سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب : إذا حلف أن لا يأتدم فأكل خبزا بخل
باب: جب کوئی قسم کھائے کہ وہ سالن نہیں کھائے گا پھر اس نے سرکہ سے روٹی کھا لی تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 3827
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَهُ , فَإِذَا فِلَقٌ وَخَلٌّ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلْ فَنِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ روٹی کا ایک ٹکڑا اور سرکہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ، سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3827]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں داخل ہوا تو آپ کو روٹی کے ٹکڑے اور سرکہ پیش کیے گئے، آپ نے مجھے فرمایا: ”کھاؤ، سرکہ بہترین سالن ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3827]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة 30 (2052)، سنن ابی داود/الأطعمة 40 (3821)، (تحفة الأشراف: 2338)، مسند احمد (3/301، 400) سنن الدارمی/الأطعمة 18 (2092) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لیے سالن نہ کھانے کی قسم کھانے والا اگر سرکہ کھا لے تو وہ قسم توڑنے والا مانا جائے گا، اور اسے قسم کا کفارہ دینا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥طلحة بن نافع القرشي، أبو سفيان طلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥المثنى بن سعيد الضبعي، أبو سعيد المثنى بن سعيد الضبعي ← طلحة بن نافع القرشي | ثقة | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← المثنى بن سعيد الضبعي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص عمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5353
| الخل نعم الأدم |
صحيح مسلم |
5352
| نعم الأدم الخل |
صحيح مسلم |
5355
| نعم الأدم هو |
جامع الترمذي |
1840
| نعم الإدام الخل |
جامع الترمذي |
1839
| نعم الإدام الخل |
سنن أبي داود |
3821
| نعم الإدام الخل |
سنن أبي داود |
3820
| نعم الإدام الخل |
سنن ابن ماجه |
3317
| نعم الإدام الخل |
سنن النسائى الصغرى |
3827
| نعم الإدام الخل |
المعجم الصغير للطبراني |
624
| نعم الإدام الخل |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3827 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3827
اردو حاشہ:
سالن کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ جس چیز سے بھی روٹی تر ہوجائے یا گلے سے با آسانی گزر جائے‘ خواہ وہ شوربہ اور مائع کی شکل میں ہو یا جامد شکل میں جیسا کہ گوشت‘ انڈا وغیرہ‘ اسے سالن ہی کہیں گے۔ سرکہ بھی روٹی کو ترکرکے اپنے ذائقے کی مدد سے گلے سے گزرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ ہضم میں بھی ممد ہے۔ یہی سالن کے اوصاف ہیں‘ لہٰذا سرکہ بھی سالن ہے۔ سالن استعمال نہ کرنے کی قسم کھانے والا سرکہ استعمال کرے تو اسے قسم کا کفارہ ادا کرنا ہوگا کیونکہ اس کی قسم ٹوٹ گئی۔
سالن کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ جس چیز سے بھی روٹی تر ہوجائے یا گلے سے با آسانی گزر جائے‘ خواہ وہ شوربہ اور مائع کی شکل میں ہو یا جامد شکل میں جیسا کہ گوشت‘ انڈا وغیرہ‘ اسے سالن ہی کہیں گے۔ سرکہ بھی روٹی کو ترکرکے اپنے ذائقے کی مدد سے گلے سے گزرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ ہضم میں بھی ممد ہے۔ یہی سالن کے اوصاف ہیں‘ لہٰذا سرکہ بھی سالن ہے۔ سالن استعمال نہ کرنے کی قسم کھانے والا سرکہ استعمال کرے تو اسے قسم کا کفارہ ادا کرنا ہوگا کیونکہ اس کی قسم ٹوٹ گئی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3827]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3317
سرکہ کو سالن کے طور پر استعمال کرنے کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3317]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3317]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کھانے پینے میں سادگی مستحسن ہے۔
(2)
جس چیز کے ساتھ روٹی کھائی جا سکے وہ سالن ہے ضروری نہیں کہ پکی ہوئی کوئی چیز ہی ہو۔
(3)
سادہ غذا اور معمولی سالن بھی اللہ کا انعام ہے جس پر شکر کرنا چاہیے۔
(4)
سرکہ طبی طور پر بھی مفید چیز ہے لہٰذا اسے کھانے میں شامل رکھنا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
کھانے پینے میں سادگی مستحسن ہے۔
(2)
جس چیز کے ساتھ روٹی کھائی جا سکے وہ سالن ہے ضروری نہیں کہ پکی ہوئی کوئی چیز ہی ہو۔
(3)
سادہ غذا اور معمولی سالن بھی اللہ کا انعام ہے جس پر شکر کرنا چاہیے۔
(4)
سرکہ طبی طور پر بھی مفید چیز ہے لہٰذا اسے کھانے میں شامل رکھنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3317]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1839
سرکہ کا بیان۔
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1839]
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1839]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے سرکہ کے سالن کی فضیلت ثابت ہوتی ہے،
کیوں کہ یہ سب کے لیے کم خرچ میں آسانی سے دستیاب ہے۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے سرکہ کے سالن کی فضیلت ثابت ہوتی ہے،
کیوں کہ یہ سب کے لیے کم خرچ میں آسانی سے دستیاب ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1839]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5352
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن مانگا تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے، آپ نے اسے ہی منگوا لیا اور اس کے ساتھ روٹی کھانے لگے اور فرماتے: ”سرکہ بہترین سالن ہے، بہترین سالن سرکہ ہے۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5352]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عربوں کے لیے اس دور میں سرکہ کا حصول بہت آسان تھا،
اس لیے یہ عام تھا،
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے میں تکلف روا نہیں رکھتے تھے،
جو میسر آ جاتا کھا لیتے اور انگوری سرکہ ویسے بھی لذیذ ہوتا ہے۔
فوائد ومسائل:
عربوں کے لیے اس دور میں سرکہ کا حصول بہت آسان تھا،
اس لیے یہ عام تھا،
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے میں تکلف روا نہیں رکھتے تھے،
جو میسر آ جاتا کھا لیتے اور انگوری سرکہ ویسے بھی لذیذ ہوتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5352]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5353
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور اسے روٹی کے ٹکڑے پیش کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کوئی سالن ہے؟“ گھر والوں نے کہا: تھوڑے سے سرکہ کے سوا کچھ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ بہترین سالن ہے۔“ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہی: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے، میں سرکہ کو پسند رکھتا ہوں، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد طلحہ رحمہ اللہ کہتے ہیں،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5353]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
فِلق:
فِلقَة کی جمع ہے،
ٹکڑے کو کہتے ہیں،
كسرة کا ہم وزن اور ہم معنی ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
انسان دوسرے کو ہاتھ پکڑ کر گھر لے جا سکتا ہے،
یا چلتے وقت دوسرے کا ہاتھ پکڑا جا سکتا ہے۔
مفردات الحدیث:
فِلق:
فِلقَة کی جمع ہے،
ٹکڑے کو کہتے ہیں،
كسرة کا ہم وزن اور ہم معنی ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
انسان دوسرے کو ہاتھ پکڑ کر گھر لے جا سکتا ہے،
یا چلتے وقت دوسرے کا ہاتھ پکڑا جا سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5353]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5355
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا تو میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارہ فرمایا تو میں اٹھ کر آپ کے پاس چلا گیا، آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور ہم چل پڑے، حتی کہ آپ اپنی بیویوں میں سے کسی کے حجرہ کے پاس پہنچ گئے تو اندر داخل ہو گئے، پھر آپ نے مجھے اجازت دی اور میں پردہ کی حالت میں ان کے پاس پہنچ گیا، آپ نے پوچھا: ”کیا صبح کا کھانا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5355]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
بني:
کھجور کے پتوں کا دسترخوان۔
بنی،
با پر زبر اور نون پر زبر ہے،
کھجور کے پتوں کا تھال۔
مفردات الحدیث:
بني:
کھجور کے پتوں کا دسترخوان۔
بنی،
با پر زبر اور نون پر زبر ہے،
کھجور کے پتوں کا تھال۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5355]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3827 in Urdu
طلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري