سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب : الرجل يسلم عليه وهو يبول
باب: پیشاب کے دوران سلام کا جواب۔
حدیث نمبر: 350
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ وَعْلَةَ أَبِي سَاسَانَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ، قَالَ:" إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ".
مہاجر بن قنفذ بن عمرو بن جدعان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تمہارے سلام کا جواب دینے میں رکاوٹ والی چیز یہ تھی کہ میں باوضو نہ تھا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 8 (17)، سنن النسائی/الطہارة 34 (38)، (تحفة الأشراف: 11580)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/345، 5/80)، سنن الدارمی/الاستئذان 13 (2683) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (17) نسائي (38)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 389
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (17) نسائي (38)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 389
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
17
| كرهت أن أذكر الله إلا على طهر |
سنن النسائى الصغرى |
38
| لم يرد عليه حتى توضأ فلما توضأ رد عليه |
سنن ابن ماجه |
350
| لم يمنعني من أن أرد عليك إلا أني كنت على غير وضوء |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 350 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث350
اردو حاشہ:
(1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے تاہم یہی روایت ایک دوسرے طریقے سے صحیح مسلم میں ہے اس میں صرف یہاں تک بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ دیکھیے: (صحيح مسلم، حيض، باب التيمم، حديث: 370)
لہٰذا یہ بات تو صحیح ثابت ہوئی کہ پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے سلام کا جواب نہ دیا جائے لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ سلام کا جواب یا اللہ کا ذکر وضو کے بغیر جائز نہیں۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہواکہ قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہوئے شخص کو سلام نہ کیا جائے۔
(3)
لیکن اگر کوئی شخص سلام کرے تو فوری طور پر اس کا جواب نہ دیا جائے البتہ مستحب ہے کہ فراغت کے بعد وضو یا تیمم کرکے سلام کا جواب دے دیا جائےجیسا کہ اگلی حدیث کے فوائد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا حوالہ آرہا ہے، اس لیے اس کے استحباب میں کوئی شک نہیں۔
(1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے تاہم یہی روایت ایک دوسرے طریقے سے صحیح مسلم میں ہے اس میں صرف یہاں تک بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ دیکھیے: (صحيح مسلم، حيض، باب التيمم، حديث: 370)
لہٰذا یہ بات تو صحیح ثابت ہوئی کہ پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے سلام کا جواب نہ دیا جائے لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ سلام کا جواب یا اللہ کا ذکر وضو کے بغیر جائز نہیں۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہواکہ قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہوئے شخص کو سلام نہ کیا جائے۔
(3)
لیکن اگر کوئی شخص سلام کرے تو فوری طور پر اس کا جواب نہ دیا جائے البتہ مستحب ہے کہ فراغت کے بعد وضو یا تیمم کرکے سلام کا جواب دے دیا جائےجیسا کہ اگلی حدیث کے فوائد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا حوالہ آرہا ہے، اس لیے اس کے استحباب میں کوئی شک نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 350]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 38
وضو کر کے سلام کا جواب دینے کا بیان۔
مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، اور آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا یہاں تک کہ وضو کیا، پھر جب آپ نے وضو کر لیا، تو ان کے سلام کا جواب دیا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 38]
مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، اور آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا یہاں تک کہ وضو کیا، پھر جب آپ نے وضو کر لیا، تو ان کے سلام کا جواب دیا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 38]
38۔ اردو حاشیہ:
➊ پیشاب کرتے شخص کو سلام کہنا مناسب تو نہیں، لیکن اگر کسی نے غلطی سے سلام کہہ دیا تو پیشاب سے فراغت کے بعد جواب دیا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً باوضو رہتے تھے، اس لیے آپ نے فوراًً وضو فرمایا، پھر جواب دیا۔ ہر آدمی کے لیے ایسا ضروری نہیں کیونکہ سلام، جوابِ سلام اور اذکار و اور اد کے لیے وضو شرط نہیں، نیز جب سلام کہنے کے لیے باوضو ہونا ضروری نہیں تو جواب دینے کے لیے بھی ضروری نہیں۔
➋ ہمارے فاضل محقق کے نزدیک اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے دیگر شواہد بھی ملتے ہیں، لیکن ان کے صحیح اور ضعیف ہونے کی طرف اشارہ نہیں کیا، غالباً انھی شواہد کی وجہ سے شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔ مزید دیکھیے: [سلسلة الأحادیث الصحیحة، رقم: 834]
➊ پیشاب کرتے شخص کو سلام کہنا مناسب تو نہیں، لیکن اگر کسی نے غلطی سے سلام کہہ دیا تو پیشاب سے فراغت کے بعد جواب دیا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً باوضو رہتے تھے، اس لیے آپ نے فوراًً وضو فرمایا، پھر جواب دیا۔ ہر آدمی کے لیے ایسا ضروری نہیں کیونکہ سلام، جوابِ سلام اور اذکار و اور اد کے لیے وضو شرط نہیں، نیز جب سلام کہنے کے لیے باوضو ہونا ضروری نہیں تو جواب دینے کے لیے بھی ضروری نہیں۔
➋ ہمارے فاضل محقق کے نزدیک اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے دیگر شواہد بھی ملتے ہیں، لیکن ان کے صحیح اور ضعیف ہونے کی طرف اشارہ نہیں کیا، غالباً انھی شواہد کی وجہ سے شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔ مزید دیکھیے: [سلسلة الأحادیث الصحیحة، رقم: 834]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 38]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 17
کیا پیشاب کرتے وقت آدمی سلام کا جواب دے؟
«. . . عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ، ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلا عَلَى طُهْرٍ، أَوْ قَالَ: عَلَى طَهَارَةٍ . . .»
”مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے تو انہوں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وضو کیا پھر (سلام کا جواب دیا اور) مجھ سے معذرت کی اور فرمایا: مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں اللہ کا ذکر بغیر پاکی کے کروں۔ راوی کو شک ہے «على طهر» کہا، یا «على طهارة» کہا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 17]
«. . . عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ، ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلا عَلَى طُهْرٍ، أَوْ قَالَ: عَلَى طَهَارَةٍ . . .»
”مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے تو انہوں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وضو کیا پھر (سلام کا جواب دیا اور) مجھ سے معذرت کی اور فرمایا: مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں اللہ کا ذکر بغیر پاکی کے کروں۔ راوی کو شک ہے «على طهر» کہا، یا «على طهارة» کہا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 17]
فوائد و مسائل:
➊ یہ روایت ایک دوسرے طریق سے آتی ہے اور وہ صحیح ہے، اس میں صرف یہاں تک بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کو جواب نہیں دیا۔ [صحيح مسلم، حديث: 370] اس لیے ابوداؤد کی حدیث نمبر [17] کا اگلا حصہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔۔۔۔۔ یہ صحیح نہیں، اس لیے یہ بات تو صحیح ثابت ہوئی کہ پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے سلام کاجواب نہ دیا جائے۔ لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہو گا کہ سلام کا جواب یا اللہ کا ذکر وضو کے بغیر جائز نہیں۔
➋ اس سے یہ بات بھی مستفاد ہوتی ہے کہ قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہوئے شخص کو سلام نہ کیا جائے۔ [ص۔ ی]
➊ یہ روایت ایک دوسرے طریق سے آتی ہے اور وہ صحیح ہے، اس میں صرف یہاں تک بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کو جواب نہیں دیا۔ [صحيح مسلم، حديث: 370] اس لیے ابوداؤد کی حدیث نمبر [17] کا اگلا حصہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔۔۔۔۔ یہ صحیح نہیں، اس لیے یہ بات تو صحیح ثابت ہوئی کہ پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے سلام کاجواب نہ دیا جائے۔ لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہو گا کہ سلام کا جواب یا اللہ کا ذکر وضو کے بغیر جائز نہیں۔
➋ اس سے یہ بات بھی مستفاد ہوتی ہے کہ قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہوئے شخص کو سلام نہ کیا جائے۔ [ص۔ ی]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 17]
حدیث نمبر: 350M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح کی روایت ذکر کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 350M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر | ثقة حافظ | |
👤←👥محمد بن عبد الله الأنصاري، أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأنصاري ← سعيد بن أبي عروبة العدوي | ثقة | |
👤←👥محمد بن إدريس الحنظلي، أبو حاتم محمد بن إدريس الحنظلي ← محمد بن عبد الله الأنصاري | أحد الحفاظ |
حضين بن المنذر الرقاشي ← المهاجر بن قنفذ القرشي