🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب : كيف يستحلف الحاكم
باب: حاکم قسم (حلف) کیسے لے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5428
أَخْبَرَنَا سَوُّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ يَعْنِي مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:" مَا أَجْلَسَكُمْ؟" , قَالُوا: جَلَسْنَا نَدْعُو اللَّهَ , وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِدِينِهِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِكَ، قَالَ:" آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟"، قَالُوا: آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، قَالَ:" أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهَمَةً لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے حلقے کی طرف نکل کر آئے اور فرمایا: کیوں بیٹھے ہو؟ وہ بولے: ہم بیٹھے ہیں، اللہ سے دعا کر رہے ہیں، اس کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے دین کی ہدایت بخشی اور آپ کے ذریعے ہم پر احسان فرمایا، آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ۲؎ تم اسی لیے بیٹھے ہو؟ وہ بولے: اللہ کی قسم! ہم اسی لیے بیٹھے ہیں، آپ نے فرمایا: سنو، میں نے تم سے قسم اس لیے نہیں لی کہ تمہیں جھوٹا سمجھا، بلکہ میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں پر تمہاری وجہ سے فخر کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5428]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ایک حلقے پر تشریف لائے اور فرمایا: تم یہاں کس لیے بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم بیٹھے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کر رہے ہیں اور اس کی تعریف کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے دین کی رہنمائی فرمائی اور آپ کو بھیج کر ہم پر عظیم احسان فرمایا۔ آپ نے فرمایا: کیا اللہ کی قسم! تم صرف اسی لیے بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! ہم صرف اسی لیے بیٹھے ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں نے تم سے کسی شک و الزام وغیرہ کی بنا پر قسم نہیں لی، بلکہ بات یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر فرما رہا ہے (کہ یہ میری مخلوق ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الدعوات (الذکر والدعاء) 11 (2701)، سنن الترمذی/الدعوات 7 (3379)، (تحفة الأشراف: 11416)، مسند احمد (4/92) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جب کسی معاملہ میں قاضی کو قسم لینے کی ضرورت ہو تو کن الفاظ کے ساتھ قسم لے۔ ۲؎: اسی لفظ میں باب سے مناسبت ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم لفظ «واللہ» سے قسم کھایا یا لیا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاوية بن أبي سفيان الأموي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد
Newأبو سعيد الخدري ← معاوية بن أبي سفيان الأموي
صحابي
👤←👥أبو عثمان النهدي، أبو عثمان
Newأبو عثمان النهدي ← أبو سعيد الخدري
ثقة ثبت
👤←👥عبد ربه السعدي، أبو نعامة
Newعبد ربه السعدي ← أبو عثمان النهدي
ثقة
👤←👥مرحوم بن عبد العزيز الأموي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو بشر
Newمرحوم بن عبد العزيز الأموي ← عبد ربه السعدي
ثقة
👤←👥سوار بن عبد الله العنبري، أبو عبد الله
Newسوار بن عبد الله العنبري ← مرحوم بن عبد العزيز الأموي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
5428
الله يباهي بكم الملائكة
صحيح مسلم
6857
الله يباهي بكم الملائكة
جامع الترمذي
3379
الله يباهي بكم الملائكة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5428 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5428
اردو حاشہ:
(1) امام نسائی ؒ نے جو باب قائم کیا ہے اس کا مقصد قسم اٹھوانے کی کیفیت بیان کرنا ہے کہ قسم کن الفاظ سے اٹھوائی جائے گی۔
(2) اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور عظمت و بزرگی بیان کرنے کے لیے مسجد انتہائی موزوں ومناسب جگہ ہوتی ہے۔ وہاں نہ تو خرید و فروخت جائز ہے اور نہ دیگر عام گپ شپ لگانا ہی درست ہے بلکہ وہاں اللہ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تحمید ہی کی جانی مشروع ہے۔ انسان کو وہاں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات یاد کر کے اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
(3) مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بن کر رہے‘ ایک تو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور دوسرا اس لیے کہ اسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنایا۔ اہل ایمان کے لیے اس سے بڑی عظمت اور اس سے بڑھ کر فخر کی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ وہ ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ﴾ (اٰل عمران: 3:110) اور ﴿جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾ (البقرة: 2:143) کا مصداق قرار پائے۔
(4) درس و تدریس اور وعظ وذکر کی مجالس یقینًا نہایت پسندیدہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر فخر کرتا ہے بدعی اور شرکیہ مجالس اس کے برعکس اللہ کی ناراضی کا باعث ہوں گی۔
(5) آپ کا مقصود یہ ہے کہ میں نے تمھارے فعل کی اہمیت کے پیش نظر تم سے قسم لی ہے‘ نہ کہ شک و شبہ کی بنا پر۔
(6) حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم لینی چاہیے اور صرف اتنا کافی ہے۔ بعض لوگ قسم کے الفاظ میں تغلیظ کے قائل ہیں‘ یعنی کہ ساتھ اللہ تعالیٰ کے اوصاف بھی ملائے جائیں تا کہ قسم کی عظمت جاگزین ہو جائے اور قسم کھانے والا جھوٹی قسم نہ کھائے۔ ظاہر ہے اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہ بھی وعظ کے قائم مقام ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5428]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3379
ایک جگہ بیٹھ کر ذکر الٰہی کرنے والوں کی فضیلت کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ مسجد گئے (وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں سے) پوچھا: تم لوگ کس لیے بیٹھے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: کیا! قسم اللہ کی! تم کو اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی، ہم اسی مقصد سے یہاں بیٹھے ہیں، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے تم لوگوں پر کسی تہمت کی بنا پر قسم نہیں کھلائی ہے ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میرے جیسا مقام و منزلت رکھنے والا کوئی شخص مجھ سے کم (ادب و احتیاط کے سبب) آپ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3379]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی:
بات یہ نہیں ہے کہ میں آپ لوگوں کی ثقاہت کے بارے میں مطمئن نہیں ہوں اس لیے قسم کھلائی ہے،
بلکہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح صحابہ سے قسم لیکر یہ حدیث بیان فرمائی تھی،
اسی اتباع میں،
میں نے بھی آپ لوگوں کو قسم کھلائی ہے،
حدیثوں کی روایت کا یہ بھی ایک انداز ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کیفیت کے ساتھ حدیث بیان کی ہوتی ہے،
صحابہ سے لے کر اخیر سند تک کے سارے راوی اسی طرح روایت کرتے ہیں،
اس سے حدیث کی صحت پر اور زیادہ یقین بڑھ جاتا ہے (اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی شک وشبہ کی بنا پران سے قسم نہیں لی تھی،
بلکہ بیان کی جانے والی بات کی اہمیت جتانے کے لیے ایک اسلوب اختیارکیا تھا)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3379]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6857
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں قائم ایک حلقہ میں پہنچے اورپوچھا،تم لوگ یہاں کیوں یا کس لیے بیٹھے ہو؟ وہ بولے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے بیٹھے ہیں۔ سیدنا معاویہ ؓ نے کہا اللہ کی قسم! کیا تم اسی لئے بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم! صرف اللہ کے ذکر کے لئے بیٹھے ہیں۔ سیدنا معاویہ ؓ نے کہا کہ میں نے تمہیں اس لئے قسم نہیں دی کہ تمہیں جھوٹا سمجھا اور میرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6857]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
يباهي لكم:
تمہاری تعریف و توصیف کر رہا ہے،
تمہارے اعمال حسنہ فرشتوں کو بتا کر فخر و مباہات کا اظہار فرما رہا ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا،
کسی کو اسلام و ہدایت کا نصیب ہو جانا،
اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت پر موقوف ہے اور یہ اس کا احسان و انعام ہے اور اس کے اس انعام کو یاد کر کے اللہ کی حمدوثناء بیان کرنا یہ بھی اللہ کے ذکر میں داخل ہے اور اللہ کے کچھ بندوں کا کہیں اکٹھے بیٹھ کر اخلاص کے ساتھ اس کو یاد کرنا،
اس کی باتیں کرنا،
اس کی حمدوثناء کرنا،
اللہ تعالیٰ کو بےحد پسند ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی اپنے مقرب فرشتوں کے سامنے تعریف و توصیف بیان کرتا ہے اور اپنی رضا مندی کا اظہار فرماتا ہے،
اللہ تعالیٰ اپنی توفیق و عنایت سے ہمیں بھی اپنے ان مخلص بندوں میں داخل فرمائے اور اپنی مغفرت،
رحمت،
سکینت اور رضا مندی سے نوازے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6857]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5428 in Urdu