🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. باب : ذكر الاختلاف على إبراهيم في النبيذ
باب: نبیذ کے سلسلے میں ابراہیم نخعی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5754
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي أُسَامَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ , يَقُولُ:" مَا وَجَدْتُ الرُّخْصَةَ فِي الْمُسْكِرِ عَنْ أَحَدٍ صَحِيحًا إِلَّا عَنْ إِبْرَاهِيمَ".
ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک کو کہتے ہوئے سنا: میں نے کسی سے نشہ لانے والی چیز کی رخصت صحیح روایت کے ساتھ نہیں سنی سوائے ابراہیم نخعی کے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5754]
حضرت ابو اسامہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے علاوہ کسی (صحابہ یا تابعی) سے نشہ آور «نَبِيذ» پینے کی رخصت صحیح سند کے ساتھ نہیں پائی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18429) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمنثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة ثبت
👤←👥عبيد الله بن سعيد اليشكري، أبو قدامة
Newعبيد الله بن سعيد اليشكري ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة مأمون سنى
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5754 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5754
اردو حاشہ:
گویا اس مسئلے میں حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ منفرد ہیں۔ تمام صحابہ و تابعین ہر نشہ آور مشروب کو مطلقاً ممنوع قرار دیتے ہیں جب کہ ابراہیم نخعی نے قلیل اجازت دی ہے۔ اسی سے ان کے قول کی وقعت اور حیثیت معلوم ہو جاتی ہے۔ صحابہ کے اجماع کی مخالفت کوئی معمولی بات نہیں، اگر کوئی جان بوجھ کر کرے تو قرآن میں اس کے لیے بڑے سخت الفاظ آئے ہیں۔ اللہ بچائے!
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5754]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5754 in Urdu