یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. باب : عدة الحامل المتوفى عنها زوجها
باب: حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3548
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ: أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ، فَيَسْأَلَهَا حَدِيثَهَا، وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ , أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَتُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ، فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، فَقَالَ لَهَا: مَا لِي أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ، إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ سُبَيْعَةُ: فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ: جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَفْتَانِي:" بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي، وَأَمَرَنِي بِالتَّزْوِيجِ إِنْ بَدَا لِي".
عبیداللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ ان کے باپ عبداللہ (عبداللہ بن عتبہ) نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو خط لکھ کر حکم دیا کہ تم سبیعہ اسلمی بنت حارث رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان کا قصہ معلوم کرو اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کیا فرمایا تھا جس وقت انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، عمر بن عبداللہ نے (سبیعہ اسلمی سے ملاقات کر کے) عبیداللہ بن عتبہ کو باخبر کرتے ہوئے لکھا: سبیعہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ کی بیوی تھیں اور وہ (سعد) بنو عامر بن لوئی کے قبیلے سے تھے اور بدری بھی تھے، ان کا انتقال حجۃ الوداع میں ہوا اور اس وقت وہ حاملہ تھیں اور ان کی وفات کے بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر جب وہ نفاس سے فارغ ہو گئیں تو انہوں نے شادی کے پیغامات آنے کے خیال سے بناؤ سنگھار کیا (اور زیب و زینت کے ساتھ رہنے لگیں)، ان کے پاس قبیلہ بنو عبدالدار کے ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے کہا: کیا بات ہے میں تمہیں بنی سنوری دیکھتا ہوں، لگتا ہے تم شادی کرنا چاہ رہی ہو؟ قسم اللہ کی! تم اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتیں جب تک تم چار مہینے دس دن عدت کے پوری نہ کر لو۔ سبیعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب انہوں نے مجھے ایسی بات کہی تو شام کے وقت میں نے اپنے کپڑے لپیٹے و سمیٹے (اور اوڑھ پہن کر اور سلیقے سے ہو کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور آپ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ نے مجھے فتویٰ دیا کہ ”جس وقت میں نے بچہ جنا ہے اسی وقت سے میں حلال ہو چکی ہوں اور مجھے حکم دیا کہ میں شادی کر لوں اگر میرا جی چاہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3548]
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے حضرت عمر بن عبد اللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں اور ان سے ان کا واقعہ پوچھیں کہ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کیا جواب دیا تھا۔ تو حضرت عمر بن عبد اللہ نے حضرت عبد اللہ بن عتبہ کو لکھا کہ حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ وہ حضرت سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، وہ بنو عامر بن لؤی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اور جنگ بدر میں حاضر ہوئے تھے، حجۃ الوداع کے دوران ان کی وفات ہوگئی، اس وقت وہ حاملہ تھیں، ان کی وفات سے تھوڑا عرصہ بعد ہی انہوں نے بچہ جن دیا، جب وہ نفاس سے پاک ہوئیں تو انہوں نے شادی کا پیغام بھیجنے والوں کے لیے زیب و زینت کی، بنو عبد الدار کے ایک آدمی ابوسنابل بن بعکک ان کے پاس آئے تو کہنے لگے: ”کیا وجہ ہے کہ تو نے زیب و زینت کر رکھی ہے؟ شاید تو آگے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اللہ کی قسم! تو نکاح نہیں کر سکتی حتیٰ کہ چار ماہ دس دن گزر جائیں“۔ حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب انہوں نے مجھے یہ بات کہی تو شام کے وقت میں نے اپنے کپڑے پہنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فتویٰ دیا: ”جب تو نے بچہ جنا تو تیری عدت پوری ہوگئی تھی“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی مرضی کے مطابق نکاح کرنے کی اجازت دی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 10 (3991) تعلیقًا، الطلاق 39 (5319)، صحیح مسلم/الطلاق 8 (1484)، سنن ابی داود/الطلاق 47 (2306)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 7 (2027)، (تحفة الأشراف: 15890)، مسند احمد (6/432)، ویأتي برقم: 3549، 3550 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5319
| وضعت أن أنكح |
صحيح مسلم |
3722
| حللت حين وضعت حملي وأمرني بالتزوج إن بدا لي |
سنن أبي داود |
2306
| حللت حين وضعت حملي وأمرني بالتزويج إن بدا لي |
سنن النسائى الصغرى |
3549
| تنكح إذا وضعت حملها وكانت حبلى في تسعة أشهر حين توفي زوجها وكانت تحت سعد بن خولة فتوفي في حجة الوداع مع رسول الله فنكحت فتى من قومها حين وضعت ما في بطنها |
سنن النسائى الصغرى |
3550
| حللت حين وضعت حملك |
سنن النسائى الصغرى |
3548
| حللت حين وضعت حملي وأمرني بالتزويج إن بدا لي |
سنن ابن ماجه |
2028
| إن وجدت زوجا صالحا فتزوجي |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3548 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3548
اردو حاشہ:
”جب تو نے بچہ نجا“ گویا وضع حمل (بچہ پیدا ہونے) سے عدت پوری ہوجاتی ہے لیکن چونکہ عموماً نفاس کی حالت میں نکاح نہیں کیا جاتا‘ اس لیے بعض روایات میں ہے کہ ”جب تو پاک ہوجائے…الخ“ ورنہ نفاس عدت میں شامل نہیں۔
”جب تو نے بچہ نجا“ گویا وضع حمل (بچہ پیدا ہونے) سے عدت پوری ہوجاتی ہے لیکن چونکہ عموماً نفاس کی حالت میں نکاح نہیں کیا جاتا‘ اس لیے بعض روایات میں ہے کہ ”جب تو پاک ہوجائے…الخ“ ورنہ نفاس عدت میں شامل نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3548]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3550
حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عتبہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ تم سبیعہ بنت الحارث اسلمی رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حمل کے سلسلے میں انہیں کیا فتویٰ دیا تھا؟ عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں (اس خط کے بعد) عمر بن عبداللہ نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان سے پوچھا تو انہوں نے انہیں بتایا کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں اور وہ رسول اللہ صلی ال۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3550]
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عتبہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ تم سبیعہ بنت الحارث اسلمی رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حمل کے سلسلے میں انہیں کیا فتویٰ دیا تھا؟ عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں (اس خط کے بعد) عمر بن عبداللہ نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان سے پوچھا تو انہوں نے انہیں بتایا کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں اور وہ رسول اللہ صلی ال۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3550]
اردو حاشہ:
حضرت سعد بن خولہ مہاجر تھے مگر حجۃ الوداع میں مکہ مکرمہ ہی میں فوت ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اظہار افسوس بھی فرمایا تھا۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْه وَأَرْضَاہُ۔
حضرت سعد بن خولہ مہاجر تھے مگر حجۃ الوداع میں مکہ مکرمہ ہی میں فوت ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اظہار افسوس بھی فرمایا تھا۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْه وَأَرْضَاہُ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3550]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2028
حاملہ عورت کا شوہر مر جائے تو اس کی عدت بچہ جننے کے ساتھ ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد اس سے شادی جائز ہے۔
مسروق اور عمرو بن عتبہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو خط لکھا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ ان کا کیا معاملہ تھا؟ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے ان کو جواب لکھا کہ ان کے شوہر کی وفات کے پچیس دن بعد ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر وہ خیر یعنی شوہر کی تلاش میں متحرک ہوئیں، تو ان کے پاس ابوسنابل بن بعکک گزرے تو انہوں نے کہا کہ تم نے جلدی کر دی، دونوں میعادوں میں سے آخری میعاد چار ماہ دس دن عدت گزارو، یہ سن کر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور عرض کیا:۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2028]
مسروق اور عمرو بن عتبہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو خط لکھا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ ان کا کیا معاملہ تھا؟ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے ان کو جواب لکھا کہ ان کے شوہر کی وفات کے پچیس دن بعد ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر وہ خیر یعنی شوہر کی تلاش میں متحرک ہوئیں، تو ان کے پاس ابوسنابل بن بعکک گزرے تو انہوں نے کہا کہ تم نے جلدی کر دی، دونوں میعادوں میں سے آخری میعاد چار ماہ دس دن عدت گزارو، یہ سن کر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور عرض کیا:۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2028]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نکاح کی تیاری کا مطلب یہ ہے کہ عدت کا سادہ لباس اتارکر اچھا لباس پہن لیا اور زیب و زینت کی۔
(2)
دعائے مغفرت کی درخواست کا مطلب یہ تھا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی ہے کہ وقت سے پہلے عدت کی پابندیاں توڑ بیٹھی ہوں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ عدت ختم ہوچکی ہے، لہٰذا تم نے کوئی غلطی نہیں کی، پریشان نہ ہوں۔
فوائد و مسائل:
(1)
نکاح کی تیاری کا مطلب یہ ہے کہ عدت کا سادہ لباس اتارکر اچھا لباس پہن لیا اور زیب و زینت کی۔
(2)
دعائے مغفرت کی درخواست کا مطلب یہ تھا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی ہے کہ وقت سے پہلے عدت کی پابندیاں توڑ بیٹھی ہوں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ عدت ختم ہوچکی ہے، لہٰذا تم نے کوئی غلطی نہیں کی، پریشان نہ ہوں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2028]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3722
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ کے پاس جا کر، ان سے پوچھو کہ تمہارا واقعہ کیا ہے اور جب تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیا جواب دیا تھا۔ تو عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو اطلاع دیتے ہوئے لکھا کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اسے بتایا کہ وہ سعد بن خولہ جو بنو عامر بن لؤی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3722]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
لَمْ تَنْشَبْ:
اس پر زیادہ مدت نہ گزری،
یعنی تھوڑے ہی عرصہ کے بعد۔
(2)
فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا:
جب وہ ولادت کے خون سے پاک ہوگئی،
نفاس بند ہوگیا۔
فوائد ومسائل:
حضرت ابو سنابل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سبیعہ اسلمیہ کو منگنی کا پیغام دیا تھا اور ان کے بعد ابو بشر بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیغام دیا۔
جو حضرت ابو سنابل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابلہ میں جوان تھا۔
اس لیے انہیں خطرہ محسوس ہوا کہ وہ اس کی طرف مائل ہوگی اور اس کا ولی بھی موجود نہیں تھا اس لیے وہ سمجھتے تھے،
ولی مجھے ترجیح دے گا۔
اس لیے کہنے لگے تم ابھی شادی نہیں کر سکتی ہو،
لیکن مسئلہ یہ ہےجس پر آئمہ اربعہ کا اتفاق ہے اورجمہور صحابہ و تابعین کا یہی نظریہ ہے کہ جب عورت خاوند کی وفات کے وقت یا طلاق کے وقت حاملہ ہو تو وضع حمل ہوتے ہی اس کی عدت پوری ہو جائے گی۔
چاہے حمل چند دن کے بعد وضع ہو جائے یا نو دس ماہ کے بعد لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا موقف یہ تھا کہ وضع حمل اور چار ماہ دس دن میں سے جو بھی بعد میں ہو،
اس کا لحاظ رکھنا ہوگا۔
مثلاً اگر وضع حمل پانچ ماہ کے بعد ہوتو اس کا اعتبار ہوگا اور اگر چار ماہ دس دن سے پہلے وضع حمل ہو جائے۔
تو چار ماہ دس دن کا اعتبار ہوگا۔
اس طرح جمہور فقہاء کے نزدیک بچہ جننے کے بعد ولادت کے خون کے دوران ہی عورت شادی کر سکتی ہے۔
ہاں خاوند صحبت خون سے پاک ہونے کے بعد کر سکے گا۔
لیکن حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ،
شعبی رحمۃ اللہ علیہ،
ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ،
نخعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نفاس سے پاک ہونے کے بعد شادی کر سکے گی۔
مفردات الحدیث:
(1)
لَمْ تَنْشَبْ:
اس پر زیادہ مدت نہ گزری،
یعنی تھوڑے ہی عرصہ کے بعد۔
(2)
فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا:
جب وہ ولادت کے خون سے پاک ہوگئی،
نفاس بند ہوگیا۔
فوائد ومسائل:
حضرت ابو سنابل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سبیعہ اسلمیہ کو منگنی کا پیغام دیا تھا اور ان کے بعد ابو بشر بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیغام دیا۔
جو حضرت ابو سنابل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابلہ میں جوان تھا۔
اس لیے انہیں خطرہ محسوس ہوا کہ وہ اس کی طرف مائل ہوگی اور اس کا ولی بھی موجود نہیں تھا اس لیے وہ سمجھتے تھے،
ولی مجھے ترجیح دے گا۔
اس لیے کہنے لگے تم ابھی شادی نہیں کر سکتی ہو،
لیکن مسئلہ یہ ہےجس پر آئمہ اربعہ کا اتفاق ہے اورجمہور صحابہ و تابعین کا یہی نظریہ ہے کہ جب عورت خاوند کی وفات کے وقت یا طلاق کے وقت حاملہ ہو تو وضع حمل ہوتے ہی اس کی عدت پوری ہو جائے گی۔
چاہے حمل چند دن کے بعد وضع ہو جائے یا نو دس ماہ کے بعد لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا موقف یہ تھا کہ وضع حمل اور چار ماہ دس دن میں سے جو بھی بعد میں ہو،
اس کا لحاظ رکھنا ہوگا۔
مثلاً اگر وضع حمل پانچ ماہ کے بعد ہوتو اس کا اعتبار ہوگا اور اگر چار ماہ دس دن سے پہلے وضع حمل ہو جائے۔
تو چار ماہ دس دن کا اعتبار ہوگا۔
اس طرح جمہور فقہاء کے نزدیک بچہ جننے کے بعد ولادت کے خون کے دوران ہی عورت شادی کر سکتی ہے۔
ہاں خاوند صحبت خون سے پاک ہونے کے بعد کر سکے گا۔
لیکن حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ،
شعبی رحمۃ اللہ علیہ،
ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ،
نخعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نفاس سے پاک ہونے کے بعد شادی کر سکے گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3722]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3548 in Urdu
عمر بن عبد الله القرشي ← سبيعة بنت الحارث الأسلمية