🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب : الصلب
باب: سولی دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4053
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: زَانٍ مُحْصَنٌ يُرْجَمُ، أَوْ رَجُلٌ قَتَلَ رَجُلًا مُتَعَمِّدًا فَيُقْتَلُ، أَوْ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ الْإِسْلَامِ يُحَارِبُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ فَيُقْتَلُ أَوْ يُصْلَبُ أَوْ يُنْفَى مِنَ الْأَرْضِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں مگر تین صورتوں میں: ایک تو شادی شدہ زانی کو رجم کیا جائے گا، دوسرے وہ شخص جس نے کسی شخص کو جان بوجھ کر قتل کیا تو اسے قتل کیا جائے گا، تیسرے وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہوئے اسلام سے مرتد ہو جائے، تو اسے سولی دی جائے گی، یا جلا وطن کر دیا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4053]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کا خون بہانا جائز نہیں مگر تین جرائم میں سے کسی ایک جرم کی بنا پر: شادی شدہ زانی کو رجم کیا جائے گا۔ یا جو شخص کسی دوسرے شخص کو جان بوجھ کر قتل کر دے، اسے قصاصاً قتل کیا جائے گا۔ یا جو شخص اسلام سے مرتد ہو جائے اور اللہ عز وجل اور اس کے رسول سے جنگ کرے، اسے بھی قتل کیا جائے گا یا سولی پر لٹکایا جائے گا یا اسے جلا وطن کیا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 1 (4353)، (تحفة الأشراف: 16326)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4747) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «من الإسلام» کا ٹکڑا سنن أبی داود میں نہیں ہے، اسی بنا پر امام خطابی نے اس حدیث کا مصداق مسلم محاربین (جنگجوؤں) اور باغیوں کو قرار دیا ہے، جن کی سزاؤں کا بیان حدیث نمبر ۴۰۲۹ کے حاشیہ میں گزر چکا ہے، تینوں سزاؤں میں (امام کو اختیار دینے کی بات کافر محاربین کے بارے میں ہے) ۲؎: گویا محاربین اسلام کے سلسلہ میں اختیار ہے کہ امام انہیں قتل کرے، سولی دے یا جلا وطن کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبيد بن عمير الجندعي، أبو عاصم
Newعبيد بن عمير الجندعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن رفيع الأسدي، أبو عبد الله
Newعبد العزيز بن رفيع الأسدي ← عبيد بن عمير الجندعي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن طهمان الهروي، أبو سعيد
Newإبراهيم بن طهمان الهروي ← عبد العزيز بن رفيع الأسدي
ثقة
👤←👥عبد الملك بن عمرو القيسي، أبو عامر
Newعبد الملك بن عمرو القيسي ← إبراهيم بن طهمان الهروي
ثقة
👤←👥العباس بن محمد الدوري، أبو الفضل
Newالعباس بن محمد الدوري ← عبد الملك بن عمرو القيسي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4353
لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله إلا بإحدى ثلاث رجل زنى بعد إحصان فإنه يرجم رجل خرج محاربا لله ورسوله فإنه يقتل أو يصلب أو ينفى من الأرض يقتل نفسا فيقتل بها
سنن النسائى الصغرى
4022
لا يحل دم امرئ مسلم رجل زنى بعد إحصانه كفر بعد إسلامه النفس بالنفس
سنن النسائى الصغرى
4053
لا يحل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث خصال زان محصن يرجم رجل قتل رجلا متعمدا فيقتل رجل يخرج من الإسلام يحارب الله ورسوله فيقتل أو يصلب أو ينفى من الأرض
سنن النسائى الصغرى
4747
لا يحل قتل مسلم إلا في إحدى ثلاث خصال زان محصن فيرجم رجل يقتل مسلما متعمدا رجل يخرج من الإسلام فيحارب الله ورسوله فيقتل أو يصلب أو ينفى من الأرض
بلوغ المرام
994
لا يحل قتل مسلم إلا بإحدى ثلاث خصال : زان محصن فيرجم ورجل يقتل مسلما متعمدا فيقتل ورجل يخرج من الإسلام فيحارب الله ورسوله فيقتل أو يصلب أو ينفى من الأرض
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4053 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4053
اردو حاشہ:
(1) باب کے ساتھ حدیث کی مناسبت بالکل واضح ہے۔
(2) معلوم ہوا ڈاکو، باغی اور مرتد کے سلسلے میں حاکم کو مندرجہ بالا سزاؤں میں سے کسی ایک کا اختیار ہے، یعنی وہ جرم کی مناسبت سے سزا کم و بیش کر سکتا ہے۔ و اللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4053]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4022
جن گناہوں اور جرائم کی وجہ سے کسی مسلمان کا خون حلال ہو جاتا ہے ان کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں سوائے اس شخص کے جس نے شادی کے بعد زنا کیا یا اسلام لانے کے بعد کفر کیا یا جان کے بدلے جان لینا ہو۔‏‏‏‏ اسے زہیر نے موقوفاً روایت کیا ہے (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4022]
اردو حاشہ:
غلام اگر زنا کرے، اگرچہ وہ شادی شدہ بھی ہو، اسے رجم نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس پر نصف حد ہے۔ اور وہ ہے پچاس کوڑے، رجم نصف نہیں ہو سکتا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4022]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4747
کافر کے بدلے مسلمان کے قتل نہ کیے جانے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کا قتل جائز نہیں ہے مگر جب تین صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ہو ۱؎: شادی شدہ ہو کر زنا کرے تو اسے رجم کیا جائے گا، کوئی شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر (ناحق) قتل کرے، کوئی اسلام سے نکل جائے اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاذ جنگ بناتا پھرے، تو اسے قتل کیا جائے گا، یا سولی پر چڑھایا جائے گا، یا پھر جلا وطن کیا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4747]
اردو حاشہ:
مصنف رحمہ اللہ کا استدلال ظاہر الفاظ سے ہے کہ ان تین جرائم کے علاوہ کسی مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں۔ اور ان میں دوسرا جرم کسی مسلمان کو قتل کرنے کا ہے نہ کہ کافر کو۔ اس استدلال کی تائید آئندہ احادیث سے بھی ہو رہی ہے جن میں صراحتاً فرمایا گیا ہے کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ باقی رہا النفس بالنفس تو یہ عام نہیں کیونکہ حربی کافر کے بدلے کوئی شخص بھی مسلمان کو قتل کرنے کا قائل نہیں۔ جس طرح حربی کا فر مستثنیٰ ہے، اسی طرح ان احادیث کی بنا پر ذمی کافر بھی مستثنیٰ ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے، فوائد و مسائل حدیث: 4738)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4747]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4053 in Urdu