Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : الثالث من الشروط فيه المزارعة والوثائق
باب: (سابقہ دو شرط قسم اور نذر کے ذکر کے بعد) تیسری شرط کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3892
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قِرَاءَةً، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: عَبْدٌ أُؤَاجِرُهُ سَنَةً بِطَعَامِهِ، وَسَنَةً أُخْرَى بِكَذَا وَكَذَا. قَالَ:" لَا بَأْسَ بِهِ وَيُجْزِئُهُ اشْتِرَاطُكَ حِينَ تُؤَاجِرُهُ أَيَّامًا أَوْ آجَرْتَهُ وَقَدْ مَضَى بَعْضُ السَّنَةِ"، قَالَ: إِنَّكَ لَا تُحَاسِبُنِي لِمَا مَضَى.
ابن جریج کہتے ہںي کہ میں نے عطا سے کہا: اگر میں ایک غلام کو ایک سال کھانے کے بدلے اور ایک سال تک اتنے اور اتنے مال کے بدلے نوکر رکھوں (تو کیا حکم ہے)؟ انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں، اور جب تم اسے اجرت (مزدوری) پر رکھو تو اس کے لیے تمہارا اس وقت اتنا کہنا کافی ہے کہ اتنے دنوں تک اجرت (مزدوری) پر رکھوں گا۔ (ابن جریج نے کہا) یا اگر میں نے اجرت (مزدوری) پر رکھا اور سال کے کچھ دن گزر گئے ہوں؟ عطاء نے کہا: تم گزرے ہوئے دن کو شمار نہیں کرو گے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3892]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19075) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمدثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥حبان بن موسى المروزي، أبو محمد
Newحبان بن موسى المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة
👤←👥محمد بن حاتم المروزي، أبو عبد الله
Newمحمد بن حاتم المروزي ← حبان بن موسى المروزي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3892 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3892
اردو حاشہ:
مندرجہ بالا روایات ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نوکر کی اجرت معلوم اور معین ہونی چاہیے یا تو نقد‘ یعنی روپے پیسے کی صورت میں‘ یا خوراک وغیرہ کی صورت میں‘ نیز کوئی ایسی شرط نہ لگائی جائے جو نوکر کے لیے نقصان دہ ہو۔ مزارعت‘ یعنی بٹائی میں بھی یہی صورت ہے کہ اگر مزارع کی اجرت معین ہوجائے‘ مثلاً: تجھے پیداوار کا نصف یا تہائی وغیرہ ملے گا اور کوئی ایسی شرط نہ لگائی جائے جو مزارع کے لیے نقصان دہ ہو تو مزارعت (بٹائی) درست ہوگی۔ ہاں اگر اجرت نہ سمجھا جائے۔ اس طرح تو خوراک والی اجرت بھی مجہول ہوگی کیونکہ کسی کی خوراک کم ہوتی ہے کسی کی زیادہ۔ ایک ہی شخص کبھی کم کھاتا ہے کبھی زیادہ۔ اس کے باوجود یہ سب کے نزدیک جائز ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3892]