سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب : ما لا قطع فيه
باب: جن چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 4977
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: قَال جَابِرٌ:" لَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ: عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، وَابْنُ وَهْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَمَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، وَسَلَمَةُ بْنُ سَعِيدٍ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ، قَالَ ابْنُ أَبِي صَفْوَانَ: وَكَانَ خَيْرَ أَهْلِ زَمَانِهِ، فَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، وَلَا أَحْسَبُهُ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اس حدیث کو ابن جریج سے: عیسیٰ بن یونس، فضل بن موسیٰ، ابن وہب، محمد بن ربیعہ، مخلد بن یزید اور سلمہ بن سعید، یہ بصریٰ ہیں اور ثقہ ہیں، نے روایت کیا ہے۔ ابن ابی صفوان کہتے ہیں - اور یہ سب اپنے زمانے کے سب سے بہتر آدمی تھے: ان میں سے کسی نے «حدثنی ابوالزبیر» یعنی ”مجھ سے ابوالزبیر نے بیان کیا“ نہیں کہا۔ اور میرا خیال ہے ان میں سے کسی نے ابوالزبیر سے اسے سنا بھی نہیں ہے، واللہ اعلم ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4977]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا: عیسیٰ بن یونس، فضل بن موسیٰ، ابن وہب، محمد بن ربیعہ، مخلد بن یزید اور سلمہ بن سعید جو کہ بصری اور ثقہ ہیں (اور جن کے بارے میں محمد بن عثمان) ابن ابوصوان نے کہا ہے کہ وہ (سلمہ بن سعید) اپنے زمانے کے بہترین شخص تھے، ان سب نے ابن جریج سے یہ (مذکورہ) روایت بیان کی ہے لیکن ان (چھ جلیل القدر اور ثقہ اہل علم میں سے کسی ایک نے بھی) ”حدثنی ابو الزبیر“ نہیں کہا، اور میرا نہیں خیال کہ اس (ابن جریج) نے ابوالزبیر سے سنا ہو۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4977]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4975 (ضعیف) (اس کے مقابل صحیح مرفوع حدیث ہے)۔»
وضاحت: ۱؎: لیکن اگلی سند کے ”مغیرہ بن مسلم“ کا ابوالزبیر سے سماع ثابت ہے، نیز اس حدیث کے دیگر صحیح شواہد بھی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف والصحيح مرفوع
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1448
| ليس على خائن منتهب مختلس قطع |
سنن أبي داود |
4391
| ليس على المنتهب قطع من انتهب نهبة مشهورة فليس منا |
سنن أبي داود |
4392
| ليس على الخائن قطع |
سنن ابن ماجه |
2591
| لا يقطع الخائن المنتهب المختلس |
سنن النسائى الصغرى |
4975
| ليس على خائن منتهب مختلس قطع |
سنن النسائى الصغرى |
4976
| ليس على خائن منتهب مختلس قطع |
سنن النسائى الصغرى |
4977
| ليس على المختلس قطع |
سنن النسائى الصغرى |
4979
| ليس على مختلس منتهب خائن قطع |
بلوغ المرام |
1057
| ليس على خائن ولا مختلس ولا منتهب قطع |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4977 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4977
اردو حاشہ:
امام نسائی رحمہ اللہ کے کلام کا ما حاصل یہ ہے کہ یہ روایت سندا منقطع ہے۔ انھوں نے ابو الزبیر سےابن جریج کے، یہ روایت سننے کی نفی کی ہے۔ امام نسائی کا کہنا ہے کہ مذکورہ چھ جید اہل علم نے ابن جریج سے یہ روایت تو بیان کی ہے لیکن ان میں سےکسی نے بھی ابو الزبیر سے ان کے سماع (سننے) کی تصریح نہیں کی، اس لیے یہ روایت منقطع، یعنی ضغیف ہے۔یہ ہے امام نسائی رحمہ اللہ کا رجحان لیکن مذکورہ چھ اہل علم کا ابن جریج کے ابو الزبیر سے مذکورہ حدیث کے سماع کی تصریح سے ان محدثین کےاثبات تصریح کی نفی نہیں ہو سکتی جنھوں نے ابن جریج کے ابو الزبیر سے، مذکورہ حدیث سننے کی تصریح کی ہے۔ ویسے بھی اثبات کرنے والا نفی کرنے والے سےمقدم ہوتا ہے کیونکہ جس شخص کو بات یاد ہوتی ہے وہ اس شخص کے مقابلے میں حجت ہوتا ہےجسے بات یاد نہیں ہوتی۔ یہ مسلمہ اصول ہے۔ محقق العصر شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے صحیح سند سے ابن جریج کے ابو الزبیر سےسماع کی تصریح کی ہے جیسا کہ پہلے بھی ارشاد کیا گیا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي للأ تیوبي: 99/37۔101،والمصنف لعبد الرزاق: 206/10) مصنف عبد الرزاق کے الفاظ توسماع میں بالکل واضح اور دوٹوک ہیں جو یہ ہیں: عن ابن جریج، قال: قال لي أبو الزبیر، یعنی ابن جریج نے کہا ہےکہ مجھے ابو الزبیر نے کہا، پھر مذکورہ روایت بیان کی، لہذا جب صحیح طور پر تحدیث وسماع کی صراحت موجود ہے تو یقینا اسے ہی تر جیح حاصل ہو گی۔
امام نسائی رحمہ اللہ کے کلام کا ما حاصل یہ ہے کہ یہ روایت سندا منقطع ہے۔ انھوں نے ابو الزبیر سےابن جریج کے، یہ روایت سننے کی نفی کی ہے۔ امام نسائی کا کہنا ہے کہ مذکورہ چھ جید اہل علم نے ابن جریج سے یہ روایت تو بیان کی ہے لیکن ان میں سےکسی نے بھی ابو الزبیر سے ان کے سماع (سننے) کی تصریح نہیں کی، اس لیے یہ روایت منقطع، یعنی ضغیف ہے۔یہ ہے امام نسائی رحمہ اللہ کا رجحان لیکن مذکورہ چھ اہل علم کا ابن جریج کے ابو الزبیر سے مذکورہ حدیث کے سماع کی تصریح سے ان محدثین کےاثبات تصریح کی نفی نہیں ہو سکتی جنھوں نے ابن جریج کے ابو الزبیر سے، مذکورہ حدیث سننے کی تصریح کی ہے۔ ویسے بھی اثبات کرنے والا نفی کرنے والے سےمقدم ہوتا ہے کیونکہ جس شخص کو بات یاد ہوتی ہے وہ اس شخص کے مقابلے میں حجت ہوتا ہےجسے بات یاد نہیں ہوتی۔ یہ مسلمہ اصول ہے۔ محقق العصر شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے صحیح سند سے ابن جریج کے ابو الزبیر سےسماع کی تصریح کی ہے جیسا کہ پہلے بھی ارشاد کیا گیا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي للأ تیوبي: 99/37۔101،والمصنف لعبد الرزاق: 206/10) مصنف عبد الرزاق کے الفاظ توسماع میں بالکل واضح اور دوٹوک ہیں جو یہ ہیں: عن ابن جریج، قال: قال لي أبو الزبیر، یعنی ابن جریج نے کہا ہےکہ مجھے ابو الزبیر نے کہا، پھر مذکورہ روایت بیان کی، لہذا جب صحیح طور پر تحدیث وسماع کی صراحت موجود ہے تو یقینا اسے ہی تر جیح حاصل ہو گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4977]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4979
جن چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اشعث بن سوار ضعیف ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4979]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اشعث بن سوار ضعیف ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4979]
اردو حاشہ:
امام نسائی رحمہ اللہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اشعث بن سوار کی حضرت جابر سے بیان کردہ موقوف روایت ضعیف ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اشعث بن سوار خود ضعیف راوی ہے۔ محدثین عظام اس کی روایت کو قابل حجت نہیں سمجھتے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اشعث نے اس روایت کو، ثقات کی مخالفت کرتے ہوئے موقوف بیان کیا ہے جبکہ دیگر ثقہ راوی اسے مرفوع بیان کرتے ہیں، لہذا مخالفت ثقات کی وجہ سے یہ روایت منکر (ضعیف) ٹھہری۔ واللہ أعلم۔ یہ مسئلہ سند کی حد تک ہے، تاہم اس سند کے ضعیف ہونےکے باوجود مسئلہ بعینہ اسی طرح ہے جس طرح دیگر صحیح احادیث میں بیان ہوا کہ خائن، لٹیرے اورجھپٹا مار کر چیز چھیننے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
امام نسائی رحمہ اللہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اشعث بن سوار کی حضرت جابر سے بیان کردہ موقوف روایت ضعیف ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اشعث بن سوار خود ضعیف راوی ہے۔ محدثین عظام اس کی روایت کو قابل حجت نہیں سمجھتے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اشعث نے اس روایت کو، ثقات کی مخالفت کرتے ہوئے موقوف بیان کیا ہے جبکہ دیگر ثقہ راوی اسے مرفوع بیان کرتے ہیں، لہذا مخالفت ثقات کی وجہ سے یہ روایت منکر (ضعیف) ٹھہری۔ واللہ أعلم۔ یہ مسئلہ سند کی حد تک ہے، تاہم اس سند کے ضعیف ہونےکے باوجود مسئلہ بعینہ اسی طرح ہے جس طرح دیگر صحیح احادیث میں بیان ہوا کہ خائن، لٹیرے اورجھپٹا مار کر چیز چھیننے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4979]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1448
خائن، اچکے اور لٹیرے (ڈاکو) کا بیان۔
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے، ڈاکو اور اچکے کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1448]
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے، ڈاکو اور اچکے کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1448]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کسی محفوظ جگہ سے جہاں مال اچھی طرح سے چھپا کر رکھا گیا مال چُرانا سرقہ ہے اور خیانت،
اچکنا اور ڈاکہ زنی یہ سب کے سب سرقہ کی تعریف سے خارج ہیں،
لہٰذا ان کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے،
خائن اسے کہتے ہیں جو خفیہ طریقہ پر مال لیتا رہے اور مالک کے ساتھ خیر خواہی اور ہمدردی کا اظہا رکرے۔
حدیث میں مذکورہ جرائم پر حاکم جو مناسب سزا تجویز کرے گا وہ نافذ کی جائے گی۔
وضاحت:
1؎:
کسی محفوظ جگہ سے جہاں مال اچھی طرح سے چھپا کر رکھا گیا مال چُرانا سرقہ ہے اور خیانت،
اچکنا اور ڈاکہ زنی یہ سب کے سب سرقہ کی تعریف سے خارج ہیں،
لہٰذا ان کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے،
خائن اسے کہتے ہیں جو خفیہ طریقہ پر مال لیتا رہے اور مالک کے ساتھ خیر خواہی اور ہمدردی کا اظہا رکرے۔
حدیث میں مذکورہ جرائم پر حاکم جو مناسب سزا تجویز کرے گا وہ نافذ کی جائے گی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1448]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4977 in Urdu
مخلد بن يزيد الحراني ← سلمة بن سعيد البصري