یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب : منزلة الخمر
باب: شراب کی حیثیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5661
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَفْصٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَشْرَبُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا".
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے اور وہ اس کا نام کچھ اور رکھ دیں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5661]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے کچھ لوگ شراب پیئیں گے مگر اس کا نام کچھ اور رکھ لیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5661]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15617)، مسند احمد (4/237) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3689
| ليشربن ناس من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها |
سنن النسائى الصغرى |
5661
| يشرب ناس من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5661 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5661
اردو حاشہ:
(1) یہ حدیث مبارکہ اعلام نبوت میں سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح خبر دی بعد ازاں بعینہ اسی طر ح ہوا۔ آج بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مختلف ناموں سے شراب پیتے ہیں۔ أعاذنا اللہ منھا۔
(2) یہ حدیث مبارکہ ہر قسم کی شراب کی حرمت کی صریح دلیل ہے۔ اس کی حرمت پر امت مسلمہ کا اجماع ہے۔ والحمد للہ علی ذلك۔ ہاں! البتہ ایک فرقہ ایسا ہے جو صرف انگور سے کشید کردہ شراب کو شراب مانتا ہے، اس کے علاوہ دیگر مسکرات کو شراب نہیں کہتا ہے۔ اس فرقے نے صرف اسی پر بس نہیں کی بلکہ اس فرقے کا کہنا یہ بھی ہے کہ ”تھوڑی سی“ پی لینے سے کچھ نہیں ہوتا، اتنی سی مقدار حلال ہے۔ حرام صرف وہ مقدار ہے جو نشہ چڑھا دے۔ فإنّا للهِ وإنّا إليه راجِعونَ.
(3) یہ حدیث اس اہم مسئلے پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جو شخص یا گروہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء کو حیلوں بہانوں سے حلال کرے اس کے لیے شدید وعید ہے، خواہ وہ اس کا نام بدل دے یا کوئی اور حیلہ تراشے۔ حرمت شراب کی اصل علت اور سبب خمار اور نشہ ہے، لہٰذا جس چیز سے خمار اور نشہ چڑھ جائے وہ حرام قرار پائے گی، چاہے کوئی مانے یا نہ مانے۔
(1) یہ حدیث مبارکہ اعلام نبوت میں سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح خبر دی بعد ازاں بعینہ اسی طر ح ہوا۔ آج بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مختلف ناموں سے شراب پیتے ہیں۔ أعاذنا اللہ منھا۔
(2) یہ حدیث مبارکہ ہر قسم کی شراب کی حرمت کی صریح دلیل ہے۔ اس کی حرمت پر امت مسلمہ کا اجماع ہے۔ والحمد للہ علی ذلك۔ ہاں! البتہ ایک فرقہ ایسا ہے جو صرف انگور سے کشید کردہ شراب کو شراب مانتا ہے، اس کے علاوہ دیگر مسکرات کو شراب نہیں کہتا ہے۔ اس فرقے نے صرف اسی پر بس نہیں کی بلکہ اس فرقے کا کہنا یہ بھی ہے کہ ”تھوڑی سی“ پی لینے سے کچھ نہیں ہوتا، اتنی سی مقدار حلال ہے۔ حرام صرف وہ مقدار ہے جو نشہ چڑھا دے۔ فإنّا للهِ وإنّا إليه راجِعونَ.
(3) یہ حدیث اس اہم مسئلے پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جو شخص یا گروہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء کو حیلوں بہانوں سے حلال کرے اس کے لیے شدید وعید ہے، خواہ وہ اس کا نام بدل دے یا کوئی اور حیلہ تراشے۔ حرمت شراب کی اصل علت اور سبب خمار اور نشہ ہے، لہٰذا جس چیز سے خمار اور نشہ چڑھ جائے وہ حرام قرار پائے گی، چاہے کوئی مانے یا نہ مانے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5661]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5661 in Urdu
عبد الله بن محيريز الجمحي ← اسم مبهم