سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب : قتال المسلم
باب: مسلمان سے لڑنا۔
حدیث نمبر: 4118
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" قِتَالُ الْمُؤْمِنِ كُفْرٌ، وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مومن کو قتل کرنا کفر (کا کام) اور اسے گالی دینا فسق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4118]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ» ”مومن کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑائی لڑنا کفر ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4114 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4118 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4118
اردو حاشہ:
تکرار سے مقصود یہ ہے کہ بعض راویوں نے اس روایت کو مرفوع (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان) بیان کیا ہے اور بعض نے موقوف (صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول)۔ یہ اختلاف نقصان دہ نہیں کیونکہ موقوف سے مرفوع کی نفی نہیں ہوتی، اور روایت کا دونوں طرح مروی ہونا درست ٹھہرتا ہے۔ بشرطیکہ اسنادی ضعف سے پاک ہوں گویا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا اور صحابی نے بھی وہی بات کہہ دی۔
تکرار سے مقصود یہ ہے کہ بعض راویوں نے اس روایت کو مرفوع (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان) بیان کیا ہے اور بعض نے موقوف (صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول)۔ یہ اختلاف نقصان دہ نہیں کیونکہ موقوف سے مرفوع کی نفی نہیں ہوتی، اور روایت کا دونوں طرح مروی ہونا درست ٹھہرتا ہے۔ بشرطیکہ اسنادی ضعف سے پاک ہوں گویا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا اور صحابی نے بھی وہی بات کہہ دی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4118]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4118 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود