یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. باب : عدة الحامل المتوفى عنها زوجها
باب: حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3547
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَاصِمٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا، وَأَبُو هُرَيْرَةَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَوَلَدَتْ لِأَدْنَى مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ مِنْ يَوْمِ مَاتَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: آخِرُ الْأَجَلَيْنِ، فقال أبو سلمة: فَقَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَوَلَدَتْ لِأَدْنَى مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَزَوَّجَ"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ (ایک روز) میں اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے، اتنے میں ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی: وہ حمل سے تھی کہ اسی دوران اس کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور اسے مرے ہوئے قریب چار مہینے ہوئے تھے کہ اس کے یہاں بچہ پیدا ہوا (اس کی عدت کیا ہو گی؟)۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جس کی مدت لمبی ہو گی وہی تمہاری عدت ہو گی، (یہ سن کر) ابوسلمہ نے کہا: مجھے ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے کہا: اس کا شوہر انتقال کر گیا، اس وقت وہ حاملہ تھی پھر اس نے قریب چار مہینے پر بچہ جنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شادی کر لینے کا حکم دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں اس مسئلہ میں گواہ ہوں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3547]
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے کہ ایک عورت آئی اور اس نے کہا: میرا خاوند فوت ہوا تو میں حاملہ تھی۔ میں نے اس کی وفات کے بعد چار ماہ (دس دن) پورے ہونے سے پہلے بچہ جن دیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ دونوں مدتوں میں سے آخری مدت پوری کرنی ہوگی۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص نے مجھے خبر دی کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میرا خاوند فوت ہو گیا، میں حاملہ تھی، میں نے چار ماہ (دس دن) سے پہلے بچہ جن دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکاح کرنے کی اجازت دے دی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی اس کی تائید کرتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15693) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گویا یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ وضع حمل سے اس کی عدت پوری ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 3547 in Urdu
اسم مبهم ← أبو هريرة الدوسي