علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب : كفارة النذر
باب: نذر کے کفارہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3877
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي , أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ , عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ نَذْرًا , لَا يَشْهَدُ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ؟ فَقَالَ عِمْرَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ".
زبیر حنظلی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے بیان کیا کہ اس نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا، جس نے یہ نذر مانی کہ وہ اپنے قبیلے کی مسجد میں نماز میں حاضر نہیں ہو گا، تو عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”غضب کی کوئی نذر نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3877]
ایک آدمی نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مان لی تھی کہ میں اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنے نہیں جاؤں گا۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”غصے کی حالت میں نذر معتبر نہیں، البتہ اس کا کفارہ قسم ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3877]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن الزبير: متروك (تقريب: 5885) ولم أجد لحديثه شاهدًا قويًا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 349
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 3877 in Urdu
اسم مبهم ← عمران بن حصين الأزدي