سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : الثالث من الشروط فيه المزارعة والوثائق
باب: (سابقہ دو شرط قسم اور نذر کے ذکر کے بعد) تیسری شرط کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3891
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، وَقَتَادَةَ:" في رجل قَالَ لِرَجُلٍ: أَسْتَكْرِي مِنْكَ إِلَى مَكَّةَ بِكَذَا وَكَذَا، فَإِنْ سِرْتُ شَهْرًا أَوْ كَذَا وَكَذَا شَيْئًا سَمَّاهُ فَلَكَ زِيَادَةُ كَذَا وَكَذَا. فَلَمْ يَرَيَا بِهِ بَأْسًا , وَكَرِهَا أَنْ يَقُولَ: أَسْتَكْرِي مِنْكَ بِكَذَا وَكَذَا، فَإِنْ سِرْتُ أَكْثَرَ مِنْ شَهْرٍ نَقَصْتُ مِنْ كِرَائِكَ كَذَا وَكَذَا".
حماد اور قتادہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے سلسلے میں پوچھا گیا، جس نے ایک آدمی سے کہا: میں تجھ سے مکے تک کے لیے اتنے اور اتنے میں کرائے پر (سواری) لیتا ہوں۔ اگر میں ایک مہینہ یا اس سے کچھ زیادہ - اور اس نے فاضل مسافت کی تعیین کر دی - چلا تو تیرے لیے اتنا اور اتنا زیادہ کرایہ ہو گا۔ تو اس (صورت) میں انہوں نے کوئی حرج نہیں سمجھا۔ لیکن اس (صورت) کو انہوں نے ناپسند کیا کہ وہ کہے کہ میں تم سے اتنے اور اتنے میں کرائے پر (سواری) لیتا ہوں، اب اگر مجھے ایک مہینہ سے زائد چلنا پڑا ۱؎، تو میں تمہارے کرائے میں سے اسی قدر اتنا اور اتنا کاٹ لوں گا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3891]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18593) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: سواری کی سست رفتاری کے سبب ایسا کرنا پڑا تو ایسا کروں گا ۲؎: متعین مسافت (دوری) کو تیزی کی وجہ سے وقت سے پہلے طے کر لینے پر زیادہ اجرت بطور انعام و اکرام ہے اس لیے دونوں نے اس کو جائز قرار دیا ہے، اور دھیرے دھیرے چلنے کی وجہ سے کرائے میں کمی کرنا ظلم اور دوسرے کے حق کو چھیننے کے مشابہ ہے، یہی وجہ کہ دونوں نے اس دوسری صورت کو مکروہ جانا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥حماد بن أبي سليمان الأشعري، أبو إسماعيل حماد بن أبي سليمان الأشعري ← قتادة بن دعامة السدوسي | صدوق كثير الخطأ والوهم، ورمي بالإرجاء | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← حماد بن أبي سليمان الأشعري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥حبان بن موسى المروزي، أبو محمد حبان بن موسى المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة | |
👤←👥محمد بن حاتم المروزي، أبو عبد الله محمد بن حاتم المروزي ← حبان بن موسى المروزي | ثقة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3891 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3891
اردو حاشہ:
مقصود یہ ہے کہ سواری تیز چلی اور وقت کم لگا تو تجھے زیادہ رقم دوں گا اور اگر سواری تیز نہ چلی اور وقت زیادہ لگا تو میں تجھے کم کرایہ دوں گا۔ پہلی صورت اس لیے جائز ہے کہ اس میں انعام دینے کی صورت ہے۔ اور ظاہر ہے انعام دینا تو جائز ہے۔ دوسری صورت اس لیے منع ہے کہ اس میں سواری والے پر ظلم ہے۔ ایک تو وقت زیادہ لگا اور دوسرا کرایہ بھی کم۔ اور ظلم جائز نہیں۔
مقصود یہ ہے کہ سواری تیز چلی اور وقت کم لگا تو تجھے زیادہ رقم دوں گا اور اگر سواری تیز نہ چلی اور وقت زیادہ لگا تو میں تجھے کم کرایہ دوں گا۔ پہلی صورت اس لیے جائز ہے کہ اس میں انعام دینے کی صورت ہے۔ اور ظاہر ہے انعام دینا تو جائز ہے۔ دوسری صورت اس لیے منع ہے کہ اس میں سواری والے پر ظلم ہے۔ ایک تو وقت زیادہ لگا اور دوسرا کرایہ بھی کم۔ اور ظلم جائز نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3891]
حماد بن أبي سليمان الأشعري ← قتادة بن دعامة السدوسي