🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. باب : ذكر الاختلاف على إبراهيم في النبيذ
باب: نبیذ کے سلسلے میں ابراہیم نخعی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5753
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ , عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ , قَالَ:" رَحِمَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ شَدَّدَ النَّاسُ فِي النَّبِيذِ وَرَخَّصَ فِيهِ".
ابن شبرمہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ابراہیم نخعی پر رحم کرے، لوگ نبیذ کے سلسلے میں سختی کرتے ہیں اور وہ اس کی اجازت دیتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5753]
ابن شبرمہ رحمہ اللہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ابراہیم (نخعی) رحمہ اللہ پر رحم فرمائے کہ لوگوں نے (نشہ آور) نبیذ کے بارے میں سختی کی ہے، مگر ابراہیم رحمہ اللہ نے اس کے پینے کی رخصت دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18428) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن شبرمة الضبي، أبو شبرمةثقة
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← عبد الله بن شبرمة الضبي
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة حافظ إمام
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5753 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5753
اردو حاشہ:
(1) اس روایت سے (سابقہ روایات کے برعکس) یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم نخعی کا مسلک عام نشہ آور شراب کے بارے میں عام احناف والا تھا کہ اسے نشے سے کم کم پیناجائز ہے مگر یاد رہے کہ اس روایت کے ناقل وہی ابن شبر مہ ہیں جنھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی مفہوم کی روایت بیان کی ہے۔ (دیکھیے، روایت: 5689) جسے امام نسائی رحمہ اللہ رحمہ الله نے ضعیف قرار دیا ہے، لہٰذا اس روایت کو بھی معتبر نہیں قرار دیا جا سکتا خصوصاًً جب کہ سختی کرنے والے لوگ صحابہ اور تابعین ہیں۔ اور صحیح احادیث میں بھی ان کے ساتھ ہیں۔ اور اگر حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نشہ آور نبیذ کو تھوڑی مقدار میں پینا جائز سمجھتے تھے (جیسا کہ آئندہ روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے) تو ان کی بات صحابہ اور جمہور تابعین کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی خصوصاًً جب کہ صحیح احادیث بھی اس قول کے خلاف ہیں۔ تفصیلات گزشتہ احادیث میں ذکر ہو چکی ہیں۔
(2) رحم فرمائے۔ یہ الفاظ بطور افسوس ہیں نہ کہ تحسین کیونکہ حضرت ابن شبرمہ خود ایسے مشرو ب کو جائز نہیں سمجھتے تھے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ [ديكهيے حديث: 5761]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5753]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5753 in Urdu