🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : ذكر الأحاديث المختلفة في النهى عن كراء الأرض بالثلث والربع واختلاف ألفاظ الناقلين للخبر
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3893
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ رَافِعِ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، أَنَّهُ خَرَجَ إِلَى قَوْمِهِ إِلَى بَنِي حَارِثَةَ، فَقَالَ: يَا بَنِي حَارِثَةَ , لَقَدْ دَخَلَتْ عَلَيْكُمْ مُصِيبَةٌ، قَالُوا: مَا هِيَ؟ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِذًا نُكْرِيهَا بِشَيْءٍ مِنَ الْحَبِّ؟ قَالَ:" لَا"، قَالَ: وَكُنَّا نُكْرِيهَا بِالتِّبْنِ؟ فَقَالَ:" لَا"، قَالَ: وَكُنَّا نُكْرِيهَا بِمَا عَلَى الرَّبِيعِ السَّاقِي، قَالَ:" لَا ازْرَعْهَا , أَوِ امْنَحْهَا أَخَاكَ". خَالَفَهُ مُجَاهِدٌ.
اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے قبیلہ یعنی بنی حارثہ کی طرف نکل کر گئے اور کہا: اے بنی حارثہ! تم پر مصیبت آ گئی ہے، لوگوں نے کہا: وہ مصیبت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرما دیا ہے۔ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! تو کیا ہم اسے کچھ اناج (غلہ) کے بدلے کرائے پر اٹھائیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، وہ کہتے ہیں: حالانکہ ہم اسے گھاس (چارہ) کے بدلے دیتے تھے۔ آپ نے فرمایا: نہیں، پھر کہا: ہم اسے اس پیداوار پر اٹھاتے تھے جو پانی کی کیاریوں کے پاس سے پیدا ہوتی ہے، آپ نے فرمایا: نہیں، تم اس میں خود کھیتی کرو یا پھر اسے اپنے بھائی کو دے دو۔ مجاہد نے رافع بن اسید کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3893]
حضرت اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنی قوم بنو حارثہ کی طرف گیا اور انہیں کہا: اے بنو حارثہ! تم پر ایک نئی مصیبت نازل ہوگئی ہے۔ وہ کہنے لگے: وہ کیا؟ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے روک دیا ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم معین غلے کے عوض بٹائی دے سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ہم معین توڑی کے عوض زمین پر کرایہ دیتے تھے یا نالوں کے قریب اگنے والی فصل کے عوض زمین بٹائی پر دیتے تھے؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ خود کاشت کرو یا اپنے (دینی) بھائی کو بطور عطیہ (کچھ مدت کے لیے) دے دو۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے حضرت رافع بن اسید رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 157) (صحیح) (اس کے راوی ”رافع بن اسید“ لین الحدیث ہیں، مگر متابعات وشواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: مخالفت یہ ہے کہ رافع بن اسید نے اس کو اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے، جب کہ مجاہد نے اس کو اسید بن ظہیر سے اور اسید نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کی حدیث سے روایت کیا ہے، اور رافع بن اسید لین الحدیث راوی ہیں، جب کہ مجاہد ثقہ امام ہیں، بہرحال حدیث صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، رافع بن أسيد: مجهول (التحرير: 1860) لم يوثقه غير ابن حبان. والمحفوظ هو الحديث الآتي (الأصل: 3894) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 350
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسيد بن ظهير الأنصاري، أبو ثابتصحابي
👤←👥رافع بن أسيد الأنصاري
Newرافع بن أسيد الأنصاري ← أسيد بن ظهير الأنصاري
مقبول
👤←👥جعفر بن عبد الله الأنصاري، أبو عبد الحميد
Newجعفر بن عبد الله الأنصاري ← رافع بن أسيد الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الحميد بن جعفر الأنصاري، أبو حفص، أبو الفضل
Newعبد الحميد بن جعفر الأنصاري ← جعفر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← عبد الحميد بن جعفر الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن صدران الأزدي، أبو جعفر
Newمحمد بن صدران الأزدي ← خالد بن الحارث الهجيمي
صدوق حسن الحديث
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3893 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3893
اردو حاشہ:
(1) رافع بن اسید نے اسید بن ظہیرکا واقعہ بنایا ہے جبکہ مجاہد نے اسے اسید بن ظہیر کے واسطے سے رافع بن خدیج سے بیان کیا ہے‘ یعنی انہوں نے رافع بن خدیج کا واقعہ بنایا ہے۔
(2) یہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم دیگر روایات کی روشنی میں مسئلے کی وضاحت کچھ اس طرح ہے کہ مالک اپنی زمین جیسے چاہے‘ بٹائی یا ٹھیکے پر دے سکتا ہے۔ شریعت کے اصول اسی بات کی تائید کرتے ہیں مگر چند شرائط ہیں کہ مزارع پر ظلم نہ ہو اور معاشرے میں خرابی پیدا نہ ہوتی ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے وقت مدینہ منورہ کے لوگ ظالمانہ شرائط پر مزارعت کرتے تھے‘ مثلاً: اچھی زمین کی پیداوار اپنے لیے اور ناقص زمین کی پیداوار مزارع کے لیے۔ یا اس سے معین فصل (گندم یا جو وغیرہ کی معین مقدار) وصول کرلیتے تھے‘ اسے کچھ بچے یا نہ بچے۔ ظاہر ہے اس طریقے سے مزارعت ظلم ہے‘ لہٰذا آپ نے ایسی مزارعت سے منع فرمایا ہے۔ یا بڑے جاگیرداروں کو منع فرمایا جن کے پاس فالتو زمینیں تھیں حتیٰ کہ وہ انہیں آباد نہیں کرسکتے تھے۔ آپ نے انہیں رغبت دلائی کہ تم زائد از ضرورت زمینیں اپنے مسلمان غریب بھائیوں کو ایک دو سال کے لیے دے دیا کرو ان سے پیداوار حاصل کرلیں اور اپنا گزارا کرلیں۔ تمہارا گزارا تو بخوبی ہورہا ہے۔ گویا یہ وقتی پابندی تھی جس کا حکومت کو اختیار ہوتا ہے‘ نیز یہ سب کے لیے نہیں تھی بلکہ صرف بڑے بڑے جاگیرداروں کے لیے تھی۔ خصوصاً جبکہ اس دور میں مدینہ منورہ میں غریب مہاجرین بکثرت تھے۔ اب بھی اگر حکومت ضرورت محسوس کرے تو بڑے جاگیرداروں پر پابندی لگا سکتی ہے کہ وہ اتنی زمین اپنے پاس رکھیں جسے وہ خود بخوبی کاشت کرسکیں۔ باقی زمین غریب مزارعین میں تقسیم کردیں یا حکومت خود یہ کام کرے خصوصاً جبکہ یہ جاگیریں بھی حکومت وقت کی خوشامد اور ناجائز حمایت کرکے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر ایک حکومت کسی کو جاگیر دے سکتی ہے تو بعد میں آنے والی حکومت ان جاگیرداروں کو عوام الناس کے مفاد میں ختم بھی کرسکتی ہے اور محدود بھی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جو کہ صحیح معنیٰ ہیں ایک مجتہد خلیفہ تھے‘ سے ایسی مثالیں ملتی ہیں۔ اور جہاں ایسے مفاسد نہ ہوں‘ وہاں بٹائی یا ٹھیکے پر زمین دینا صحیح ہے۔ خیبر کا علاقہ جو آپ کے قبضے میں آگیا تھا‘ یہودیوں کو بٹائی پر دیا گیا۔ زمیندار صحابہ وتابعین اپنی زمینیں بٹائی وغیرہ پر دیتے تھے‘ لہٰذا یہ عمل صحیح ہے۔ بہر حال آپ کا منع فرمایا تو زمینداروں کی ظالمانہ شرائط لگانے کی بنا پر تھا یا انتظامی طور پر وقتی حکم یا مصلحت عامہ یا فقراء کی مواخاۃ کے پیش نظر تھا۔ یہ انتہائی مناسب تطبیق ہے جس سے سب روایات پر عمل ممکن ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3893]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3893 in Urdu