🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

57. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فِي النَّبِيذِ
باب: نبیذ کے سلسلے میں ابراہیم نخعی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5750
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ:" كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ مَنْ شَرِبَ شَرَابًا فَسَكِرَ مِنْهُ لَمْ يَصْلُحْ لَهُ أَنْ يَعُودَ فِيهِ".
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال تھا کہ جو شخص کوئی مشروب پیے اور اس سے نشہ آ جائے تو اس کے لیے درست نہیں کہ وہ دوبارہ اسے پیے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5750]
حضرت ابراہیم (نخعی) رحمہ اللہ نے فرمایا: سلف کا مسلک یہ تھا کہ جو شخص کوئی مشروب پیے اور اسے نشہ محسوس ہو تو اس کے لیے اسے دوبارہ پینا جائز نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5750]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18425) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5751
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ:" لَا بَأْسَ بِنَبِيذِ الْبُخْتُجِ".
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ پختہ (پکا ہوا) شیرہ پینے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5751]
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ پختہ نبیذ (شیرے) میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5751]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18426) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري و مغيرة عنعنا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 369

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5752
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ أَبِي عَوَانَةَ , عَنْ أَبِي مِسْكِينٍ , قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ , قُلْتُ: إِنَّا نَأْخُذُ دُرْدِيَّ الْخَمْرِ , أَوِ الطِّلَاءِ , فَنُنَظِّفُهُ ثُمَّ نَنْقَعُ فِيهِ الزَّبِيبَ ثَلَاثًا , ثُمَّ نُصَفِّيهِ ثُمَّ نَدَعُهُ حَتَّى يَبْلُغَ , فَنَشْرَبُهُ , قَالَ:" يُكْرَهُ".
ابومسکین کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا: ہم لوگ خمر (شراب) یا طلاء کا تل چھٹ لیتے ہیں، پھر اسے صاف کر کے اس میں تین روز تک کشمش بھگوتے ہیں، پھر ہم اسے صاف کرتے ہیں، پھر اسے چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنی حد کو پہنچ جائے، پھر ہم اسے پیتے ہیں، انہوں نے کہا: وہ مکروہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5752]
حضرت ابو مسکین رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ہم شراب یا طلاء کی باقی ماندہ تلچھٹ کو لے کر اسے صاف کرتے ہیں، پھر اس میں منقیٰ بھگو کر تین دن تک پڑا رہنے دیتے ہیں، پھر اسے صاف کر کے چھوڑتے ہیں حتیٰ کہ وہ تیار ہو جاتی ہے، پھر ہم اسے پی لیتے ہیں، (کیا یہ درست ہے؟) انہوں نے کہا کہ مکروہ اور ناجائز ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18427) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5753
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ , عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ , قَالَ:" رَحِمَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ شَدَّدَ النَّاسُ فِي النَّبِيذِ وَرَخَّصَ فِيهِ".
ابن شبرمہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ابراہیم نخعی پر رحم کرے، لوگ نبیذ کے سلسلے میں سختی کرتے ہیں اور وہ اس کی اجازت دیتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5753]
ابن شبرمہ رحمہ اللہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ابراہیم (نخعی) رحمہ اللہ پر رحم فرمائے کہ لوگوں نے (نشہ آور) نبیذ کے بارے میں سختی کی ہے، مگر ابراہیم رحمہ اللہ نے اس کے پینے کی رخصت دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18428) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5754
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي أُسَامَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ , يَقُولُ:" مَا وَجَدْتُ الرُّخْصَةَ فِي الْمُسْكِرِ عَنْ أَحَدٍ صَحِيحًا إِلَّا عَنْ إِبْرَاهِيمَ".
ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک کو کہتے ہوئے سنا: میں نے کسی سے نشہ لانے والی چیز کی رخصت صحیح روایت کے ساتھ نہیں سنی سوائے ابراہیم نخعی کے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5754]
حضرت ابو اسامہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے علاوہ کسی (صحابہ یا تابعی) سے نشہ آور «نَبِيذ» پینے کی رخصت صحیح سند کے ساتھ نہیں پائی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18429) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5755
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُسَامَةَ , يَقُولُ:" مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَطْلَبَ لِلْعِلْمِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ , الشَّامَاتِ , وَمِصْرَ , وَالْيَمَنَ , وَالْحِجَازَ".
عبیداللہ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابواسامہ کو کہتے ہوئے سنا: میں نے کسی شخص کو عبداللہ بن مبارک سے زیادہ علم کا طالب شام، مصر، یمن اور حجاز میں نہیں دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5755]
حضرت ابواسامہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے شام کے تمام علاقوں، مصر، یمن اور حجاز میں کوئی شخص حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے بڑھ کر علم کا طالب نہیں پایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18941) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں