🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب ما جاء أن المرأة تنكح على ثلاث خصال
باب: عورت سے عام طور پر تین باتوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1086
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ عَلَى دِينِهَا، وَمَالِهَا، وَجَمَالِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت سے نکاح اس کی دین داری، اس کے مال اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے کیا جاتا ہے ۱؎ لیکن تو دیندار (عورت) سے نکاح کو لازم پکڑ لو ۲؎ تمہارے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ۳؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عوف بن مالک، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا، عبداللہ بن عمرو، اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، وانظر: سنن الدارمی/النکاح 4 (2217) (تحفة الأشراف: 2444) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الرضاع 15 (715/54)، سنن النسائی/النکاح 10 (3228)، مسند احمد (3/302) بتغیر یسیر فی السیاق۔»
وضاحت: ۱؎: بخاری و مسلم کی روایت میں چار چیزوں کا ذکر ہے، چوتھی چیز اس کا حسب نسب اور خاندانی شرافت ہے۔
۲؎: یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ دیندار عورت ہی صحیح معنوں میں نیک چلن، شوہر کی اطاعت گزار اور وفادار ہوتی ہے جس سے انسان کی معاشرتی زندگی میں خوش گواری آتی ہے اور اس کی گود میں جو نسل پروان چڑھتی وہ بھی صالح اور دیندار ہوتی ہے، اس کے برعکس باقی تین قسم کی عورتیں عموماً انسان کے لیے زحمت اور اولاد کے لیے بھی بگاڑ کا باعث ہوتی ہیں۔
۳؎: یہاں بد دعا مراد نہیں بلکہ شادی کے لیے جدوجہد اور سعی و کوشش پر ابھارنا مقصود ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1858)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥عبد الملك بن ميسرة الفزازى، أبو عبد الله، أبو سليمان
Newعبد الملك بن ميسرة الفزازى ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة
👤←👥إسحاق بن يوسف الأزرق، أبو محمد
Newإسحاق بن يوسف الأزرق ← عبد الملك بن ميسرة الفزازى
ثقة مأمون
👤←👥أحمد بن محمد المروزي، أبو العباس
Newأحمد بن محمد المروزي ← إسحاق بن يوسف الأزرق
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
3636
المرأة تنكح على دينها مالها جمالها عليك بذات الدين تربت يداك
جامع الترمذي
1086
المرأة تنكح على دينها مالها جمالها عليك بذات الدين تربت يداك
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1086 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1086
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
بخاری ومسلم کی روایت میں چارچیزوں کاذکرہے،
چوتھی چیز اس کا حسب نسب اورخاندانی شرافت ہے۔

2؎:
یہ حکم اس لیے دیاگیا ہے کہ دین دارعورت ہی صحیح معنوں میں نیک چلن،
شوہرکی اطاعت گزاراوروفادارہوتی ہے جس سے انسان کی معاشرتی زندگی میں خوش گواری آتی ہے اور اس کی گودمیں جونسل پروان چڑھتی وہ بھی صالح اور دیندارہوتی ہے،
اس کے برعکس باقی تین قسم کی عورتیں عموماً انسان کے لیے زحمت اوراولادکے لیے بھی بگا ڑکاباعث ہوتی ہیں۔

3؎:
یہاں بد دعا مراد نہیں بلکہ شادی کے لیے جدوجہد اور سعی وکوشش پر ابھارنا مقصودہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1086]