🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب : ذكر الروايات المغلظات في شرب الخمر
باب: شراب پینے کے سلسلے میں سخت قسم کی احادیث کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5666
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ، يَقُولُ:" مَا أُبَالِي شَرِبْتُ الْخَمْرَ، أَوْ عَبَدْتُ هَذِهِ السَّارِيَةَ مِنْ دُونِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں پروا نہیں کرتا (یعنی اس میں کوئی فرق نہیں سمجھتا) کہ شراب پیوں یا اللہ جل جلالہ کے علاوہ اس ستون کو پوجوں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5666]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں شراب پیوں یا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس ستون کی عبادت کروں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔلشراف: 9132) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥وائل بن داود التيمي، أبو بكر
Newوائل بن داود التيمي ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن الفضيل الضبي ← وائل بن داود التيمي
صدوق عارف رمي بالتشيع
👤←👥واصل بن عبد الأعلى الأسدي، أبو محمد، أبو القاسم
Newواصل بن عبد الأعلى الأسدي ← محمد بن الفضيل الضبي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5666 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5666
اردو حاشہ:
(1) پروانہیں یعنی میرے نزدیک یہ دونوں کام ایک برابر ہیں کیونکہ شراب پی کر عقل ماؤف ہو جاتی ہے۔ انسان اس حالت میں بھی گناہ کر سکتا ہے حتیٰ کہ شرک بھی، اس لیے تو شراب کو ام الخبائث کہا گیا ہے۔ جس طرح شرک انسان کی تمام نیکیوں کو ختم کر دیتا ہے، اسی طرح شرابی شخص بھی آہستہ آہستہ تمام نیکیاں چھوڑ بیٹھتا ہے اور تمام گناہوں کا ارتکاب کرنے لگتا ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ شراب پینا شرک وکفر ہے بلکہ صرف تشبیہ مقصود ہے، جیسے ماں اپنے بیٹے کو کہتی ہے کہ یہ میرا چاند ہے۔
(2) اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یا اللہ تعالیٰ کے سوا، یعنی اس کی پوجا کے ساتھ ساتھ ستون کی بھی پوجا کروں اور یہ دونوں صورتیں شرک اور کفر ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5666]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5666 in Urdu