) تو قتادہ نے کہا کہ وہ بھول گئے (انہوں نے ایسی بات کہی ہے)۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3439]
حضرت حماد بن زید رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے ایوب رحمہ اللہ سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ کسی نے «أَمْرُكِ بِيَدِكِ» تیرا معاملہ تیرے اختیار میں ہے کہنے کی صورت میں اسے تین طلاق کہا ہو؟ سوائے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے؟ انہوں نے کہا: نہیں، پھر کہنے لگے: یا اللہ! معاف فرمانا۔ (ہاں) مگر وہ حدیث جو مجھے قتادہ رحمہ اللہ نے کثیر مولیٰ ابن سمرہ کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ الفاظ کہنا) تین طلاقیں ہیں۔ (حضرت حماد رحمہ اللہ نے کہا:) میں کثیر سے ملا اور ان سے حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس حدیث سے لاعلمی ظاہر کی، پھر میں حضرت قتادہ رحمہ اللہ کے پاس گیا اور ان سے پوری بات ذکر کی تو انہوں نے کہا: کثیر بھول گئے۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق13 (2204، 2205) مختصرا، سنن الترمذی/الطلاق 3 (1178)، (تحفة الأشراف: 14992) (مرفوعا ضعیف، موقوفا صحیح) (مرفوع کی سند میں ”کثیر“ لین الحدیث ہیں، اور قتادہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اس لیے مرفوع حدیث ضعیف ہے، اور مؤلف نے بھی حدیث کو منکر کہا ہے، لیکن حسن کے قول کی سند صحیح ہے، اس لیے اثر موقوفا صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2204،2205) ترمذي (1178) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 347
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥كثير بن أبي كثير القرشي
Newكثير بن أبي كثير القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← كثير بن أبي كثير القرشي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة إمام حافظ
👤←👥علي بن نصر الصغير، أبو الحسن
Newعلي بن نصر الصغير ← سليمان بن حرب الواشحي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1178
أمرك بيدك إنها ثلاث
سنن النسائى الصغرى
3439
أمرك بيدك أنها ثلاث
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3439 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3439
اردو حاشہ:
(1) امام نسائی بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے‘ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ مقطوعاً صحیح ثابت ہے‘ یعنی حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے‘ مرفوعاً یا موقوفاً صحیح ثابت نہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (ضعیف سنن أبي داود (مفصل) للألباني: 10/234‘ رقم: 379)
(2) خاوند بیوی سے [أَمْرِكُ بِيَدِكِ] کہہ دے‘ یعنی تجھے طلاق لینے کا اختیار ہے‘ چاہے تو لے لے۔ عورت کہے کہ میں نے طلاق لے لی تو کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟ بعض حضرات تین کے قائل ہیں‘ یعنی وہ عورت اس سے مستقلاً جدا ہوجائے گی۔ لیکن جمہور اہل علم کے نزدیک اس عورت کو ایک طلاق واقع ہوگی کیونکہ لفظ طلاق سے ایک ہی طلاق سمجھ میں آتی ہے‘ نیز بیک وقت تین طلاقیں تو بدعت ہیں۔ البتہ خاوند کو رجوع کا حق نہیں ہوگا۔ عدت کے بعد دونوں رضا مند ہوں تو نیا نکاح کرسکتے ہیں۔
(3) یا اللہ! معاف فرمانا یعنی مجھ سے غلطی ہوگئی اور میں نے جلد بازی میں نہیں کہہ دیا۔ اسی جلد باز کی معافی طلب کی ورنہ نسیان وخطا تو منجانب اللہ معاف ہیں ہی۔
(4) کثیر بھول گئے اگر کوئی راوی حدیث بیان کرنے کے بعد بھول جائے لیکن اس کا شاگرد جو وہ حدیث بیان کررہا ہے‘ ثقہ ہو اور بالیقین کہے تو روایت معتبر ہوگی۔ نسیان کا روایت کی صحت پر اثر نہیں پڑے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3439]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1178
بیوی سے تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے کہنے کا بیان۔
حماد بن زید کا بیان ہے کہ میں نے ایوب (سختیانی) سے پوچھا: کیا آپ حسن بصری کے علاوہ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں، جس نے «أمرك بيدك» کے سلسلہ میں کہا ہو کہ یہ تین طلاق ہے؟ انہوں نے کہا: حسن بصری کے۔ علاوہ مجھے کسی اور کا علم نہیں، پھر انہوں نے کہا: اللہ! معاف فرمائے۔ ہاں وہ روایت ہے جو مجھ سے قتادہ نے بسند «كثير مولى بني سمرة عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا: یہ تین طلاقیں ہیں۔‏‏‏‏ ایوب کہتے ہیں: پھر میں کثیر مولی بنی سمرہ سے ملا تو میں نے ان سے اس حد۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان/حدیث: 1178]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں کثیرلین الحدیث ہیں مگر حسن کا قول صحیح ہے،
جس کی روایت ابوداود (برقم 2205) نے بھی کی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1178]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3439 in Urdu