🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب : الصف بين القدمين في الصلاة
باب: نماز میں دونوں قدموں کے ملانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 894
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: أَخْبَرَنِي مَيْسَرَةُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: سَمِعْتُ الْمِنْهَالَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي قَدْ صَفَّ بَيْنَ قَدَمَيْهِ فَقَالَ:" أَخْطَأَ السُّنَّةَ وَلَوْ رَاوَحَ بَيْنَهُمَا كَانَ أَعْجَبَ إِلَيَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اس نے اپنے دونوں قدم ملا رکھا تھا تو انہوں نے کہا: یہ سنت سے چوک گیا، اگر وہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا تو میرے نزدیک زیادہ اچھا ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف الإسناد) (سند میں ابوعبیدہ اور ان کے والد ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مابین انقطاع ہے)۔»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (893) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي، أبو عبيدة
Newأبو عبيدة بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥المنهال بن عمرو الأسدي
Newالمنهال بن عمرو الأسدي ← أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي
ثقة
👤←👥ميسرة بن حبيب النهدي، أبو حازم
Newميسرة بن حبيب النهدي ← المنهال بن عمرو الأسدي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← ميسرة بن حبيب النهدي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
👤←👥إسماعيل بن مسعود الجحدري، أبو مسعود
Newإسماعيل بن مسعود الجحدري ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
893
خالف السنة ولو راوح بينهما كان أعجب إلي
سنن النسائى الصغرى
894
أخطأ السنة ولو راوح بينهما كان أعجب إلي
سنن ابن ماجه
2021
يطلقها عند كل طهر تطليقة فإذا طهرت الثالثة طلقها وعليها بعد ذلك حيضة
سنن ابن ماجه
2020
طلاق السنة أن يطلقها طاهرا من غير جماع
سنن النسائى الصغرى
3423
طلاق السنة تطليقة وهي طاهر في غير جماع فإذا حاضت وطهرت طلقها أخرى فإذا حاضت وطهرت طلقها أخرى ثم تعتد بعد ذلك بحيضة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 894 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 894
894 ۔ اردو حاشیہ:
➊ مذکورہ بالا دونوں روایات انقطاع کی وجہ سے سنداً ضعیف ہیں جیسا کہ محقق کتاب نے بھی صراحت کی ہے، اس لیے امام نسائی رحمہ اللہ کا السنن الکبریٰ، حدیث: 969 میں اسے جید کہنا محل نظر ہے۔
➋ دونوں پاؤں جوڑ کر رکھنا جہاں تکلیف کا موجب ہے کہ انسان زیادہ دیر کھڑا نہیں ہو سکتا وہاں سنت صحیحہ کی مخالفت بھی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ تھی کہ اپنے دونوں پاؤں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھتے تھے، صف بندی میں تو ملنے کے لیے لازماً پاؤں کچھ نہ کچھ کھولنے پڑیں گے، تاہم اپنی جسامت سے زیادہ نہ کھولے۔
➌ سنن ابوداود کی جس روایت میں «صف القدمین من السنة» پاؤں کو ملانا سنت ہے۔ [سنن ابی داود، الصلاة، حدیث: 754]
کا ذکر ہے تو اس کا مطلب پاؤں کو برابر رکھنا اور انہیں آگے پیچھے نہ رکھنا مراد ہے جیسا کہ تخریج میں صراحت کی گئی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 894]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3423
مسنون طلاق کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ طلاق سنت اس طرح ہے کہ جب عورت پاک ہو اور اس پاکی کے دنوں میں عورت سے جماع نہ کیا ہو تو اسے ایک طلاق دے، پھر جب دوبارہ اسے حیض آئے اور اس حیض سے پاک ہو جائے تو اسے دوسری طلاق دے پھر جب (تیسری بار) حیض سے ہو جائے اور اس حیض سے پاک ہو جائے تو اسے ایک اور طلاق دے۔ پھر اس کے بعد عورت ایک حیض کی عدت گزارے۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا تو انہوں نے بھی اسی طرح بتایا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3423]
اردو حاشہ:
احناف حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مذکورہ قول کی وجہ سے مذکورہ طریقے سے تین طلاقیں دینے ہی کوطلاق سنت سمجھتے ہیں‘ حالانکہ یہ عجیب طلاق سنت ہے جس نے یک لخت ایک عورت کو حرام کرکے چھوڑا‘ نیز طلاق تو ایک بھی ممدوح نہیں چہ جائیکہ بلا ضرورت پے درپے تین طلاقیں دے دی جائیں‘ پھر سوچنے کی بات ہے کہ جب ایک طلاق سے عورت خاوند سے جدا ہوسکتی ہے تو کیا ضرورت ہے کہ تین سے پہلے بس نہ کی جائے‘ لہٰذا یہ طلاق سنت نہیں ہوسکتی۔ طلاق سنت یہ ہے کہ بیوی کو طہر کی حالت میں‘ بغیر جماع کیے‘ ایک طلاق دی جائے اور پھر عدت گزرنے کا انتظار کیا جائے۔ ممکن ہو تو عدت کے دوران میں رجوع کرلیا جائے ورنہ رہنے دیا جائے تاکہ اگر بعد میں اتفاق ہوجائے تو نیا نکاح ہوسکے۔ یہ قول بھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس طلاق کو دلائل کے ساتھ طلاق السنہ ثابت کیا ہے‘ لہٰذا اسی قول کو اخذ کرنا چاہیے تاکہ دوران عدت رجوع اور بعد از عدت نکاح جدید کا راستہ باقی رہے۔ جمہور کا مسلک بھی یہی ہے اور یہی درست ہے۔ ہاں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پہلے قول میں مذکور صورت کو طلاق سنت کہنے کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ یہ صورت بھی جائز ہے اگرچہ یہ بہتر نہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نزدیک تو طلاق پر طلاق واقع ہی نہیں ہوتی کیونکہ یہ بے فائدہ ہے مگر جمہور اہل علم اس کے وقوع کے قائل ہیں۔ اور یہی بات صحیح ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3423]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2021
سنت کے مطابق طلاق دینے کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں طلاق سنی یہ ہے کہ عورت کو ہر طہر میں ایک طلاق دے، جب تیسری بار پاک ہو تو آخری طلاق دیدے، اور اس کے بعد عدت ایک حیض ہو گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2021]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  یہ اس صورت میں ہے جب وہ اس سے بالکل جدا ہونا چاہتا ہو تو اس طرح تیسری طلاق بائن ہوجائے گی جس کے بعد رجوع ممکن نہیں ہوگا لیکن بہتر یہ ہے کہ ایک طلاق کے بعد عدت گزر جانے دے تاکہ بعد میں اگر صلح کرنے کی خواہش پیدا ہوجائے تو نئے سرے سے نکاح کرکے اکٹھے رہ سکیں۔

(2)
  اگر ایک طلاق کے بعد رجوع ہوجائے، پھر کبھی دوسری طلاق دے دی جائے تواس دوسری طلاق کے بعد بھی تین حیض عدت ہے جس میں نیا نکاح کیے بغیر رجوع ہوسکتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2021]