سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : ذكر اختلاف ألفاظ الناقلين لخبر سهل فيه
باب: اس سلسلے میں سہل کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4717
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ: أَنَّ مُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ , وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ , أَتَيَا خَيْبَرَ فِي حَاجَةٍ لَهُمَا , فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ , فَجَاءَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ , وَحُوَيِّصَةُ , وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا عَمِّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ وَهُوَ أَصْغَرُ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكُبْرَ لِيَبْدَأْ الْأَكْبَرُ"، فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا:" يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ كَيْفَ نَحْلِفُ؟ قَالَ:" فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَوْمٌ كُفَّارٌ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ، قَالَ سَهْلٌ: فَدَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ , فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ.
سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہما اپنی کسی ضرورت کے پیش نظر خیبر آئے، پھر وہ باغ میں الگ الگ ہو گئے، عبداللہ بن سہل کا قتل ہو گیا، تو ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور چچا زاد بھائی حویصہ اور محیصہ (رضی اللہ عنہم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عبدالرحمٰن نے اپنے بھائی کے معاملے میں گفتگو کی حالانکہ وہ ان میں سب سے چھوٹے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑوں کا لحاظ کرو، سب سے بڑا پہلے بات شروع کرے“، چنانچہ ان دونوں نے اپنے آدمی کے بارے میں بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آپ نے ایک ایسی بات کہی جس کا مفہوم یوں تھا: ”تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں گے“، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ایک ایسا معاملہ جہاں ہم موجود نہ تھے، اس کے بارے میں کیوں کر قسم کھائیں؟ آپ نے فرمایا: ”تو پھر یہودی اپنے پچاس لوگوں کو قسم کھلا کر تمہارے شک کو دور کریں گے“، وہ بولے: اللہ کے رسول! وہ تو کافر لوگ ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے ان کی دیت ادا کی۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں ان کے «مربد» (باڑھ) میں داخل ہوا تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات مار دی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4717]
حضرت سہل بن ابی حثمہ اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت محیصہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہما اپنے کسی کام سے خیبر گئے اور کھجوروں کے درختوں میں الگ الگ ہو گئے۔ حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ قتل کر دیے گئے۔ ان کے بھائی حضرت عبدالرحمن بن سہل اور ان کے چچا زاد بھائی حضرت حویصہ اور حضرت محیصہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی کے بارے میں بات شروع کی، جبکہ وہ ان تینوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑے کو بات کرنی چاہیے۔“ پھر ان دونوں بھائیوں نے اپنے مقتول کے بارے میں بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے پچاس آدمی قسمیں اٹھائیں۔“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم تو موقع پر موجود نہیں تھے، ہم کیسے قسمیں اٹھائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہودی پچاس قسمیں دے کر تم سے بری ہو جائیں گے۔“ وہ عرض کرنے لگے: اے اللہ کے رسول! وہ کافر لوگ ہیں (ان کی قسموں کا کیا اعتبار؟)۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے مقتول کی دیت ادا کر دی۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ان کے اونٹوں کے باڑے میں داخل ہوا تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4717]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4714 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6142
| تستحقون قتيلكم بأيمان خمسين منكم قالوا يا رسول الله أمر لم نره قال فتبرئكم يهود في أيمان خمسين منهم قالوا يا رسول الله قوم كفار فوداهم رسول الله من قبله قال سهل فأدركت ناقة من تلك الإبل فدخلت مربدا لهم فركضتني برجلها |
صحيح مسلم |
4342
| تحلفون خمسين يمينا فتستحقون صاحبكم أو قاتلكم قالوا وكيف نحلف ولم نشهد قال فتبرئكم يهود بخمسين يمينا قالوا وكيف نقبل أيمان قوم كفار فلما رأى ذلك رسول الله أعطى عقله |
صحيح مسلم |
4343
| يقسم خمسون منكم على رجل منهم فيدفع برمته قالوا أمر لم نشهده كيف نحلف قال فتبرئكم يهود بأيمان خمسين منهم |
جامع الترمذي |
1422
| تحلفون خمسين يمينا فتستحقون صاحبكم قالوا وكيف نحلف ولم نشهد قال فتبرئكم يهود بخمسين يمينا قالوا وكيف نقبل أيمان قوم كفار فلما رأى ذلك رسول الله أعطى عقله |
سنن أبي داود |
4520
| يقسم خمسون منكم على رجل منهم فيدفع برمته قالوا أمر لم نشهده كيف نحلف قال فتبرئكم يهود بأيمان خمسين منهم قالوا يا رسول الله قوم كفار قال فوداه رسول الله من قبله |
سنن النسائى الصغرى |
4717
| يقسم خمسون منكم فقالوا يا رسول الله أمر لم نشهده كيف نحلف قال فتبرئكم يهود بأيمان خمسين منهم قالوا يا رسول الله قوم كفار فوداه رسول الله من قبله |
سنن النسائى الصغرى |
4716
| تحلفون خمسين يمينا وتستحقون صاحبكم أو قاتلكم قالوا كيف نحلف ولم نشهد قال فتبرئكم يهود بخمسين يمينا قالوا وكيف نقبل أيمان قوم كفار فلما رأى ذلك رسول الله أعطاه عقله |
Sunan an-Nasa'i Hadith 4717 in Urdu
سهل بن أبي حثمة الأنصاري ← رافع بن خديج الأنصاري