سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب ما جاء في حق الزوج على المرأة
باب: عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 1159
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَسُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں معاذ بن جبل، سراقہ بن مالک بن جعشم، عائشہ، ابن عباس، عبداللہ بن ابی اوفی، طلق بن علی، ام سلمہ، انس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1159]
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں معاذ بن جبل، سراقہ بن مالک بن جعشم، عائشہ، ابن عباس، عبداللہ بن ابی اوفی، طلق بن علی، ام سلمہ، انس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1159]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15104) (صحیح) (اس سند سے حدیث حسن ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: اس سے شوہر کے مقام و مرتبہ کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، ابن ماجة (1853)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1159
| لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1159 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1159
اردو حاشہ:
وضاخت:
1؎:
اس سے شوہر کے مقام و مرتبہ کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
نوٹ:
(اس سند سے حدیث حسن ہے،
لیکن شواہد کی وجہ سے صحیح ہے)
وضاخت:
1؎:
اس سے شوہر کے مقام و مرتبہ کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
نوٹ:
(اس سند سے حدیث حسن ہے،
لیکن شواہد کی وجہ سے صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1159]
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي