سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. بَابُ: ذِكْرِ الرِّوَايَاتِ الْمُغَلِّظَاتِ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ
باب: شراب پینے کے سلسلے میں سخت قسم کی احادیث کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5662
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ شَارِبُهَا حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، اور جب وہ کوئی ایسی چیز لوٹتا ہے، جس کی طرف لوگ نظریں اٹھا کر دیکھتے ہوں تو وہ مومن باقی نہیں رہتا“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5662]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ جب شراب پینے والا شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ جب چور چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ اور جب کوئی شخص ڈاکا ڈالتا ہے کہ لوگ دہشت سے دیکھتے رہ جاتے ہیں تو وہ مومن نہیں رہتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5662]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المظالم 30 (2475)، الحدود 2 (6772)، صحیح مسلم/الٕایمان 24 (57)، سنن ابن ماجہ/الفتن 3 (3936)، (تحفة الأشراف: 13191، 14863) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لیکن توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے، جب بھی توبہ کرتا ہے اس کا ایمان لوٹ آتا ہے، (دیکھئیے حدیث نمبر ۴۸۷۴ اور اس کا حاشیہ)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5663
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدُ الْرَّحْمَنِ كُلُّهُمْ حَدَّثُونِي , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ الْمُسْلِمُونَ إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا۔ اور جب کوئی قیمتی چیز چراتا ہے جس کی طرف مسلمان (حسرت سے) نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں، تو وہ مومن باقی نہیں رہتا“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5663]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں رہتا، چور چوری کرتے وقت مومن نہیں رہتا، شرابی شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا اور ڈاکو عظیم الشان ڈاکا مارتے وقت کہ مسلمان اس کی طرف دیکھتے ہی رہ جائیں مومن نہیں رہتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5663]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4874 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5664
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْيمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ , وَنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاقْتُلُوهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور صحابہ کرام کی ایک جماعت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شراب پیئے اسے کوڑے لگاؤ، پھر پیئے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر پیئے تو پھر کوڑے لگاؤ پھر پیئے تو اسے قتل کر دو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5664]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص شراب پیے، اسے کوڑے لگاؤ۔ پھر شراب پیے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر پی لے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ اور اگر (چوتھی دفعہ) پھر پی بیٹھے تو اسے قتل کر دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7301)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحدود 36 (4483)، مسند احمد (2/136) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5665
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ قَالَ: فِي الرَّابِعَةِ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نشہ میں مست ہو جائے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر مست ہو تو کوڑے لگاؤ، اگر پھر بھی مست ہو تو پھر اسے کوڑے لگاؤ“، پھر چوتھی مرتبہ کے بارے میں فرمایا: ”اس کی گردن اڑا دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5665]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص نشہ کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر نشہ کرے تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر نشہ کرے تو پھر بھی کوڑے لگاؤ۔ اگر چوتھی دفعہ نشہ کرے تو اس کی گردن اتار دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 37 (4484)، سنن ابن ماجہ/الحدود 17 (2572)، (تحفة الأشراف: 14948)، مسند احمد (2/28080، 291، 504، 519) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5666
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ، يَقُولُ:" مَا أُبَالِي شَرِبْتُ الْخَمْرَ، أَوْ عَبَدْتُ هَذِهِ السَّارِيَةَ مِنْ دُونِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں پروا نہیں کرتا (یعنی اس میں کوئی فرق نہیں سمجھتا) کہ شراب پیوں یا اللہ جل جلالہ کے علاوہ اس ستون کو پوجوں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5666]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں شراب پیوں یا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس ستون کی عبادت کروں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔلشراف: 9132) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح