یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : تعظيم الدم
باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4010
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ فِي يَدِهِ , وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا يَقُولُ: يَا رَبِّ , قَتَلَنِي. حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ الْعَرْشِ"، قَالَ: فَذَكَرُوا لِابْنِ عَبَّاسٍ التَّوْبَةَ , فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93 قَالَ: مَا نُسِخَتْ مُنْذُ نَزَلَتْ , وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مقتول قاتل کو ساتھ لے کر آئے گا، اس کی پیشانی اور اس کا سر اس (مقتول) کے ہاتھ میں ہوں گے اور اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر عرش کے قریب جائے گا“۔ راوی (عمرو) کہتے ہیں: لوگوں نے ابن عباس سے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت: «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» ”جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے گا“ تلاوت کی اور کہا: جب سے یہ نازل ہوئی منسوخ نہیں ہوئی پھر اس کے لیے توبہ کہاں ہے؟۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4010]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو سر کے اگلے بالوں سے پکڑ کر لائے گا جبکہ اس کی گردن کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا، حتیٰ کہ وہ اسے عرش سے قریب کر دے گا۔“ لوگوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] ”جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے … الخ“ اور فرمایا: جب سے یہ آیت اتری ہے، منسوخ نہیں ہوئی۔ اس کے لیے توبہ کیسے ممکن ہے؟ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4010]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء (3029)، (تحفة الأشراف: 6303) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3029
| يجيء المقتول بالقاتل يوم القيامة ناصيته ورأسه بيده وأوداجه تشخب دما يقول يا رب هذا قتلني حتى يدنيه من العرش |
سنن ابن ماجه |
2621
| يجيء القاتل والمقتول يوم القيامة متعلق برأس صاحبه يقول رب سل هذا لم قتلني |
سنن النسائى الصغرى |
4004
| يجيء متعلقا بالقاتل تشخب أوداجه دما فيقول أي رب سل هذا فيم قتلني والله لقد أنزلها الله ثم ما نسخها |
سنن النسائى الصغرى |
4010
| يجيء المقتول بالقاتل يوم القيامة ناصيته ورأسه في يده وأوداجه تشخب دما يقول يا رب قتلني حتى يدنيه من العرش |
سنن النسائى الصغرى |
4870
| يجيء متعلقا بالقاتل تشخب أوداجه دما يقول سل هذا فيم قتلني والله لقد أنزلها وما نسخها |
Sunan an-Nasa'i Hadith 4010 in Urdu
عمرو بن دينار الجمحي ← عبد الله بن العباس القرشي