🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. بَابُ : سُقُوطِ الإِحْدَادِ عَنِ الْكِتَابِيَّةِ الْمُتَوَفَّى، عَنْهَا زَوْجُهَا
باب: شوہر کی وفات پر کتابیہ سے سوگ کے ساقط ہو جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3557
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْ تَحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی منبر سے فرماتے ہوئے سنا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے سوائے شوہر کے، اس (کے مرنے) پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3557]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منبر پر فرماتے سنا: جو عورت اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، البتہ وہ خاوند پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3557]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3530 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥رملة بنت أبي سفيان الأموية، أم حبيبةصحابي
👤←👥زينب بنت أم سلمة المخزومية
Newزينب بنت أم سلمة المخزومية ← رملة بنت أبي سفيان الأموية
صحابية صغيرة
👤←👥حميد بن نافع الأنصاري، أبو أفلح
Newحميد بن نافع الأنصاري ← زينب بنت أم سلمة المخزومية
ثقة
👤←👥أيوب بن موسى القرشي، أبو موسى
Newأيوب بن موسى القرشي ← حميد بن نافع الأنصاري
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← أيوب بن موسى القرشي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد
Newعبد الله بن يوسف الكلاعي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← عبد الله بن يوسف الكلاعي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5345
لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تحد على ميت فوق ثلاث إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا
صحيح البخاري
1280
لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث إلا على زوج فإنها تحد عليه أربعة أشهر وعشرا
صحيح مسلم
3734
لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد فوق ثلاث إلا على زوج فإنها تحد عليه أربعة أشهر وعشرا
صحيح مسلم
3725
لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تحد على ميت فوق ثلاث إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا
جامع الترمذي
1195
لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاثة أيام إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا
سنن النسائى الصغرى
3557
لا يحل لامرأة تؤمن بالله ورسوله أن تحد على ميت فوق ثلاث ليال إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا
سنن النسائى الصغرى
3530
لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تحد على ميت فوق ثلاثة أيام إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا
سنن النسائى الصغرى
3563
لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تحد على ميت فوق ثلاث ليال إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3557 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3557
اردو حاشہ:
: باب پر استدلال ظاہر الفاظ سے ہے کیونکہ اسلامی شریعت مسلمانوں کے لیے ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا موقف بھی یہی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور جمہور کا موقف یہ ہے کہ اس پر بھی سوگ واجب ہے لیکن اس حدیث سے پہلے موقف کی تائید ہوتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3557]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1280
1280. حضرت زینب بنت ابی سلمہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: جب علاقہ شام سے حضر ت ابو سفیان ؓ کے فوت ہونے کی اطلاع آئی تو حضرت ام حبیبہ ؓ نے تیسرے روز زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اور اسے اپنے ہاتھوں اور رخساروں پر لگایا اور فرمایا: اگرچہ مجھے اس کی قطعاً ضرورت نہ تھی، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سناہے: جو عورت اللہ پر ایمان اور یوم آخرت پر یقین رکھتی ہو اس کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، لیکن اسے اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرنا چاہیے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1280]
حدیث حاشیہ:
جب کہ میں خود رانڈ بیوہ اوربڑھیا ہوں، میں نے اس حدیث پر عمل کرنے کے خیال سے خوشبو کا استعمال کرلیا۔
قال بن حجر:
هو وهم لأنه مات بالمدینة بلا خلاف وإنما الذي مات بالشام أخوها یزید بن أبي سفیان والحدیث في مسندي ابن أبي شیبة والدارمي بلفظ جاء نعي لأخي أم حبیبة أوحمیم لها ولأحمد نحوہ فقوی کونه أخاها۔
یعنی علامہ ابن حجرؒ نے کہا کہ یہ وہم ہے۔
اس لیے کہ ابوسفیان ؓ کا انتقال بلا اختلاف مدینہ میں ہوا ہے۔
شام میں انتقال کرنے والے ان کے بھائی یزید بن ابی سفیان تھے۔
مسند ابن ابی شیبہ اور دارمی اورمسند احمد وغیرہ میں یہ وضاحت موجود ہے۔
اس حدیث سے ظاہر ہوا کہ صرف بیوی اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن سوگ کرسکتی ہے اور کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں ہے۔
بیوی کے خاوند پر اتنا سوگ کرنے کی صورت میں بھی بہت سے اسلامی مصالح پیش نظر ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1280]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5345
5345. سیدنا زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ سیدہ ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہیں کہ جب انہیں اپنے والد گرامی (سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ) کے فوت ہونے کی اطلاع ملی تو (تین دن کے بعد) انہوں نے خوشبو منگوائی اور اپنے دونوں بازؤں پر لگائی۔ پھر فرمایا: مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں تھی لیکن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: جو عورت اللہ پر ایمان اور روز آخرت پر یقین رکھتی ہو وہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے البتہ شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5345]
حدیث حاشیہ:
ثابت ہوا کہ شوہر کے سوا کسی اور کے لیے تین دن سے زیادہ ماتم کرنے والی عورتیں ایمان سے محروم ہیں۔
پس ان کو اللہ سے ڈر کر اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیئے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5345]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3563
سوگ منانے والی مسلمان عورت عدت کے ایام میں زیب و زینت ترک کر دے گی، یہود یہ اور نصرانیہ عورت کیا کرے؟ اس سے کوئی غرض نہیں۔
زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے انہوں نے یہ (آنے والی) تین حدیثیں بیان کیں: ۱- زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس (تعزیت میں) گئی، (میں نے دیکھا کہ) انہوں نے خوشبو منگوائی، (پہلے) لونڈی کو لگائی پھر اپنے دونوں گالوں پر ملا پھر یہ بھی بتا دیا کہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3563]
اردو حاشہ:
(1) مسئلہ باب کے لیے دیکھیے حدیث: 3531، 3532۔
(2) کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ میرا خاوند تو فوت ہو چکا ہے‘نیز تین دن سوگ کے بعد خوشبو لگانا ضروری بھی نہیں البتہ سوگ کا شبہ ختم کرنے کے لیے خوشبو وغیرہ لگا لینا مستحب ہے(مزید تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر 3531‘3532۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3563]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5345
5345. سیدنا زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ سیدہ ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہیں کہ جب انہیں اپنے والد گرامی (سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ) کے فوت ہونے کی اطلاع ملی تو (تین دن کے بعد) انہوں نے خوشبو منگوائی اور اپنے دونوں بازؤں پر لگائی۔ پھر فرمایا: مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں تھی لیکن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: جو عورت اللہ پر ایمان اور روز آخرت پر یقین رکھتی ہو وہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے البتہ شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5345]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شوہر کے علاوہ کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حرام ہے۔
ایسی عورتیں ایمان سے محروم ہیں جو اس حکم کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
(2)
عنوان میں عدت کا ذکر تھا اور اس حدیث میں ہے کہ عدت گزارنے والی عورت حدیث میں بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عدت کے ایام پورے کرے، اس کی خلاف ورزی کر کے خود کو ایمان سے محروم نہ کرے۔
(عمدة القاري: 357/14)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5345]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3557 in Urdu