یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب : ذكر اختلاف الناقلين لخبر علقمة بن وائل فيه
باب: اس سلسلہ میں علقمہ بن وائل کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4735
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاق الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَتَلَ أَخِي، قَالَ:" اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ كَمَا قَتَلَ أَخَاكَ"، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: اتَّقِ اللَّهَ وَاعْفُ عَنِّي فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأَجْرِكَ وَخَيْرٌ لَكَ وَلِأَخِيكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: فَخَلَّى عَنْهُ، قَالَ: فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ لَهُ: قَالَ:" فَأَعْنَفَهُ , أَمَا إِنَّهُ كَانَ خَيْرًا مِمَّا هُوَ صَانِعٌ بِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , يَقُولُ: يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي".
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ اس شخص نے میرے بھائی کو مار ڈالا، آپ نے فرمایا: ”جاؤ اسے بھی مار ڈالو جیسا کہ اس نے تمہارے بھائی کو مارا ہے“، اس شخص نے اس سے کہا: اللہ سے ڈرو اور مجھے معاف کر دو، اس میں تمہیں زیادہ ثواب ملے گا اور یہ قیامت کے دن تمہارے لیے اور تمہارے بھائی کے لیے بہتر ہو گا، یہ سن کر اس نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی، آپ نے اس سے پوچھا تو اس نے جو کہا تھا، آپ سے بیان کیا، آپ نے اس سے زور سے فرمایا: ”سنو! یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے جو وہ قیامت کے دن تمہارے ساتھ معاملہ کرتا، وہ کہے گا (قیامت کے دن) اے میرے رب! اس سے پوچھ اس نے مجھے کس جرم میں قتل کیا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4735]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اس آدمی نے میرے بھائی کو قتل کر ڈالا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”جا اسے قتل کر دے، جیسے اس نے تیرے بھائی کو قتل کیا ہے۔“ وہ آدمی (قاتل) کہنے لگا: ”اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مجھے معاف کر دو، اس سے تجھے بہت ثواب ملے گا اور یہ (معافی) تیرے اور تیرے بھائی کے لیے قیامت کے دن بہت اچھی ثابت ہوگی۔“ اس نے اسے چھوڑ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل سے پوچھا تو اس نے مقتول کے وارث سے جو کہا تھا آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا (اور فرمایا:) ”تیرا قتل ہو جانا اس سلوک سے بہتر تھا جو مقتول قیامت کے دن تجھ سے کرے گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! اس سے پوچھیے کہ اس نے کس بنا پر مجھے قتل کیا تھا؟“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1951) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”بشیر“ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یہ واقعہ مذکورہ واقعہ کے علاوہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4735 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4735
اردو حاشہ:
(1) ”تیرا قتل ہو جانا بہتر تھا“ گویا معافی مقتول اور اس کے ولی کے لیے تو بہتر اور افضل ہے مگر قاتل کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ مقتول اور اس کا ولی تو معافی کی وجہ سے جنت میں چلے جائیں گے مگر قاتل کو حساب دینا ہوگا اور عذاب سہنا ہوگا، بخلاف اس کے کہ اگر معاف نہ کیا جاتا اور قاتل کو قتل کر دیا جاتا تو قاتل کا گناہ تو معاف ہو جاتا، البتہ مقتول اور اس کے ولی کی معافی کی کوئی ضمانت نہ ہوتی۔
(2) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عدالت سے سزا ہونے کے بعد بھی قاتل، مقتول کے وارث سے معافی کی درخواست کر سکتا ہے اور وہ چاہے تو معاف کر سکتا ہے کیونکہ یہ خالصتاً اسی کا حق ہے۔ اور یہ صرف قتل کے مسئلے میں ہے۔ چوری وغیرہ کے مسئلے میں عدالت میں کیس آنے سے پہلے تو معاف کر سکتا ہے بعد میں نہیں۔ جیسا کہ دوسری حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔ واللہ أعلم
(1) ”تیرا قتل ہو جانا بہتر تھا“ گویا معافی مقتول اور اس کے ولی کے لیے تو بہتر اور افضل ہے مگر قاتل کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ مقتول اور اس کا ولی تو معافی کی وجہ سے جنت میں چلے جائیں گے مگر قاتل کو حساب دینا ہوگا اور عذاب سہنا ہوگا، بخلاف اس کے کہ اگر معاف نہ کیا جاتا اور قاتل کو قتل کر دیا جاتا تو قاتل کا گناہ تو معاف ہو جاتا، البتہ مقتول اور اس کے ولی کی معافی کی کوئی ضمانت نہ ہوتی۔
(2) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عدالت سے سزا ہونے کے بعد بھی قاتل، مقتول کے وارث سے معافی کی درخواست کر سکتا ہے اور وہ چاہے تو معاف کر سکتا ہے کیونکہ یہ خالصتاً اسی کا حق ہے۔ اور یہ صرف قتل کے مسئلے میں ہے۔ چوری وغیرہ کے مسئلے میں عدالت میں کیس آنے سے پہلے تو معاف کر سکتا ہے بعد میں نہیں۔ جیسا کہ دوسری حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4735]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4735 in Urdu
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي