🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب : القرعة في الولد إذا تنازعوا فيه وذكر الاختلاف على الشعبي فيه في حديث زيد بن أرقم
باب: کسی لڑکے کے نسبت کے بارے میں جھگڑا ہو جائے تو قرعہ اندازی کی جائے گی اور زید بن ارقم رضی الله عنہ کی حدیث میں شعبی کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3522
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ أَوْ ابْنِ أَبِي الْخَلِيلِ: أَنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ اشْتَرَكُوا فِي طُهْرٍ , قَالَ: أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا صَوَابٌ، وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ میں نے شعبی کو ابوالخیل سے یا ابن ابی الخیل سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ تین آدمی (ایک عورت سے) ایک ہی طہر میں (جماع کرنے میں) شریک ہوئے۔ انہوں نے حدیث کو اسی طرح بیان کیا (جیسا کہ اوپر بیان ہوئی) لیکن زید بن ارقم کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی حدیث کو مرفوع روایت کیا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہی صحیح ہے، واللہ أعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3519 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن الخليل الحضرمي، أبو الخليلمقبول
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← عبد الله بن الخليل الحضرمي
ثقة
👤←👥سلمة بن كهيل الحضرمي، أبو يحيى
Newسلمة بن كهيل الحضرمي ← عامر الشعبي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سلمة بن كهيل الحضرمي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3522 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3522
اردو حاشہ:
اس روایت میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں اور نہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ کے فرمان کے مطابق یہی درست ہے کیونکہ سلمہ بن کہیل باقی (تینوں) سے اوثق ہے‘ لہٰذا ان (تینوں) کی روایت درست نہیں لیکن راجح بات یہ ہے کہ یہ روایت مرفوع اور متصل ہوتی ہے۔ اوثق راوی کی مخالفت کا اعتبار تب ہوتا ہے جب کوئی وجہ اختلاف بھی ہو لیکن یہاں کوئی وجہ اختلاف سمجھ میں نہیں آتی‘ اس لیے صالح ہمدانی کی روایت بھی صحیح ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3522]