یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب في بيع العرايا
باب: بیع عرایا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 3362
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِالتَّمْرِ وَالرُّطَبِ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک سے تر کھجور کی بیع کو عرایا میں اجازت دی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3362]
جناب خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد (زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «العَرَايَا» ”عرایا“ کی رخصت عنایت فرمائی، یعنی انسان خشک کھجور کا تازہ سے تبادلہ کر لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/البیوع 31 (4541)، (تحفة الأشراف: 3723، 3705)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 75 (2173)، 82 (2184)، 84 (2188)، المساقاة 17 (2380)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1539)، سنن الترمذی/البیوع 63 (1302)، سنن ابن ماجہ/التجارات 55 (2268)، موطا امام مالک/البیوع 9 (14)، مسند احمد (5/181، 182، 188، 192)، سنن الدارمی/ البیوع 24 (2600) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مثلاً کوئی شخص اپنے باغ کے دو ایک درخت کا پھل کسی مسکین کو دے دے، لیکن دینے کے بعد باربار اس کے آنے جانے سے اسے تکلیف پہنچے تو کہے بھائی اس کا اندازہ لگا کر خشک یا تر کھجوریں ہم سے لے لو، ہر چند کہ یہ مزابنہ ہے لیکن اس میں مسکینوں کا فائدہ ہے اس لئے اسے مزابنہ سے مستثنیٰ کر کے جائز رکھا گیا ہے، اور اسی کو بیع عرایا یعنی عاریت والی بیع کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (4541 وسنده صحيح) ورواه البخاري (2173) ومسلم (1539)
أخرجه النسائي (4541 وسنده صحيح) ورواه البخاري (2173) ومسلم (1539)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2380
| رخص النبي أن تباع العرايا بخرصها تمرا |
صحيح البخاري |
2192
| رخص في العرايا أن تباع بخرصها كيلا |
صحيح البخاري |
2188
| أرخص لصاحب العرية أن يبيعها بخرصها |
صحيح مسلم |
3883
| رخص في بيع العرية بخرصها تمرا |
صحيح مسلم |
3884
| رخص في العرايا أن تباع بخرصها كيلا |
صحيح مسلم |
3879
| رخص لصاحب العرية أن يبيعها بخرصها من التمر |
صحيح مسلم |
3880
| رخص في العرية يأخذها أهل البيت بخرصها تمرا يأكلونها رطبا |
جامع الترمذي |
1302
| بيع العرايا بخرصها |
سنن أبي داود |
3362
| رخص في بيع العرايا بالتمر والرطب |
سنن النسائى الصغرى |
4543
| رخص في بيع العرية بخرصها تمرا |
سنن النسائى الصغرى |
4541
| رخص في العرايا بالتمر والرطب |
سنن النسائى الصغرى |
4540
| رخص في العرايا |
سنن النسائى الصغرى |
4542
| رخص في بيع العرايا تباع بخرصها |
سنن النسائى الصغرى |
4544
| رخص في بيع العرايا بالرطب وبالتمر |
سنن ابن ماجه |
2269
| أرخص في بيع العرية بخرصها تمرا |
سنن ابن ماجه |
2268
| رخص في العرايا |
المعجم الصغير للطبراني |
516
| رخص في بيع العرايا بخرصها كيلا |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
498
| ارخص لصاحب العرية ان يبيعها بخرصها |
بلوغ المرام |
712
| رخص في العرايا ان تباع بخرصها كيلا |
مسندالحميدي |
403
| أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص في بيع العرايا |
مسندالحميدي |
634
| نهى عن بيع الثمر حتى يبدو صلاحه، ونهى عن بيع الثمر بالتمر |
مسندالحميدي |
689
| نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك إلا أنه رخص في العرايا |
Sunan Abi Dawud Hadith 3362 in Urdu
خارجة بن زيد الأنصاري ← زيد بن ثابت الأنصاري