🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
63. باب ما جاء في العرايا والرخصة في ذلك
باب: عاریت والی بیع کے جائز ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1302
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ: الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَقَالُوا: إِنَّ الْعَرَايَا مُسْتَثْنَاةٌ مِنْ جُمْلَةِ نَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذْ نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَاحْتَجُّوا "، بِحَدِيثِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَحَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالُوا لَهُ: أَنْ يَشْتَرِيَ مَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، وَمَعْنَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ التَّوْسِعَةَ عَلَيْهِمْ فِي هَذَا لِأَنَّهُمْ شَكَوْا إِلَيْهِ، وَقَالُوا: لَا نَجِدُ مَا نَشْتَرِي مِنَ الثَّمَرِ، إِلَّا بِالتَّمْرِ، فَرَخَّصَ لَهُمْ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، أَنْ يَشْتَرُوهَا، فَيَأْكُلُوهَا رُطَبًا.
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ لگا کر عرایا کو بیچنے کی اجازت دی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ جس میں شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی میں شامل ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے من جملہ جن چیزوں سے منع فرمایا ہے اس سے عرایا مستثنیٰ ہے، اس لیے کہ آپ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ ان لوگوں نے زید بن ثابت اور ابوہریرہ کی حدیث سے استدلال کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے پانچ وسق سے کم خریدنا جائز ہے،
۳- بعض اہل علم کے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر اس سلسلہ میں توسع اور گنجائش دینا ہے، اس لیے کہ عرایا والوں نے آپ سے شکایت کی اور عرض کیا کہ خشک کھجور کے سوا ہمیں کوئی اور چیز میسر نہیں جس سے ہم تازہ کھجور خرید سکیں۔ تو آپ نے انہیں پانچ وسق سے کم میں خریدنے کی اجازت دے دی تاکہ وہ تازہ کھجور کھا سکیں۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1302]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 1300 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح أحاديث البيوع

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن ثابت الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو خارجة، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← زيد بن ثابت الأنصاري
صحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2380
رخص النبي أن تباع العرايا بخرصها تمرا
صحيح البخاري
2192
رخص في العرايا أن تباع بخرصها كيلا
صحيح البخاري
2188
أرخص لصاحب العرية أن يبيعها بخرصها
صحيح مسلم
3883
رخص في بيع العرية بخرصها تمرا
صحيح مسلم
3884
رخص في العرايا أن تباع بخرصها كيلا
صحيح مسلم
3879
رخص لصاحب العرية أن يبيعها بخرصها من التمر
صحيح مسلم
3880
رخص في العرية يأخذها أهل البيت بخرصها تمرا يأكلونها رطبا
جامع الترمذي
1302
بيع العرايا بخرصها
سنن أبي داود
3362
رخص في بيع العرايا بالتمر والرطب
سنن النسائى الصغرى
4543
رخص في بيع العرية بخرصها تمرا
سنن النسائى الصغرى
4541
رخص في العرايا بالتمر والرطب
سنن النسائى الصغرى
4540
رخص في العرايا
سنن النسائى الصغرى
4542
رخص في بيع العرايا تباع بخرصها
سنن النسائى الصغرى
4544
رخص في بيع العرايا بالرطب وبالتمر
سنن ابن ماجه
2269
أرخص في بيع العرية بخرصها تمرا
سنن ابن ماجه
2268
رخص في العرايا
المعجم الصغير للطبراني
516
رخص في بيع العرايا بخرصها كيلا
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
498
ارخص لصاحب العرية ان يبيعها بخرصها
بلوغ المرام
712
رخص في العرايا ان تباع بخرصها كيلا
مسندالحميدي
403
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص في بيع العرايا
مسندالحميدي
634
نهى عن بيع الثمر حتى يبدو صلاحه، ونهى عن بيع الثمر بالتمر
مسندالحميدي
689
نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك إلا أنه رخص في العرايا