🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : تعظيم الدم
باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4010
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ فِي يَدِهِ , وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا يَقُولُ: يَا رَبِّ , قَتَلَنِي. حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ الْعَرْشِ"، قَالَ: فَذَكَرُوا لِابْنِ عَبَّاسٍ التَّوْبَةَ , فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93 قَالَ: مَا نُسِخَتْ مُنْذُ نَزَلَتْ , وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن مقتول قاتل کو ساتھ لے کر آئے گا، اس کی پیشانی اور اس کا سر اس (مقتول) کے ہاتھ میں ہوں گے اور اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر عرش کے قریب جائے گا۔ راوی (عمرو) کہتے ہیں: لوگوں نے ابن عباس سے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت: «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تلاوت کی اور کہا: جب سے یہ نازل ہوئی منسوخ نہیں ہوئی پھر اس کے لیے توبہ کہاں ہے؟۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4010]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو سر کے اگلے بالوں سے پکڑ کر لائے گا جبکہ اس کی گردن کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا، حتیٰ کہ وہ اسے عرش سے قریب کر دے گا۔ لوگوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے … الخ اور فرمایا: جب سے یہ آیت اتری ہے، منسوخ نہیں ہوئی۔ اس کے لیے توبہ کیسے ممکن ہے؟ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4010]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء (3029)، (تحفة الأشراف: 6303) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥ورقاء بن عمر اليشكري، أبو بشر
Newورقاء بن عمر اليشكري ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة
👤←👥شبابة بن سوار الفزاري، أبو عمرو
Newشبابة بن سوار الفزاري ← ورقاء بن عمر اليشكري
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله
Newمحمد بن رافع القشيري ← شبابة بن سوار الفزاري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3029
يجيء المقتول بالقاتل يوم القيامة ناصيته ورأسه بيده وأوداجه تشخب دما يقول يا رب هذا قتلني حتى يدنيه من العرش
سنن ابن ماجه
2621
يجيء القاتل والمقتول يوم القيامة متعلق برأس صاحبه يقول رب سل هذا لم قتلني
سنن النسائى الصغرى
4004
يجيء متعلقا بالقاتل تشخب أوداجه دما فيقول أي رب سل هذا فيم قتلني والله لقد أنزلها الله ثم ما نسخها
سنن النسائى الصغرى
4010
يجيء المقتول بالقاتل يوم القيامة ناصيته ورأسه في يده وأوداجه تشخب دما يقول يا رب قتلني حتى يدنيه من العرش
سنن النسائى الصغرى
4870
يجيء متعلقا بالقاتل تشخب أوداجه دما يقول سل هذا فيم قتلني والله لقد أنزلها وما نسخها
Sunan an-Nasa'i Hadith 4010 in Urdu