سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب : القول الذي يفتتح به الصلاة
باب: وہ کلمہ جس کے ذریعہ نماز شروع کی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 886
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قال: قَامَ رَجُلٌ خَلْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، فَقَالَ: نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَنْ صَاحِبُ الْكَلِمَةِ" فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَقَالَ:" لَقَدِ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھا: «اللہ أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان اللہ بكرة وأصيلا» ”اللہ بہت بڑا ہے، اور میں اسی کی بڑائی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں اسی کی خوب تعریف کرتا ہوں، اللہ کی ذات پاک ہے، اور میں صبح و شام اس کی ذات کی پاکی بیان کرتا ہوں“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کلمے کس نے کہے ہیں؟“ تو اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے بارہ فرشتوں کو اس پر جھپٹتے دیکھا“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 886]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور کہا: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» ”اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا۔ اور ہر تعریف اللہ کے لیے ہے، بے انتہا۔ اور صبح و شام اللہ ہی کی پاکیزگی بیان ہوتی ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کلمات کس نے کہے تھے؟“ ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! میں نے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! بارہ فرشتے بیک وقت ان کلمات کی طرف لپکے تھے۔ (ہر ایک کی خواہش تھی کہ وہ ان کلمات کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرے۔)“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 886]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 27 (601)، سنن الترمذی/الدعوات 127 (3592)، (تحفة الأشراف: 7369)، مسند احمد 2/14، 97 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ہر ایک چاہتا تھا کہ اسے اللہ کے حضور لے جانے کا شرف اسے حاصل ہو۔ ۲؎: تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان صحیح احادیث میں متعدد اذکار اور ادعیہ کا ذکر آیا ہے، ان میں سے کوئی بھی دعا پڑھی جا سکتی ہے، اور بعض لوگوں نے جو یہ دعویٰ کیا ہے کہ «سبحانک اللہم» کے علاوہ باقی دیگر دعائیں نماز تہجد، اور دیگر نفل نمازوں کے لیے ہیں تو یہ مجرد دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
886
| لقد ابتدرها اثنا عشر ملكا |
سنن النسائى الصغرى |
887
| عجبت لها وذكر كلمة معناها فتحت لها أبواب السماء |
صحيح مسلم |
1358
| عجبت لها فتحت لها أبواب السماء |
جامع الترمذي |
3592
| عجبت لها فتحت لها أبواب السماء |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 886 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 886
886 ۔ اردو حاشیہ:
➊ دعائے استفتاح کے سلسلے میں اور دعائیں بھی آئی ہیں۔ ان مسنون دعاؤں میں سے کوئی دعا بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ یہ کہنا کہ «سبحانَك اللهمَّ۔۔۔ الخ» کے علاوہ باقی سب نوافل و تہجد وغیرہ میں جائز ہیں، فرائض میں نہیں، بلادلیل ہے اور اپنے آپ کو شارع قرار دینا ہے، حالانکہ ان میں سے بعض دعاؤں کے بارے میں تو فرض نماز میں پڑھے جانے کی صراحت ہے۔ واللہ أعلم۔
➋ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کراماً کاتبین کے علاوہ دوسرے فرشتے بھی بعض اعمال اللہ کے ہاں لے کر حاضر ہوتے ہیں۔
➊ دعائے استفتاح کے سلسلے میں اور دعائیں بھی آئی ہیں۔ ان مسنون دعاؤں میں سے کوئی دعا بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ یہ کہنا کہ «سبحانَك اللهمَّ۔۔۔ الخ» کے علاوہ باقی سب نوافل و تہجد وغیرہ میں جائز ہیں، فرائض میں نہیں، بلادلیل ہے اور اپنے آپ کو شارع قرار دینا ہے، حالانکہ ان میں سے بعض دعاؤں کے بارے میں تو فرض نماز میں پڑھے جانے کی صراحت ہے۔ واللہ أعلم۔
➋ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کراماً کاتبین کے علاوہ دوسرے فرشتے بھی بعض اعمال اللہ کے ہاں لے کر حاضر ہوتے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 886]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3592
ام سلمہ رضی الله عنہا کی دعا کا بیان
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ۱؎، اسی دوران ایک شخص نے کہا: «الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا» ”اللہ بہت بڑائی والا ہے، اور ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اور پاکی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے صبح و شام“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سنا تو) پوچھا: ”ایسا ایسا کس نے کہا ہے؟“ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے کہا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”میں اس کلمے کو سن کر حیرت میں پڑ گیا، اس کلمے کے لیے آسمان کے دروازے کھولے گئے۔“ ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3592]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ۱؎، اسی دوران ایک شخص نے کہا: «الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا» ”اللہ بہت بڑائی والا ہے، اور ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اور پاکی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے صبح و شام“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سنا تو) پوچھا: ”ایسا ایسا کس نے کہا ہے؟“ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے کہا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”میں اس کلمے کو سن کر حیرت میں پڑ گیا، اس کلمے کے لیے آسمان کے دروازے کھولے گئے۔“ ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3592]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
”نماز پڑھ رہے تھے“ سے مراد: ہم لوگ نماز شروع کر چکے تھے،
اتنے میں وہ آدمی آیا اور دعاءِ ثناء کی جگہ اس نے یہی کلمات کہے،
اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تقریر(تصدیق) کر دی،
تو گویا ثناء کی دیگر دعاؤں کے ساتھ یہ دعاء بھی ایک ثناء ہے،
امام نسائی دعاءِ ثنا کے باب ہی میں اس حدیث کو لاتے ہیں،
اس لیے بعض علماء کا یہ کہنا کہ (سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ...) کے سواء ثنا کی بابت منقول ساری دعائیں سنن ونوافل سے تعلق رکھتی ہیں،
صحیح نہیں ہے۔
2؎:
اللہ بہت بڑائی والا ہے،
اور ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں،
اور پاکی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے صبح و شام۔
وضاحت:
1؎:
”نماز پڑھ رہے تھے“ سے مراد: ہم لوگ نماز شروع کر چکے تھے،
اتنے میں وہ آدمی آیا اور دعاءِ ثناء کی جگہ اس نے یہی کلمات کہے،
اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تقریر(تصدیق) کر دی،
تو گویا ثناء کی دیگر دعاؤں کے ساتھ یہ دعاء بھی ایک ثناء ہے،
امام نسائی دعاءِ ثنا کے باب ہی میں اس حدیث کو لاتے ہیں،
اس لیے بعض علماء کا یہ کہنا کہ (سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ...) کے سواء ثنا کی بابت منقول ساری دعائیں سنن ونوافل سے تعلق رکھتی ہیں،
صحیح نہیں ہے۔
2؎:
اللہ بہت بڑائی والا ہے،
اور ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں،
اور پاکی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے صبح و شام۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3592]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1358
حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اس اثنا میں لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: (اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا) ”اللہ بہت بڑا ہے اور اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریف ہے اور صبح و شام اللہ ہی کے لیے پاکیزگی و تسبیح ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ بول کس نے کہا ہے؟“ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ان پر تعجب... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1358]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ان دو آدمیوں نے یہ ذکر کہاں کیا تھا حدیث میں اس کا محل اور موقع نہیں بتایا گیا اس لیے بعض حضرات نے ان کا محل آغاز نماز بتایا ہے جیسا کہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کے ترجمہ سے معلوم ہوتا ہے اور بعض نے رکوع کے بعد۔
(رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ)
کے بعد کہا ہے۔
فوائد ومسائل:
ان دو آدمیوں نے یہ ذکر کہاں کیا تھا حدیث میں اس کا محل اور موقع نہیں بتایا گیا اس لیے بعض حضرات نے ان کا محل آغاز نماز بتایا ہے جیسا کہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کے ترجمہ سے معلوم ہوتا ہے اور بعض نے رکوع کے بعد۔
(رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ)
کے بعد کہا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1358]
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل،صحیح مسلم 1358
... حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھون نے کہا: ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: «الله أكبر كبيرًا والحمدللّٰه كثيرًا وسبحان الله بكرة وأصيلا» ... [صحيح مسلم 1358]
تکبیراتِ عیدین کے الفاظ
………… سوال …………
عیدین کی تکبیرات جس کے الفاظ یہ ہیں:
«الله أكبر كبيرًا والحمدللّٰه كثيرًا وسبحان الله بكرة وأصيلا»
اس تکبیر میں کیا حرج ہے؟ اس کی بھی وضاحت کریں۔
………… الجواب …………
میرے علم کے مطابق یہ الفاظ، تکبیراتِ عیدین میں ثابت نہیں البتہ نماز میں ضرور ثابت ہیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا:
«اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا»
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کلمات کس نے کہے ہیں؟
اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان (کلمات) کے لئے تعجب ہے، ان کے لئے آسمان کے دروازے کھل گئے ہیں۔
[صحيح مسلم، كتاب المساجد باب مايقال بين تكبيرة الاحرام والقراءة ح 601]
تکبیراتِ عیدین میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے
«اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ، وَأَجَلُّ اللهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے
«اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا»
کے الفاظ ثابت ہیں۔
[مصنف ابن ابي شيبه 2/ 167 ح 5645، السنن الكبريٰ للبيهقي 3/ 316]
اس سلسلے میں مرفوعاً
«اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
کے الفاظ جو سنن دارقطنی [2/ 49 ح 1721] کی روایت میں آئے ہیں، وہ روایت عمرو بن شمر (کذاب) وغیرہ کی وجہ سے موضوع ہے۔
اسے حافظ ذہبی نے سخت ضعیف بلکہ موضوع (من گھڑت) کہاہے۔
لیکن یاد رہے کہ یہ الفاظ ابراہیم نخعی سے باسند صحیح ثابت ہیں۔ دیکھئے [مصنف ابن ابي شيبه 2/ 167 ح 5649 وسنده صحيح]
………… سوال …………
بروز عیدین و ایام تشریق میں پڑھے جانے والے (تکبیر کے) مشہور الفاظ
«اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
کیا یہ کسی صحیح حدیث و صحیح روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں؟ یا کسی صحابی سے ثابت ہیں؟ یا کسی تابعی سے ثابت ہیں؟ یا محدثین عظام سے ثابت ہیں؟ ان کے ان مواقع پر پڑھنے کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں۔
………… الجواب …………
ایک حدیث میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایام عید کی تکبیروں میں درج ذیل کلمات کہتے تھے:
«اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
[سنن الدارقطني ج 2 ص 49، 50 ح 1721]
اس روایت کی سند موضوع ہے۔ عمرو بن شمر کذاب راوی ہے۔ جابر الجعفی سخت ضعیف رافضی ہے۔ نائل بن نجیح ضعیف ہے۔ دیکھئے کتب اسماء الرجال وغیرہ
ایک روایت میں آیا ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تکبیرات عیدین میں درج ذیل الفاظ پڑھتے تھے:
«اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَأَجَلُّ اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ»
[مصنف ابن ابي شيبه 2/ 167 ح 5650]
اس کی سند صحیح ہے۔
سیدنا سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ یہ الفاظ پڑھتے تھے:
«اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ»
[مصنف عبدالرزاق 11/ 294، 295 ح 20581، والبيهقي 3/ 316، وسنده حسن]
ابراہیم النخعی کہتے ہیں:
«كَانُوا يُكَبِّرُونَ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَأَحَدُهُمْ مُسْتَقْبِلٌ الْقِبْلَةَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ: اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، واللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
[مصنف ابن ابي شيبه ج 2 ص 167 ح 5649 وسنده صحيح]
درج بالا تکبیرات صحابہ و تابعین سے ثابت ہیں لہٰذا ایام عیدین میں انھیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اقتداء بالسلف کی رو سے ثواب کی امید ہے۔
مختصر یہ کہ آپ کی ذکر کردہ دعا پڑھنی تابعین سے ثابت ہے اور اس پر عمل صحیح ہے۔ والحمدللہ
……………… اصل مضمون ………………
اصل مضمون کے لئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 1 صفحہ 479 تا 481) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
………… سوال …………
عیدین کی تکبیرات جس کے الفاظ یہ ہیں:
«الله أكبر كبيرًا والحمدللّٰه كثيرًا وسبحان الله بكرة وأصيلا»
اس تکبیر میں کیا حرج ہے؟ اس کی بھی وضاحت کریں۔
………… الجواب …………
میرے علم کے مطابق یہ الفاظ، تکبیراتِ عیدین میں ثابت نہیں البتہ نماز میں ضرور ثابت ہیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا:
«اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا»
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کلمات کس نے کہے ہیں؟
اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان (کلمات) کے لئے تعجب ہے، ان کے لئے آسمان کے دروازے کھل گئے ہیں۔
[صحيح مسلم، كتاب المساجد باب مايقال بين تكبيرة الاحرام والقراءة ح 601]
تکبیراتِ عیدین میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے
«اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ، وَأَجَلُّ اللهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے
«اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا»
کے الفاظ ثابت ہیں۔
[مصنف ابن ابي شيبه 2/ 167 ح 5645، السنن الكبريٰ للبيهقي 3/ 316]
اس سلسلے میں مرفوعاً
«اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
کے الفاظ جو سنن دارقطنی [2/ 49 ح 1721] کی روایت میں آئے ہیں، وہ روایت عمرو بن شمر (کذاب) وغیرہ کی وجہ سے موضوع ہے۔
اسے حافظ ذہبی نے سخت ضعیف بلکہ موضوع (من گھڑت) کہاہے۔
لیکن یاد رہے کہ یہ الفاظ ابراہیم نخعی سے باسند صحیح ثابت ہیں۔ دیکھئے [مصنف ابن ابي شيبه 2/ 167 ح 5649 وسنده صحيح]
………… سوال …………
بروز عیدین و ایام تشریق میں پڑھے جانے والے (تکبیر کے) مشہور الفاظ
«اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
کیا یہ کسی صحیح حدیث و صحیح روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں؟ یا کسی صحابی سے ثابت ہیں؟ یا کسی تابعی سے ثابت ہیں؟ یا محدثین عظام سے ثابت ہیں؟ ان کے ان مواقع پر پڑھنے کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں۔
………… الجواب …………
ایک حدیث میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایام عید کی تکبیروں میں درج ذیل کلمات کہتے تھے:
«اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
[سنن الدارقطني ج 2 ص 49، 50 ح 1721]
اس روایت کی سند موضوع ہے۔ عمرو بن شمر کذاب راوی ہے۔ جابر الجعفی سخت ضعیف رافضی ہے۔ نائل بن نجیح ضعیف ہے۔ دیکھئے کتب اسماء الرجال وغیرہ
ایک روایت میں آیا ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تکبیرات عیدین میں درج ذیل الفاظ پڑھتے تھے:
«اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَأَجَلُّ اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ»
[مصنف ابن ابي شيبه 2/ 167 ح 5650]
اس کی سند صحیح ہے۔
سیدنا سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ یہ الفاظ پڑھتے تھے:
«اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ»
[مصنف عبدالرزاق 11/ 294، 295 ح 20581، والبيهقي 3/ 316، وسنده حسن]
ابراہیم النخعی کہتے ہیں:
«كَانُوا يُكَبِّرُونَ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَأَحَدُهُمْ مُسْتَقْبِلٌ الْقِبْلَةَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ: اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، واللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
[مصنف ابن ابي شيبه ج 2 ص 167 ح 5649 وسنده صحيح]
درج بالا تکبیرات صحابہ و تابعین سے ثابت ہیں لہٰذا ایام عیدین میں انھیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اقتداء بالسلف کی رو سے ثواب کی امید ہے۔
مختصر یہ کہ آپ کی ذکر کردہ دعا پڑھنی تابعین سے ثابت ہے اور اس پر عمل صحیح ہے۔ والحمدللہ
……………… اصل مضمون ………………
اصل مضمون کے لئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 1 صفحہ 479 تا 481) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
[فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 479]
Sunan an-Nasa'i Hadith 886 in Urdu
عون بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن عمر العدوي