🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66. باب : الرخصة للحادة أن تمتشط بالسدر
باب: سوگ منانے والی عورت بیری کے پتے سے سر دھو کر کنگھی کر سکتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3567
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ الضَّحَّاكِ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ أَسِيدٍ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ زَوْجَهَا تُوُفِّيَ وَكَانَتْ تَشْتَكِي عَيْنَهَا، فَتَكْتَحِلُ الْجَلَاءَ، فَأَرْسَلَتْ مَوْلَاةً لَهَا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَتْهَا عَنْ كُحْلِ الْجَلَاءِ، فَقَالَتْ: لَا تَكْتَحِلُ إِلَّا مِنْ أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ، دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ، وَقَدْ جَعَلْتُ عَلَى عَيْنِي صَبْرًا، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ؟" قُلْتُ: إِنَّمَا هُوَ صَبْرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ، قَالَ:" إِنَّهُ يَشُبُّ الْوَجْهَ، فَلَا تَجْعَلِيهِ إِلَّا بِاللَّيْلِ، وَلَا تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلَا بِالْحِنَّاءِ، فَإِنَّهُ خِضَابٌ"، قُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ أَمْتَشِطُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بِالسِّدْرِ تُغَلِّفِينَ بِهِ رَأْسَكِ".
ام حکیم بنت اسید اپنی ماں سے روایت کرتی ہیں کہ ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور اس وقت ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی، چنانچہ وہ آنکھوں کو جلا پہنچانے والا (یعنی اثمد کا) سرمہ لگایا کرتی تھیں تو انہوں نے (سوگ میں ہونے کے بعد) اپنی ایک لونڈی کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج کر آنکھوں کو جلا اور ٹھنڈک پہنچانے والے سرمہ کے لگانے کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے کہا: نہیں لگا سکتی مگر یہ کہ کوئی ایسی مجبوری اور ضرورت پیش آ جائے جس کو لگائے بغیر چارہ نہیں (تو لگا سکتی ہے)۔ جب (میرے شوہر) ابوسلمہ کا انتقال ہوا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس موقع پر میں اپنی آنکھ پر ایلوا لگائے ہوئے تھی۔ آپ نے پوچھا: ام سلمہ! یہ کیا چیز ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ صرف ایلوا ہے! اس میں کسی طرح کی خوشبو نہیں ہے، آپ نے فرمایا: (خوشبو تو نہیں ہے لیکن) یہ چہرے کو جوان (اور تروتازہ کر دیتا) ہے۔ اسے نہ لگاؤ اور اگر لگانا ہی (بہت ضروری) ہو تو رات میں لگاؤ اور خوشبودار چیز اور مہندی لگا کر کنگھی نہ کیا کرو۔ کیونکہ یہ خضاب ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کیا چیز لگا کر سر دھوؤں اور کنگھی کروں! آپ نے فرمایا: بیری کے پتے کا لیپ لگا کر اپنے سر کو ڈھانپ رکھو (اور دھو کر کنگھی کرو)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3567]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 46 (2305)، (تحفة الأشراف: 1830) (ضعیف) (اس کے راوی ”مغیرہ“ لین الحدیث ہیں، اور ”ام حکیم“ اور ان کی ماں دونوں مجہول ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2305) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 347

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥اسم مبهم
Newاسم مبهم ← أم سلمة زوج النبي
0
👤←👥أم حكيم بنت أسيد، أم حكيم
Newأم حكيم بنت أسيد ← اسم مبهم
مجهول الحال
👤←👥المغيرة بن الضحاك القرشي
Newالمغيرة بن الضحاك القرشي ← أم حكيم بنت أسيد
مقبول
👤←👥بكير بن عبد الله القرشي، أبو يوسف، أبو عبد الله
Newبكير بن عبد الله القرشي ← المغيرة بن الضحاك القرشي
ثقة
👤←👥مخرمة بن بكير القرشي، أبو المسور
Newمخرمة بن بكير القرشي ← بكير بن عبد الله القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← مخرمة بن بكير القرشي
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر
Newأحمد بن عمرو القرشي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3567
لا تجعليه إلا بالليل لا تمتشطي بالطيب ولا بالحناء فإنه خضاب بأي شيء أمتشط يا رسول الله قال بالسدر تغلفين به رأسك
سنن أبي داود
2305
لا تجعليه إلا بالليل وتنزعينه بالنهار ولا تمتشطي بالطيب ولا بالحناء فإنه خضاب قالت قلت بأي شيء أمتشط يا رسول الله قال بالسدر تغلفين به رأسك
بلوغ المرام
949
إنه يشب الوجه فلا تجعليه إلا بالليل وانزعيه بالنهار ولا تمتشطي بالطيب ولا بالحناء فإنه خضاب
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3567 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3567
اردو حاشہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم یہ بات صحیح ہے کہ کوئی ایسی چیز جورنگ دے‘ مثلاً: سرمہ یا مہندی یا جو چہرے کو خوب صورت اور بارونق بنائے‘ مثلاً ایلوا یا جو چیز خوشبو دے‘ مثلاً: خوشبو در صابن‘ سینٹ وغیرہ‘ سوگ کے دوران میں عورت پر حرام ہیں‘ البتہ غسل‘ سادہ کنگھی اور بغیر خوشبو کے صابن استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ بیری کے پتے نہ رنگ دیتے ہیں نہ خوشبو‘ لہٰذا استعمال ہوسکتے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3567]