یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب ما جاء في خضاب الصفرة
باب: پیلے رنگ کے خضاب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4210
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَيُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھال کی سبتی جوتیاں پہنتے تھے جس پر بال نہیں ہوتے تھے، اور اپنی داڑھی ورس ۱؎ اور زعفران سے رنگتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4210]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”سبتی (رنگی ہوئی کھال سے بنے ہوئے) جوتے استعمال کیا کرتے تھے اور اپنی ڈاڑھی کو ورس اور زعفران بھی لگاتے تھے۔“ چنانچہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بھی یہی عمل تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4210]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزینة من المجتبی 12 (5246)، (تحفة الأشراف: 7762)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/114) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ورس ایک قسم کی گھاس ہے جس سے رنگتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (5246 وسنده حسن)
أخرجه النسائي (5246 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
117
| يلبسها يتوضأ فيها |
سنن النسائى الصغرى |
5246
| يلبس النعال السبتية يصفر لحيته بالورس والزعفران |
سنن أبي داود |
4210
| يلبس النعال السبتية يصفر لحيته بالورس والزعفران |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4210 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4210
فوائد ومسائل:
بعض علماء نے ان احادیث کی روشنی میں ورس اور زعفران کی نہی کو تنزیہ پر محمول کیا ہے۔
بعض علماء نے ان احادیث کی روشنی میں ورس اور زعفران کی نہی کو تنزیہ پر محمول کیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4210]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 117
جوتا پہنے ہوئے وضو کرنے کا بیان۔
عبید بن جریج کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ چمڑے کی ان سبتی جوتوں کو پہنتے ہیں، اور اسی میں وضو کرتے ہیں؟ ۱؎ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں پہنتے اور ان میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، سبتی جوتوں سے مراد بالوں کے بغیر نری کے چمڑے کی جوتیاں ہیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 117]
عبید بن جریج کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ چمڑے کی ان سبتی جوتوں کو پہنتے ہیں، اور اسی میں وضو کرتے ہیں؟ ۱؎ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں پہنتے اور ان میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، سبتی جوتوں سے مراد بالوں کے بغیر نری کے چمڑے کی جوتیاں ہیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 117]
117۔ اردو حاشیہ:
➊ ”جوتوں میں وضو“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر جوتے پہنے ہوئے ہوں اور وہ بند نہ ہوں بلکہ چپل نما ہوں جن میں وضو کیا جا سکتا ہو تو پاؤں کو دھونا ضروری ہے۔
➋ «النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ» سے مراد صاف چمڑے کے جوتے ہیں۔ چمڑے کو دبغت دے کر (رنگ کر) بالوں سے مکمل صاف کر لیا جاتا ہے، اس طرح چمڑا صاف ہونے کے ساتھ ساتھ نرم بھی ہو جاتا ہے۔ یہ جوتے خوب صورت اور آرام دہ ہوتے ہیں۔
➊ ”جوتوں میں وضو“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر جوتے پہنے ہوئے ہوں اور وہ بند نہ ہوں بلکہ چپل نما ہوں جن میں وضو کیا جا سکتا ہو تو پاؤں کو دھونا ضروری ہے۔
➋ «النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ» سے مراد صاف چمڑے کے جوتے ہیں۔ چمڑے کو دبغت دے کر (رنگ کر) بالوں سے مکمل صاف کر لیا جاتا ہے، اس طرح چمڑا صاف ہونے کے ساتھ ساتھ نرم بھی ہو جاتا ہے۔ یہ جوتے خوب صورت اور آرام دہ ہوتے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 117]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5246
ورس اور زعفران سے داڑھی پیلی کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کا جوتا پہنتے اور اپنی داڑھی ورس اور زعفران سے پیلی کرتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5246]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کا جوتا پہنتے اور اپنی داڑھی ورس اور زعفران سے پیلی کرتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5246]
اردو حاشہ:
(1) ”سبتی جوتے“ دباغت شدہ چمڑے سے بنائے گئے جوتوں کو کہتے ہیں۔ ان پر بال نہیں ہوتے۔ عرب میں بالوں سمیت چمڑے کے جوتوں کا بھی رواج تھا۔ ان کے مقابلے میں سبتی جوتوں کو قیمتی سمجھا جاتا تھا۔ ان کے پہننے میں کوئی حرج نہیں۔
(2) ورس و زعفران رنگ دارخوشبو ئیں ہیں۔ ان کا استعمال مرد کے لیے جسم میں تو درست نہیں، البتہ بالوں کو رنگا جا سکتا ہے باقی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈاڑھی کورنگنا تو اس کی تفصیل کےلیے دیکھیے حدیث: 5082، 5089 اور 5118۔
(1) ”سبتی جوتے“ دباغت شدہ چمڑے سے بنائے گئے جوتوں کو کہتے ہیں۔ ان پر بال نہیں ہوتے۔ عرب میں بالوں سمیت چمڑے کے جوتوں کا بھی رواج تھا۔ ان کے مقابلے میں سبتی جوتوں کو قیمتی سمجھا جاتا تھا۔ ان کے پہننے میں کوئی حرج نہیں۔
(2) ورس و زعفران رنگ دارخوشبو ئیں ہیں۔ ان کا استعمال مرد کے لیے جسم میں تو درست نہیں، البتہ بالوں کو رنگا جا سکتا ہے باقی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈاڑھی کورنگنا تو اس کی تفصیل کےلیے دیکھیے حدیث: 5082، 5089 اور 5118۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5246]
Sunan Abi Dawud Hadith 4210 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي