🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
99. باب : التسهيل فيه
باب: قرض کے سلسلے میں نرمی برتنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4690
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَتْ مَيْمُونَةُ تَدَّانُ وَتُكْثِرُ، فَقَالَ لَهَا أَهْلُهَا فِي ذَلِكَ وَلَامُوهَا وَوَجَدُوا عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: لَا أَتْرُكُ الدَّيْنَ، وَقَدْ سَمِعْتُ خَلِيلِي وَصَفِيِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ أَحَدٍ يَدَّانُ دَيْنًا فَعَلِمَ اللَّهُ أَنَّهُ يُرِيدُ قَضَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا".
عمران بن حذیفہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا قرض لیا کرتی تھیں اور کثرت سے لیا کرتی تھیں، تو ان کے گھر والوں نے اس سلسلے میں ان سے گفتگو کی اور ان کو برا بھلا کہا اور ان پر غصہ ہوئے تو وہ بولیں: میں قرض لینا نہیں چھوڑوں گی، میں نے اپنے خلیل اور محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو بھی کوئی قرض لیتا ہے اور اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرض ادا کرنے کی فکر میں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض دنیا میں ادا کر دیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4690]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الصدقات 10(2408)، (تحفة الأشراف: 18077) (صحیح) (لیکن ’’فی الدنیا‘‘ کا لفظ صحیح نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله في الدنيا
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (2408) زياد بن عمرو وعمران بن حذيفة لم يوثقهما غير ابن حبان. وحديث ابن ماجه (الأصل: 2409) وسنده حسن يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ميمونة بنت الحارث الهلاليةصحابية
👤←👥عمران بن حذيفة الكوفي
Newعمران بن حذيفة الكوفي ← ميمونة بنت الحارث الهلالية
صدوق حسن الحديث
👤←👥زياد بن عمرو الجملي
Newزياد بن عمرو الجملي ← عمران بن حذيفة الكوفي
انفرد بتوثيقه ابن حبان
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← زياد بن عمرو الجملي
ثقة ثبت
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة
👤←👥محمد بن قدامة المصيصي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newمحمد بن قدامة المصيصي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2408
ما من مسلم يدان دينا يعلم الله منه أنه يريد أداءه إلا أداه الله عنه في الدنيا
سنن النسائى الصغرى
4690
ما من أحد يدان دينا فعلم الله أنه يريد قضاءه إلا أداه الله عنه في الدنيا
سنن النسائى الصغرى
4691
من أخذ دينا وهو يريد أن يؤديه أعانه الله
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4690 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4690
اردو حاشہ:
ادا کر دے گا یعنی اسے ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے گا یا اپنے کسی نیک بندے کے دل میں القا فرما دے گا کہ اس کی طرف سے قرض ادا کر دے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4690]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2408
قرض اس نیت سے لینا کہ اسے واپس بھی کرنا ہے اس کے فضل کا بیان۔
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ قرض لیا کرتی تھیں تو ان کے گھر والوں میں سے کسی نے ان سے کہا: آپ ایسا نہ کریں، اور ان کے ایسا کرنے کو اس نے ناپسند کیا، تو وہ بولیں: کیوں ایسا نہ کریں، میں نے اپنے نبی اور خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں جو قرض لیتا ہو اور اللہ جانتا ہو کہ وہ اس کو ادا کرنا چاہتا ہے مگر اللہ اس کو دنیا ہی میں اس سے ادا کرا دے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2408]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ضرورت کے وقت قرض لینا جائزہے، تاہم اجتناب بہتر ہے۔

(2)
قرض لیتے وقت یہ نیت ہونی چاہیے کہ اسے جلد ازجلد ادا کیا جائے گا۔

(3)
ایسی نیت رکھنے والوں کی اللہ تعالی مدد فرماتا ہےاور وہ آسانی کے ساتھ قرض ادا کر دیتے ہیں بشرطیکہ وہ ادائیگی کےلیے مخلصانہ کوشش کریں اور اس میں کوتاہی نہ کریں۔

(4)
اللہ تعالی کے ہاں حسن نیت کی بہت اہمیت ہے۔

(5)
اگر کوئی شخص قرض ادا کرنے سے پہلے فوت ہو گیا تو وارثوں کا فرض ہے کہ قرض ادا کریں، اگر ادائیگی نہ کی گئی تو قیامت کونیکیوں کی صورت میں ادائیگی کرنی پڑے گی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2408]