🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ : حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ
باب: آدمی کے اسلام کی اچھائی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5001
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَسْلَمَ الْعَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ كُلَّ حَسَنَةٍ كَانَ أَزْلَفَهَا، وَمُحِيَتْ عَنْهُ كُلُّ سَيِّئَةٍ كَانَ أَزْلَفَهَا، ثُمَّ كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ الْقِصَاصُ , الْحَسَنَةُ بِعَشْرَةِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا إِلَّا أَنْ يَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی بندہ اسلام قبول کر لے اور اچھی طرح مسلمان ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر نیکی لکھ لیتا ہے جو اس نے کی ہو اور اس کی ہر برائی مٹا دی جاتی ہے جو اس نے کی ہو، پھر اس کے بعد یوں ہوتا ہے کہ بھلائی کا بدلہ اس کے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہوتا ہے، اور برائی کا بدلہ اتنا ہی ہوتا ہے“ (جتنی اس نے کی) سوائے اس کے کہ اللہ معاف ہی کر دے (تو کچھ بھی نہیں ہوتا)۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5001]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص مسلمان ہو جائے اور اچھا مسلمان بن جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر وہ نیکی (اس کے نامہ اعمال میں) لکھ دیتا ہے جو اس نے اپنے دور جاہلیت میں کی ہوتی ہے اور اس کا ہر وہ گناہ معاف کر دیا جاتا ہے جو اس نے اس سے پہلے کیا ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد (اس کو اس کے اعمال کا) بدلہ ملے گا۔ نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک ہو گا اور برائی کا بدلہ برائی کے برابر ہی ہو گا۔ ہاں! اللہ عزوجل چاہے تو اسے بھی معاف فرما دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5001]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 31 (41 تعلیقا)، (تحفة الأشراف: 4175) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← زيد بن أسلم القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
👤←👥صفوان بن صالح الثقفي، أبو عبد الملك
Newصفوان بن صالح الثقفي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥أحمد بن المعلى الأسدي، أبو بكر
Newأحمد بن المعلى الأسدي ← صفوان بن صالح الثقفي
صدوق حسن الحديث
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5001 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5001
اردو حاشہ:
(1) ”اچھا مسلمان بن جائے“ یعنی اس کا دل بھی اس کی زبان سے موافق ہے جائے اور اس کا اسلام زبان سے گزر کر دل اورتمام جسمانی اعضاء تک پہنچ جائے۔ وہ کھرا، سچا اور سچا مسلمان بن جائے، ظاہرا بھی اور باطنا بھی، یعنی نہ و ہ منافق رہے اور نہ فاسق۔
(6) ”لکھ دیتا ہے“ گویا کافر کی نیکیاں تب ضائع ہوتی ہیں جب وہ کفر پر مرتا ہے۔ اگر اسے ہدایت مل جائے تواللہ تعالی اسے کی گزشتہ نیکیاں باقی رکھتا ہے۔ یہ اللہ تعالی کا احسان اور فضل وکرم ہے ورنہ نیکی کی قبولیت کے لیے شرط ہے کہ وہ ایمان کی حالت میں ہو، مگر تفضل اور احسان کے لیے کوئی شرط نہیں ہوتی۔ جس طرح نیکی کا بدلہ سات سو گنا تک ملنا بھی اللہ تعالی کا فضل واحسان ہی ہے ورنہ عقل تو اس باب کا تقاضا نہیں کرتی۔
(3) ”جزاو سزا“ یعنی اسلام لانے سے پہلے کے گناہ تو معاف ہو جاتے ہیں لیکن اسلام لانے کے بعد والے گناہوں کا بدلہ ملےگا، الا یہ کہ اللہ تعالی معاف فرما دے تو اس کا فضل ہوگا۔ (لا یسئل عما یفعل وھم یسئلون) (الانبیاء21:23) اور اللہ تعالی کے فضل ہی کی امید رکھنی چاہیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5001]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5001 in Urdu