🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. باب : فيمن يصلي ركعتى الفجر والإمام في الصلاة
باب: امام (فرض) نماز میں ہو تو سنتیں پڑھنے والے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 869
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قال: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قال: جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ فَرَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ:" يَا فُلَانُ أَيُّهُمَا صَلَاتُكَ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا أَوِ الَّتِي صَلَّيْتَ لِنَفْسِكَ".
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں تھے، اس نے دو رکعت سنت پڑھی، پھر آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہوا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کر چکے تو فرمایا: اے فلاں! ان دونوں میں سے تمہاری نماز کون سی تھی، جو تم نے ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟ یا جو خود سے پڑھی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 869]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 9 (712)، سنن ابی داود/الصلاة 294 (1265)، سنن ابن ماجہ/إقامة 103 (1152)، (تحفة الأشراف: 5319)، مسند احمد 5/82 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مقصود اس کی اس حرکت پر زجر و ملامت کرنا تھا کہ جس نماز کی خاطر اس نے مسجد آنے کی زحمت اٹھائی تھی اسے پا کر دوسری نماز میں لگنا عقلمندی نہیں ہے، سنت کے لیے گھر ہی بہتر جگہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن سرجس المزنيصحابي
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← عبد الله بن سرجس المزني
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← عاصم الأحول
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥يحيى بن حبيب الحارثي، أبو زكريا
Newيحيى بن حبيب الحارثي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
869
أيهما صلاتك التي صليت معنا أو التي صليت لنفسك
صحيح مسلم
1651
بأي الصلاتين اعتددت أبصلاتك وحدك أم بصلاتك معنا
سنن أبي داود
1265
أيتهما صلاتك التي صليت وحدك أو التي صليت معنا
سنن ابن ماجه
1152
بأي صلاتيك اعتددت
المعجم الصغير للطبراني
226
أيتهما جعلت صلاتك
سنن نسائی کی حدیث نمبر 869 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 869
869 ۔ اردو حاشیہ: اس حدیث کا مقصد بھی یہی ہے کہ فجر کی نماز کے دوران میں سنتیں نہیں پڑھی جا سکتیں، البتہ احناف کے نزدیک مسجد سے باہر پڑھی جا سکتی ہیں۔ یہ متقدمین کا مسلک تھا، بعد والوں نے تو مسجد کے اندر جماعت والی صف سے پچھلی صف میں کھڑے ہو کر پڑھنے کی اجازت دے دی ہے، حالانکہ صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے کہ مذکورہ شخص نے مسجد کے ایک طرف نماز پڑھی تھی۔ دیکھیے: [صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 712]
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روکا۔ ایسی صریح روایات کی موجودگی میں مسجد کے اندر جماعت کی موجودگی میں سنتیں پڑھنے کی اجازت دینا بہت بڑی جسارت ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ مسجد سے باہربھی اقامت کے بعد سنتیں پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ ظاہر الفاظ اسی کی تائید کرتے ہیں۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 869]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1265
امام فجر پڑھا رہا ہو اور آدمی نے سنت نہ پڑھی ہو تو اس وقت نہ پڑھے۔
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھا رہے تھے تو اس نے دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا، جب آپ نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو فرمایا: اے فلاں! تمہاری کون سی نماز تھی؟ آیا وہ جو تو نے تنہا پڑھی یا وہ جو ہمارے ساتھ پڑھی ۱؎؟۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1265]
1265. اردو حاشیہ:
جماعت ہو رہی ہو تو کسی کے لیے سنت یا نفل پڑھنا جائز نہیں ہے، خواہ یقین ہو کہ سنتوں کے بعد پہلی رکعت پا لوں گا۔ یہی حکم فجر کی سنتوں کا ہے۔ جماعت کے دوران میں، باہر صحن میں یا کسی کونے میں فجر کی سنتیں پڑھنی جائز نہیں، جیسا کہ اکثر مساجد میں یہ معمول ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1265]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1152
فرض نماز کی اقامت کے بعد کوئی اور نماز نہ پڑھنے کا بیان۔
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو نماز فجر سے پہلے دو رکعت پڑھ رہا تھا، اس وقت آپ فرض پڑھ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اپنی دونوں نماز میں سے کس نماز کا تم نے اعتبار کیا؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1152]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس عبارت کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تو نے کس نماز کواپنا مقصد قرار دیا ہے۔
یعنی کیا تیرا مقصود وہ نماز تھی جو اکیلے پڑھی۔
یا وہ جس کی جماعت ہورہی تھی۔
؟ چونکہ گھر سے آتے وقت اصل مقصد فرض نماز کی ادایئگی ہوتا ہے۔
تو اس پردوسری کو ترجیح دینا درست نہیں۔
سنتیں تو گھر میں بھی ادا کی جا سکتی ہیں۔
مسجد میں آنے کا اصل مقصد وہ نہیں ہوتیں۔

(2)
اس حدیث سے واضح طور پرثابت ہوگیا کہ جماعت کھڑی ہوتو فجر کی سنتیں پڑھنا درست نہیں بلکہ جماعت کے ساتھ شامل ہونا ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1152]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1651
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ ایک آدمی مسجد میں آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے تو اس نے مسجد کے ایک کونے میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: اے شخص تو نے دو نمازوں میں کون سی نماز کو فرض قرار دیا ہے؟ کیا اس نماز کو جو تو نے اکیلے پڑھی ہے یا اپنی اس نماز کو جو... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1651]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس باب میں آنے والی حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جب مؤذن نماز کے لیے اقامت شروع کر دے تو اس کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھی جا سکتی سوائے اس نماز کے جو امام کی اقتدا میں ادا کرنی ہے اقامت کے شروع ہونے کے بعد نفل یا سنت کا آغاز کرنا جمہور کے نزدیک جائز نہیں ہے۔
اور جو نماز وہ پہلے پڑھ رہا ہے تو اگر وہ آخری رکعت کے رکوع سے گزر چکا ہے تو اس کو مکمل کر لے،
وگرنہ چھوڑ دے کیونکہ عبد اللہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح کی سنتیں پڑھنے والا نماز شروع کر چکا تھا پھر اقامت ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا کیا تم صبح کی چار رکعات پڑھو گے؟ تو گویا اس نے اقامت کے بعد ابھی دونوں رکعتیں پڑھنی تھیں لیکن احناف کے نزدیک چونکہ صبح کی سنتوں کی بہت تاکید کی گئی ہے اس لیے اگر وہ دوسری رکعت میں امام کے ساتھ شامل ہو سکتا ہو تو وہ اقامت کے بعد فجر کی سنتیں پڑھ سکتا ہے لیکن عبداللہ بن سرجس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں صراحتاً اقامت کے بعد صبح کی سنتیں مسجد میں پڑھنے کی ممانعت موجود ہے اس لیے علامہ سعیدی لکھتے ہیں۔
بظاہر اس حدیث سے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی تائید ہوتی ہے کیونکہ فجر کی سنتوں کی تاکید بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی اقامت فجر کے وقت سنتیں پڑھنے پر ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے۔
اس لیے اتباع حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ اقامت فجر کے وقت سنت پڑھنا شروع نہ کرے (کیونکہ جن کے حکم سے سنتیں پڑھی جاتی ہیں وہ خود منع فرما رہے ہیں)
اور اگر سنتیں پہلے سے شروع کی ہوئی ہیں تو جلد ازجلد ختم کر کے جماعت میں شامل ہو جائےعلامہ دشتانی لکھتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس شخص کو مارتے تھے جو اقامت فجر کے وقت سنتیں پڑھتا تھا کیونکہ سرکار نے اس سے منع کیا ہے۔
(صحیح مسلم ج2ص: 421)
مزید لکھتے ہیں:
یہ انتہائی غلط طریقہ مروج ہے کہ مسجد میں فجر کی جماعت کھڑی ہوتی ہے اور لوگ جماعت کی صفوں سے متصل کھڑے ہو کر سنتیں پڑھنا شروع کر دیتے ہیں اس میں ایک خرابی یہ ہے کہ امام بآواز بلند قرآن پڑھ رہا ہے جس کا سننا فرض ہے اور سنتوں میں مشغول شخص اس فرض کو ترک کر رہا ہے دوسری خرابی یہ ہے کہ سنتوں میں مشغول شخص بظاہر فرض اور جماعت سے اعراض کر رہا ہے اور تیسری خرابی یہ ہے کہ اس کا یہ عمل اس باب کی احادیث کی مخالفت کو مستلزم ہے۔
(ج2ص: 421)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1651]

Sunan an-Nasa'i Hadith 869 in Urdu