🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. بَابُ: قِتَالِ الْمُسْلِمِ
باب: مسلمان سے لڑنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4109
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قِتَالُ الْمُسْلِمِ كُفْرٌ، وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان سے لڑنا کفر (کا کام) اور اسے گالی دینا فسق ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4109]
حضرت سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان سے لڑنا کفر اور اسے گالی دینا فسق (کبیرہ گناہ) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3908)، مسند احمد (1/176، 187) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «فسق» اللہ کی اطاعت سے نکل جانے کو کہتے ہیں، مسلمان کو گالی دینا اور سب وشتم کرنا بھی «فسق» ہے، اور یہاں «کفر» سے مراد کافروں کا عمل ہے، یعنی: ایک مسلمان کو کافر ہی ناحق قتل کرتا ہے کوئی مسلمان نہیں، یہ بطور زجز و توبیخ کے ہے نہ کہ ایسے عمل کو حقیقی کفر کہا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4110
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ , وَقِتَالُهُ كُفْرٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4110]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑائی لڑنا کفر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9521)، مسند احمد (1/446) ویأتی فیما یلی: 4111 (صحیح موقوف)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4111
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فِسْقٌ , وَقِتَالُهُ كُفْرٌ". فَقَالَ لَهُ أَبَانُ: يَا أَبَا إِسْحَاق، أَمَا سَمِعْتَهُ إِلَّا مِنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: بَلْ، سَمِعْتُهُ مِنَ الْأَسْوَدِ، وَهُبَيْرَةَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے۔ ابان نے ابواسحاق سبیعی سے پوچھا: ابواسحاق! کیا آپ نے اسے ابوالاحوص کے علاوہ کسی سے نہیں سنا؟ کہا: میں نے اسود اور ہبیرہ سے بھی سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4111]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق (کبیرہ گناہ) ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔ ابان نے (ابو اسحاق سے) پوچھا: اے ابو اسحاق! کیا آپ نے یہ حدیث صرف ابوالاحوص سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: (نہیں) بلکہ اسود اور ہبیرہ سے بھی میں نے یہ حدیث سنی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4112
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ , وَقِتَالُهُ كُفْرٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4112]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑائی لڑنا کفر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9527) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4113
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ , وَقِتَالُهُ كُفْرٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4113]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الإیمان 15(2634)، (تحفة الأشراف: 9360)، مسند احمد (1/417، 460) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4114
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: قُلْتُ لِحَمَّادٍ , سَمِعْتُ مَنْصُورًا، وَسُلَيْمَانَ، وَزُبَيْدًا يُحَدِّثُونَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ , وَقِتَالُهُ كُفْرٌ". مَنْ تَتَّهِمُ؟ أَتَتَّهِمُ مَنْصُورًا؟ أَتَتَّهِمُ زُبَيْدًا؟ أَتَتَّهِمُ سُلَيْمَانَ؟، قَالَ: لَا , وَلَكِنِّي أَتَّهِمُ أَبَا وَائِلٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے۔ (اس حدیث کی روایت کے بارے میں شعبہ نے حماد سے کہا) آپ کس پر (وہم اور غلطی کی) تہمت (اور الزام) لگاتے ہیں؟ منصور پر، زبید پر یا سلیمان اعمش پر؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں تو ابووائل پر تہمت لگاتا ہوں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4114]
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی گلوچ کرنا فسق اور اس سے لڑائی لڑنا کفر ہے۔ (امام شعبہ نے اپنے استاد حماد سے کہا:) تم کس پر تہمت لگاتے ہو؟ کیا تم منصور پر تہمت لگاتے ہو؟ کیا تم زبید پر تہمت لگاتے ہو؟ کیا تم سلیمان پر تہمت لگاتے ہو؟ حماد نے کہا: نہیں (میں ان میں سے کسی پر بھی تہمت نہیں لگاتا) لیکن میں (ان سب کے استاد) ابو وائل پر تہمت لگاتا ہوں۔ (کہ آیا اس نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے یا نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4114]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 36 (48)، الأدب 44 (6044)، الفتن 8 (7076)، صحیح مسلم/الإیمان 28 (62)، سنن الترمذی/البر 52 (1983)، الإیمان 15 (2635)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (69)، (تحفة الأشراف: 9243، 9251، 9299)، مسند احمد (1/385، 433)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4115-4118) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مجھے ابووائل شقیق بن سلمہ کے سلسلہ میں شک ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے یا نہیں۔ واضح رہے کہ ابووائل شقیق بن سلمہ ثقہ راوی ہیں (واللہ اعلم)، نیز دیکھئیے اگلی روایت۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4115
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ , وَقِتَالُهُ كُفْرٌ". قُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ: سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے۔ زبید کہتے ہیں کہ میں نے ابووائل سے کہا: کیا آپ نے اسے عبداللہ بن مسعود سے سنا ہے؟ کہا: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4115]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس کا (دوسرے مسلمانوں سے) لڑائی کرنا کفر ہے۔ زبید کہتے ہیں: میں نے ابو وائل سے پوچھا: کیا آپ نے اس حدیث کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! (سنا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4114 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4116
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4116]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑائی لڑنا کفر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4114 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4117
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ , وَقِتَالُهُ كُفْرٌ".
ابووائل کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4117]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ» مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑائی لڑنا کفر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4114 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4118
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" قِتَالُ الْمُؤْمِنِ كُفْرٌ، وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مومن کو قتل کرنا کفر (کا کام) اور اسے گالی دینا فسق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4118]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ» مومن کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑائی لڑنا کفر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4114 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں