🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب : أى الإسلام أفضل
باب: کون سا اسلام سب سے بہتر ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5002
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ وَهَوَ بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5002]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 5 (11)، صحیح مسلم/الإیمان 14 (42)، سنن الترمذی/القیامة 52 (2504)، (تحفة الأشراف: 9041) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: کون سا مسلمان سب سے اچھا ہے؟ یا اسلام والا کون آدمی سب سے اچھا ہے۔ ۲؎: یہ کئی بار گزر چکا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سائل کے اپنے خاص احوال، یا سوال کے خاص تناظر میں اسی کے حساب سے جواب دیا کرتے تھے، کسی کے لیے کسی عمل پر تنبیہ مقصود تھی تو کسی کے لیے کسی اور عمل کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥بريد بن عبد الله الأشعري، أبو بردة
Newبريد بن عبد الله الأشعري ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأموي، أبو أيوب
Newيحيى بن سعيد الأموي ← بريد بن عبد الله الأشعري
ثقة
👤←👥سعيد بن يحيى الأموي، أبو عثمان
Newسعيد بن يحيى الأموي ← يحيى بن سعيد الأموي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
11
المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده
صحيح مسلم
163
المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده
جامع الترمذي
2504
المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده
جامع الترمذي
2628
المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده
سنن النسائى الصغرى
5002
المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5002 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5002
اردو حاشہ:
اس باب سے مصنف رح کا مقصود یہ ہے کہ سب مسلمان اسلام وایمان میں برابر نہیں ہو تے بلکہ کسی کا اسلام وایمان زیادہ ہوتا ہے،کسی کا کم۔ اور یہ کمی بیشی اعمال کے لحاظ سے بھی ہوتی ہے اور قلبی کیفیت کے لحاظ سے بھی۔کو ن سا اسلام افضل ہے مطلب یہ ہے کہ اہل اسلام میں سے کون افضل ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5002]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 11
حقیقت کے لحاظ سے ایمان اور اسلام ایک ہی ہیں
«. . . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ . . .»
. . . لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں رہیں . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 11]
تشریح:
چونکہ حقیقت کے لحاظ سے ایمان اور اسلام ایک ہی ہیں، اس لیے «اي الاسلام افضل» کے سوال سے معلوم ہوا کہ ایمان کم و بیش ہوتا ہے۔ افضل کے مقابلہ پر ادنیٰ ہے۔ پس اسلام ایمان، اعمال صالحہ و اخلاق پاکیزہ کے لحاظ سے کم و زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ یہی حضرت امام کا یہاں مقصد ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 11]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2504
باب:۔۔۔
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا گیا کہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2504]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎:
زبان سے محفوظ رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنی زبان سے کسی مسلمان کی طعن وتشنیع،
غیبت چغلخوری،
بہتان تراشی نہ کرے،
نہ ہی اسے گالی گلوج دے،
اور ہاتھ سے محفوظ رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے نہ کسی کو مارے،
نہ قتل کرے،
نہ ناحق کسی کی کوئی چیز توڑے،
اور نہ ہی باطل افکار پر مشتمل کوئی تحریر لکھے جس سے کہ لوگ گمراہ ہوں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2504]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:11
11. حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا (صاحب) اسلام افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:11]
حدیث حاشیہ:

اَيُّ کا مضاف الیہ وہ چیز ہوتی ہے جس میں تعدد ہولیکن اسلام مفرد ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں حذف مضاف ہے۔
اصل عبارت کو ہم نے ترجمہ کرتے وقت ظاہر کردیا ہے۔
یعنی(اَيُّ صَاحِبِ الاِسلَامِ اَفضَلُ)
گویا سوال ذات سے متعلق ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جواب بھی ذات سے دیا جا رہا ہے۔
اس كی تائید ایک دوسری روایت سے بھی ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
کون سامسلمان افضل ہے۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 163(42)
ایسا کرنے سے سوال وجواب میں مطابقت ہوجاتی ہے۔

صحیح مسلم کی اسی روایت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے والے خود راوی حدیث حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کا سوال حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمیر بن قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کیا تھا۔
ان روایات میں تضاد نہیں ہے کیونکہ کبھی انھوں نے نام کی صراحت کردی اور کبھی اس سوال کو دوسرے لوگوں کی طرف منسوب کیا کیونکہ وہ اس سوال سے متفق تھے اورکسی سے متفق ہونا گویا خود اس کا سوال کرنا ہے۔
(فتح الباري: 77/1)

اس روایت سے پہلی حدیث کی وضاحت بھی ہوجاتی ہے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ حصر باعتبار حقیقت کے ہے۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ حصر باعتبار حقیقت کے نہیں بلکہ کمال کے لحاظ سے ہے، یعنی مسلمانوں کے مراتب میں فرق ہے کچھ اکمل ہیں اور کچھ کامل ہیں، یعنی وہ مسلمان جو دیگراسلامی شعائر کے ساتھ روایت میں ذکرکردہ وصف کا بھی حامل ہو، وہ افضل اوراکمل ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 11]