Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66. باب : تصفير اللحية بالورس والزعفران
باب: ورس اور زعفران سے داڑھی پیلی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5246
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَيُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ" , وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کا جوتا پہنتے اور اپنی داڑھی ورس اور زعفران سے پیلی کرتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5246]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 19 (4210)، (تحفة الأشراف: 7762)، مسند احمد (2/114) (صحیح الٕهسناد)»
وضاحت: ۱؎: دیکھئیے حاشیہ حدیث نمبر ۵۰۸۸۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبد العزيز بن أبي رواد المكي
Newعبد العزيز بن أبي رواد المكي ← نافع مولى ابن عمر
صدوق ربما وهم، ورمي بالإرجاء
👤←👥عمرو بن محمد العنقزي، أبو سعيد
Newعمرو بن محمد العنقزي ← عبد العزيز بن أبي رواد المكي
ثقة
👤←👥عبدة بن عبد الرحيم المروزي، أبو سعيد
Newعبدة بن عبد الرحيم المروزي ← عمرو بن محمد العنقزي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3626
يصفر لحيته
سنن النسائى الصغرى
5088
يصفر بها لحيته ولم يكن شيء من الصبغ أحب إليه منها ولقد كان يصبغ بها ثيابه كلها حتى عمامته
سنن النسائى الصغرى
5246
يصفر لحيته
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
117
يلبسها يتوضأ فيها
سنن النسائى الصغرى
5246
يلبس النعال السبتية يصفر لحيته بالورس والزعفران
سنن أبي داود
4210
يلبس النعال السبتية يصفر لحيته بالورس والزعفران
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5246 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5246
اردو حاشہ:
(1) سبتی جوتے دباغت شدہ چمڑے سے بنائے گئے جوتوں کو کہتے ہیں۔ ان پر بال نہیں ہوتے۔ عرب میں بالوں سمیت چمڑے کے جوتوں کا بھی رواج تھا۔ ان کے مقابلے میں سبتی جوتوں کو قیمتی سمجھا جاتا تھا۔ ان کے پہننے میں کوئی حرج نہیں۔
(2) ورس و زعفران رنگ دارخوشبو ئیں ہیں۔ ان کا استعمال مرد کے لیے جسم میں تو درست نہیں، البتہ بالوں کو رنگا جا سکتا ہے باقی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈاڑھی کورنگنا تو اس کی تفصیل کےلیے دیکھیے حدیث: 5082، 5089 اور 5118۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5246]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5088
پیلا (زرد) خضاب لگانے کا بیان۔
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی ڈاڑھی خلوق سے پیلی کرتے تھے، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! آپ اپنی ڈاڑھی خلوق سے پیلی کرتے ہیں؟ کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس سے اپنی ڈاڑھی پیلی کرتے تھے، اور کوئی بھی رنگ آپ کو اس سے زیادہ پسند نہیں تھا، آپ اس سے اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ اپنی پگڑی بھی رنگتے تھے ۲؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابوقتیبہ کی حدیث کے مقابلے میں یہ زیادہ قرین صواب ہے ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5088]
اردو حاشہ:
(1) امام نسائی رحمہ اللہ کا مذکورہ قول، سنن نسائی کے مختلف نسخوں میں مختلف انداز میں درج ہے۔ ایک نسخے میں الفاظ ہیں: وهذا اولى بالصواب من حديث ابي قبية۔ ہندی نسخے میں الفاظ ہیں: وهذا ولى بالصواب من الذي قبله۔ ایک نسخے میں یہ الفاظ ہیں: وهذا اولى بالصواب من حديث قبية۔ شارح سنن النسائی علامہ محمد بن علی اتیوبی رحمہ اللہ نے آخری الفاظ کو درست قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے (ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائی:38؍87) واللہ أعلم۔
(2) خلوق ایک زنانہ خوشبو ہے جو زعفران وغیرہ کو ملا کر بنائی جاتی ہے۔ رنگ زرد سرخ ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ عورتوں کے استعمال میں آتی ہے، اس لیے مردوں کو اس سے روکا بھی گیا ہے۔ شاید بیان جواز کے لیے آپ نے کبھی کبھار ایک آدھ بارا سے استعمال فرمایا ہو۔ مردوں کے لیے اس کا استعمال مناسب نہیں ہے۔ ہاں کوئی اور خوشبو نہ ملے تو مجبوری کی حالت میں کبھی کبھی استعمال ہوجائے تو گنجائش ہے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5088]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3626
خضاب میں زرد رنگ کے استعمال کا بیان۔
عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میں آپ کو اپنی داڑھی ورس سے زرد (پیلی) کرتے دیکھتا ہوں؟، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اس لیے زرد (پیلی) کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی داڑھی زرد (پیلی) کرتے دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3626]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
ڈاڑھی کا رنگ تبدیل کرنے کے لئے جس طرح مہندی کے ذریعےسے سرخی کرنا جائز ہے اسی طرح زرد رنگ کرنا بھی درست ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3626]