🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما جاء في الدية كم هي من الإبل
باب: دیت میں دئیے جانے والے اونٹوں کی تعداد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1386
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ الْحَجَّاجِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ , وعَنْ خَشْفِ بْنِ مَالِكٍ , قَال: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ , قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرِينَ بِنْتَ مَخَاضٍ , وَعِشْرِينَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورًا , وَعِشْرِينَ بِنْتَ لَبُونٍ , وَعِشْرِينَ جَذَعَةً , وَعِشْرِينَ حِقَّةً ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ , وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ , عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا , إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْقُوفًا , وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا , وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وَقَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّ الدِّيَةَ تُؤْخَذُ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ , فِي كُلِّ سَنَةٍ ثُلُثُ الدِّيَةِ , وَرَأَوْا أَنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ عَلَى الْعَاقِلَةِ , وَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنَّ الْعَاقِلَةَ قَرَابَةُ الرَّجُلِ مِنْ قِبَلِ أَبِيهِ , وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكٍ , وَالشَّافِعِيِّ , وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا الدِّيَةُ عَلَى الرِّجَالِ دُونَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ مِنَ الْعَصَبَةِ , يُحَمَّلُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ رُبُعَ دِينَارٍ , وَقَدْ قَالَ بَعْضُهُمْ: إِلَى نِصْفِ دِينَارٍ , فَإِنْ تَمَّتِ الدِّيَةُ , وَإِلَّا نُظِرَ إِلَى أَقْرَبِ الْقَبَائِلِ مِنْهُمْ فَأُلْزِمُوا ذَلِكَ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: قتل خطا ۱؎ کی دیت ۲؎ بیس بنت مخاض ۳؎، بیس ابن مخاض، بیس بنت لبون ۴؎، بیس جذعہ ۵؎ اور بیس حقہ ۶؎ ہے۔ ہم کو ابوہشام رفاعی نے ابن ابی زائدہ اور ابوخالد احمر سے اور انہوں نے حجاج بن ارطاۃ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں اور عبداللہ بن مسعود سے یہ حدیث موقوف طریقہ سے بھی آئی ہے،
۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے،
۳- بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے،
۴- اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دیت تین سال میں لی جائے گی، ہر سال دیت کا تہائی حصہ لیا جائے گا،
۵- اور ان کا خیال ہے کہ دیت خطا عصبہ پر ہے،
۶- بعض لوگوں کے نزدیک عصبہ وہ ہیں جو باپ کی جانب سے آدمی کے قرابت دار ہوں، مالک اور شافعی کا یہی قول ہے،
۷- بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ عصبہ میں سے جو مرد ہیں انہی پر دیت ہے، عورتوں اور بچوں پر نہیں، ان میں سے ہر آدمی کو چوتھائی دینار کا مکلف بنایا جائے گا،
۸- کچھ لوگ کہتے ہیں: آدھے دینار کا مکلف بنایا جائے گا،
۹- اگر دیت مکمل ہو جائے گی تو ٹھیک ہے ورنہ سب سے قریبی قبیلہ کو دیکھا جائے گا اور ان کو اس کا مکلف بنایا جائے گا۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1386]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الدیات 18 (4545)، سنن النسائی/القسامة 34 (4806)، سنن ابن ماجہ/الدیات 6 (2631)، (تحفة الأشراف: 198)، و مسند احمد (1/450) (ضعیف) (سند میں حجاج بن ارطاة مدلس اور کثیر الوہم ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز خشف بن مالک کی ثقاہت میں بھی بہت کلام ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم: 4020)»
وضاحت: ۱؎: قتل کی تین قسمیں ہیں: ۱- قتل عمد: یعنی جان بوجھ کر ایسے ہتھیار کا استعمال کرنا جن سے عام طور سے قتل واقع ہوتا ہے، اس میں قاتل سے قصاص لیا جاتا ہے، ۲- قتل خطا،: یعنی غلطی سے قتل کا ہو جانا، اوپر کی حدیث میں اسی قتل کی دیت بیان ہوئی ہے۔ ۳- قتل شبہ عمد: یہ وہ قتل ہے جس میں ایسی چیزوں کا استعمال ہوتا ہے جن سے عام طور سے قتل واقع نہیں ہوتا جیسے لاٹھی اور کوڑا وغیرہ، اس میں دیت مغلظہ لی جاتی ہے اور یہ سو اونٹ ہے ان میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔
۲؎: کسی نفس کے قتل یا جسم کے کسی عضو کے ضائع کرنے کے بدلے میں جو مال دیا جاتا ہے اسے دیت کہتے ہیں۔
۳؎: وہ اونٹنی جو ایک سال کی ہو چکی ہو ۴؎، وہ اونٹنی جو دو سال کی ہو چکی ہو۔ ۵؎؎ وہ اونٹ جو چار سال کی ہو چکا ہو ۶؎؎، وہ اونٹ جو تین سال کا ہو چکا ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (2631)
قال الشيخ زبير على زئي:(1386) إسناده ضعيف / د 4545، ن 4806، جه 2631

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحجاج بن أرطاة النخعي، أبو أرطاةصدوق كثير الخطأ والتدليس
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد
Newسليمان بن حيان الجعفري ← الحجاج بن أرطاة النخعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن زكريا الهمداني، أبو سعيد
Newيحيى بن زكريا الهمداني ← سليمان بن حيان الجعفري
ثقة متقن
👤←👥محمد بن يزيد الرفاعي، أبو هشام
Newمحمد بن يزيد الرفاعي ← يحيى بن زكريا الهمداني
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسعود ← محمد بن يزيد الرفاعي
صحابي
👤←👥خشف بن مالك الطائي
Newخشف بن مالك الطائي ← عبد الله بن مسعود
مجهول
👤←👥زيد بن جبير الطائي
Newزيد بن جبير الطائي ← خشف بن مالك الطائي
ثقة
👤←👥الحجاج بن أرطاة النخعي، أبو أرطاة
Newالحجاج بن أرطاة النخعي ← زيد بن جبير الطائي
صدوق كثير الخطأ والتدليس
👤←👥يحيى بن زكريا الهمداني، أبو سعيد
Newيحيى بن زكريا الهمداني ← الحجاج بن أرطاة النخعي
ثقة متقن
👤←👥علي بن سعيد الكندي، أبو الحسن
Newعلي بن سعيد الكندي ← يحيى بن زكريا الهمداني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1386
دية الخطإ عشرين بنت مخاض وعشرين بني مخاض ذكورا وعشرين بنت لبون وعشرين جذعة وعشرين حقة
سنن أبي داود
4545
دية الخطإ عشرون حقة وعشرون جذعة وعشرون بنت مخاض
سنن ابن ماجه
2631
دية الخطإ عشرون حقة وعشرون جذعة وعشرون بنت مخاض وعشرون بنت لبون وعشرون بني مخاض ذكور
سنن النسائى الصغرى
4806
دية الخطإ عشرين بنت مخاض وعشرين ابن مخاض ذكورا وعشرين بنت لبون وعشرين جذعة وعشرين حقة
بلوغ المرام
1010
دية الخطأ أخماسا : عشرون حقة وعشرون جذعة وعشرون بنات مخاض وعشرون بنات لبون وعشرون بني لبون
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1386 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1386
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
قتل کی تین قسمیں ہیں: 1-قتل عمد:
یعنی جان بوجھ کر ایسے ہتھیار کا استعمال کرنا جن سے عام طورسے قتل واقع ہوتا ہے،
اس میں قاتل سے قصاص لیا جاتا ہے،

قتل خطا:
یعنی غلطی سے قتل کا ہوجانا،
اوپر کی حدیث میں اسی قتل کی دیت بیان ہوئی ہے۔

قتل شبہ عمد:
یہ وہ قتل ہے جس میں ایسی چیزوں کا استعمال ہوتا ہے جن سے عام طورسے قتل واقع نہیں ہوتا جیسے لاٹھی اور کوڑا وغیرہ،
اس میں دیتِ مغلظہ لی جاتی ہے اور یہ سو اونٹ ہے ان میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔

2؎:
کسی نفس کے قتل یا جسم کے کسی عضو کے ضائع کرنے کے بدلے میں جو مال دیا جاتا ہے اسے دیت کہتے ہیں۔

3؎:
وہ اونٹنی جو ایک سال کی ہو چکی ہو
4؎:
وہ اونٹنی جو دوسال کی ہو چکی ہو۔

5؎:
وہ اونٹ جو چار سال کا ہوچکا ہو
6؎:
وہ اونٹ جو تین سال کا ہو چکا ہو۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1386]