🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب : ذكر اختلاف الناقلين لخبر علقمة بن وائل فيه
باب: اس سلسلہ میں علقمہ بن وائل کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4734
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى بِقَاتِلِ وَلِيِّهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى، فَقَالَ:" خُذْ الدِّيَةَ"، فَأَبَى، قَالَ:" اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ , فَإِنَّكَ مِثْلُهُ"، فَذَهَبَ فَلُحِقَ الرَّجُلُ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ"، فَخَلَّى سَبِيلَهُ فَمَرَّ بِي الرَّجُلُ وَهُوَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنے آدمی کے قاتل کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اس سے فرمایا: اسے معاف کر دو، اس نے انکار کیا، تو آپ نے فرمایا: دیت لے لو، اس نے انکار کیا تو آپ نے فرمایا: جاؤ، اسے قتل کر دو، تم بھی اسی جیسے ہو جاؤ گے (گناہ میں)، جب وہ قتل کرنے چلا تو کوئی اس شخص سے ملا اور اس سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، (اگر) اسے قتل کر دو، تم بھی اسی طرح ہو جاؤ گے، چنانچہ اس نے اسے چھوڑ دیا، تو وہ شخص (یعنی قاتل جسے معاف کیا گیا) میرے پاس سے اپنی رسی گھسیٹتے ہوئے گزرا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4734]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنے رشتہ دار کے قاتل کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے معاف کر دے۔ اس نے انکار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت لے لو۔ اس نے پھر انکار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا پھر اسے قتل کر دے، تو بھی اس جیسا ہی ہے۔ وہ اسے لے گیا۔ پیچھے سے کوئی آدمی اسے جا کر ملا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اسے قتل کر دے، تو تو بھی اس جیسا ہی ہو گا۔ تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ آدمی (قاتل) میرے پاس سے گزرا اس حال میں کہ وہ رسی گھسیٹتا ہوا بھاگا جا رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4734]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «قش/الدیات 34 (2691)، (تحفة الأشراف: 451) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن شوذب الخراساني، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن شوذب الخراساني ← ثابت بن أسلم البناني
ثقة
👤←👥ضمرة بن ربيعة الفلسطيني، أبو عبد الله
Newضمرة بن ربيعة الفلسطيني ← عبد الله بن شوذب الخراساني
ثقة
👤←👥عيسى بن يونس الفاخوري، أبو موسى
Newعيسى بن يونس الفاخوري ← ضمرة بن ربيعة الفلسطيني
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2691
اذهب فاقتله فإنك مثله قال فلحق به فقيل له إن رسول الله قد قال اقتله فإنك مثله فخلى سبيله
سنن النسائى الصغرى
4734
اذهب فاقتله فإنك مثله فذهب فلحق الرجل فقيل له إن رسول الله قال اقتله فإنك مثله فخلى سبيله فمر بي الرجل وهو يجر نسعته
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4734 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4734
اردو حاشہ:
رسی گھسیٹتا ہوا گویا اس نے رسی کھولنے کا تکلف بھی نہ کیا۔ اسی طرح بھاگ اٹھا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4734]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2691
قاتل کو معاف کر دینے کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے ولی کے قاتل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے معاف کر دو، اس نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت لے لو اس نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے قتل کر دو اور تم بھی اسی کی طرح ہو جاؤ ۱؎ چنانچہ اس سے مل کر کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جاؤ تم اس کو قتل کر دو تم بھی اس کے مثل ہو جاؤ تو اس نے اسے چھوڑ دیا، قاتل کو اپنے گھر والوں کی طرف اپنا پٹا گھسیٹتے ہوئے جاتے دیکھا گیا، گوی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2691]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مقتول کے وارث کو حق حاصل ہے کہ قاتل سے قصاص لے یا معاف کردے۔

(2)
قتل خطا کی صورت میں قصاص لینا درست نہیں، دیت لی جا سکتی ہے یا معاف کیا جا سکتا ہے۔

(3)
قتل خطا کی صورت میں قصاص لینا خود قتل کرنے کے برابر گناہ ہے۔

(4)
مقتول کے وارث نے پہلے یہ لفظ نہیں سنا تھا:
تو بھی اسی کی طر ح ہے، اس لیے وہ قصاص کی نیت سے لے کر چلا۔
جب ارشاد نبوی معلوم ہوا تو فوراً چھوڑا دیا۔

(5)
نسعۃ سے مراد چمڑے کا پتلا اور لمبا ٹکڑا ہے جورسی کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اردو میں اسے تسمہ بھی کہتے ہیں۔

(6)
حضرت عبدالرحمان بن قاسم  کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کا عذر تسلیم کرلیا تھا، اس لیے قصاص کے طور پر قتل کرنے سے منع فرمایا۔
ہم ظاہر پر عمل کے مکلف ہیں۔
اگر ایسے قرائن و دلائل موجود نہ ہوں جن سے اس کا قتل خطا ثابت ہو تو محض مجرم کے کہنے سے قتل خطا تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

(7)
رملہ والوں کی حدیث کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس حدیث کی جو سندیں ہیں ان سب میں رملہ سے تعلق رکھتے والے راوی موجود ہیں۔
یہ حدیث کی صحت پر شک کا اظہار نہیں بلکہ اس قسم کے نکتے علمائے حدیث کی باریک بینی پر دلالت کرتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2691]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4734 in Urdu