🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب : توبة المرتد
باب: مرتد کی توبہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4074
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" فِي سُورَةِ النَّحْلِ: مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلا مَنْ أُكْرِهَ إِلَى قَوْلِهِ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة النحل آية 106 , فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَاهَدُوا وَصَبَرُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النحل آية 110 , وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ الَّذِي كَانَ عَلَى مِصْرَ، كَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَزَلَّهُ الشَّيْطَانُ , فَلَحِقَ بِالْكُفَّارِ، فَأَمَرَ بِهِ، أَنْ يُقْتَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَاسْتَجَارَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَأَجَارَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سورۃ النحل کی اس آیت: «من كفر باللہ من بعد إيمانه إلا من أكره‏» جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کیا سوائے اس کے جسے مجبور کیا گیا ہو … ان کے لیے درد ناک عذاب ہے (النحل: ۱۰۶) کے بارے میں کہا: یہ منسوخ ہو گئی اور اس سے مستثنیٰ یہ لوگ ہوئے، پھر یہ آیت پڑھی: «ثم إن ربك للذين هاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاهدوا وصبروا إن ربك من بعدها لغفور رحيم» پھر جو لوگ فتنے میں پڑ جانے کے بعد ہجرت کر کے آئے، جہاد کیا اور صبر کیا تو تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے (النحل: ۱۱۰) اور کہا: وہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تھے جو (عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں) مصر کے والی ہوئے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منشی تھے، انہیں شیطان نے بہکایا تو وہ کفار سے مل گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن حکم دیا کہ انہیں قتل کر دیا جائے تو ان کے لیے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے پناہ طلب کی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پناہ دے دی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4074]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سورہ نحل کی آیت: ﴿مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ ...﴾ [سورة النحل: 106] جو شخص اپنے ایمان لانے کے بعد کفر کرے، سوائے اس کے جس پر جبر کیا گیا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن تھا، لیکن جس نے کفر کے لیے اپنا سینہ کھول دیا (راضی خوشی کفر کیا) تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے کے بارے میں فرمایا کہ پھر اسے منسوخ کر دیا گیا، یعنی اس سے یہ مستثنیٰ کر لیا گیا۔ ﴿ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا ...﴾ [سورة النحل: 110] پھر تیرا رب ان لوگوں کو جنہوں نے آزمائش میں پڑنے کے بعد ہجرت کی، پھر جہاد کیا اور صبر کیا (ثابت قدم رہے) بے شک آپ کا رب ان (آزمائشوں) کے بعد (ان لوگوں کو) بہت معاف فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ اس سے مراد عبداللہ بن سعد بن ابو سرح ہیں جو (بعد میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں) مصر کے گورنر رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (وحی و خطوط وغیرہ) لکھا کرتے تھے۔ شیطان نے انہیں پھسلا دیا اور وہ کافروں سے جا ملے۔ فتح مکہ کے دن آپ نے ان کے قتل کا حکم جاری فرما دیا لیکن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے پناہ مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پناہ دے دی (اور ان کا اسلام قبول کر لیا)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4074]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود1(4358)، (تحفة الأشراف: 6252) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: باب کی دونوں حدیثوں کا خلاصہ یہ ہے کہ مرتد اگر توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول ہو گی، ان شاء اللہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥يزيد بن أبي سعيد النحوي، أبو الحسن
Newيزيد بن أبي سعيد النحوي ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة
👤←👥الحسين بن واقد المروزي، أبو علي، أبو عبد الله
Newالحسين بن واقد المروزي ← يزيد بن أبي سعيد النحوي
صدوق حسن الحديث
👤←👥علي بن الحسين القرشي، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعلي بن الحسين القرشي ← الحسين بن واقد المروزي
مقبول
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← علي بن الحسين القرشي
ثقة حافظ إمام
👤←👥زكريا بن يحيى السجزي، أبو عبد الرحمن
Newزكريا بن يحيى السجزي ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
4074
يكتب لرسول الله فأزله الشيطان فلحق بالكفار فأمر به أن يقتل يوم الفتح فاستجار له عثمان بن عفان فأجاره رسول الله
سنن أبي داود
4358
يكتب لرسول الله فأزله الشيطان فلحق بالكفار فأمر به رسول الله أن يقتل يوم الفتح فاستجار له عثمان بن عفان فأجاره رسول الله
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4074 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4074
اردو حاشہ:
(1) باب سے حدیث شرف کی مطابقت بالکل واضح ہے کہ مرتد کی توبہ بھی قبول ہے۔
(2) آیات و احکام الٰہی کا نسخ شرعاً ثابت ہے اور اس مسئلے کی بابت اہل اسلام کا اجماع ہے کہ دین میں کئی احکام پہلے دئیے گئے، بعد ازاں انہیں منسوخ کر دیا گیا۔ پھر کبھی تو ان سابقہ احکام کی مثل عطا فرمایا گیا اور کبھی ان سے بھی بہتر۔ ارشاد باری ہے: ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أونَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا﴾ (البقرة: 2:106) جس آیت کو ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں، اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں۔
(3) تشریح و تنسیخ احکام میں محض اللہ عز و جل کی حکمتِ بالغہ کار فرما ہے۔ وہ ہر چیز کو خوب جانتا اور ہر چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے۔ جب، اور جب تک وہ چاہتا ہے کسی چیز کی بابت اسے بجا لانے کا حکم فرماتا ہے اور جس وقت چاہتا ہے اسے ختم فرما دیتا ہے۔ وہ ﴿فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ﴾   ہے۔
(4) یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ اگر کسی کو زبردستی کفر کرنے پر مجبور کر دیا جائے جبکہ اس شخص کا دل ایمان پر مطمئن ہو تو وہ شخص قابل مؤاخذہ نہیں۔
(5) اس سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ جب زبردستی کرائے جانے والے کفر پر گرفت نہیں تو جو …کفریہ اعمال… اس سے کم تر درجے کے ہیں، ان پر بطریق اولیٰ کوئی مؤاخذہ نہیں ہو گا۔ بندوق کے زور پر یا کسی اور طریقے سے زبردستی کی جانے والی طلاق بھی نافذ نہیں ہو گی۔
(6) کسی بھی معاملے میں جائز سفارش، حاکم یا غیر حاکم کے پاس کی جا سکتی ہے جیسا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عبداللہ بن سعد بن ابو سرح رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سفارش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تھی۔ 
(7) حاکم چاہے تو کسی کی جائز سفارش قبول کر لے، چاہے تو رد کر دے اسے اس کا اختیار ہے۔
(8) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کا عظیم مقام و مرتبہ بھی اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ایک بہت بڑے مجرم کی بابت ان کی سفارش قبول فرما لی، حالانکہ قبل ازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے قتل کرنے کا حکم صادر فرما چکے تھے اور حرم شریف کے اندر بھی اس کا خون بہانا جائز اور حلال ہو چکا تھا۔ وَ لِلّٰہِ دَرُّہٗ۔
(9) یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمال درجے کے مہربان و شفیق انسان تھے۔ مرتد ہو جانے والے، انتہائی ایذا رساں شخص کو معاف کر دینا، آپ کے رحمۃ للعالمین ہونے کا عجیب مظہر ہے۔ صلی اللہ علیه وسلم- فداہ أبي و أمي و عرضي۔
(10) اس بات پر اتفاق ہے کہ مرتد مرد اور مرتد عورت اگر توبہ کر لیں اور دوبارہ اسلام قبول کر لیں تو ان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ کو یمن بھیجتے وقت ارشاد فرمائی تھی۔ اگر وہ توبہ نہ کریں تو انہیں بے دریغ قتل کر دیا جائے گا، مرد ہو یا عورت۔ احناف عورت کو ارتداد کی سزا میں قتل کرنے کے قائل نہیں مگر ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4074]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4358
مرتد (دین اسلام سے پھر جانے والے) کے حکم کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی تھا، پھر شیطان نے اس کو بہکا لیا، اور وہ کافروں سے جا ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن اس کے قتل کا حکم دیا، پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے لیے امان مانگی تو آپ نے اسے امان دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4358]
فوائد ومسائل:
1) کوئی مرتد تنفید حد سے پہلے تو بہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہے۔

2) فتنے سے ہمیشہ اللہ کی پناہ مانگتے رہنا چاہئے، شیطان کے پھندے بے شمار ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4358]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4074 in Urdu